14 مارچ 2012 - 20:30

افغانستان میں ایک امریکی فوجی کے ہاتھوں سترہ بے گناہ افغاں شہریوں کے قتل عام کے بعد اس ملک کی سینیٹ نے کہا ہے کہ اس امریکی مجرم پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے۔

ابنا: افغانستان کی سینیٹ کے اراکین نے سینیٹ کے سامنے اجتماع کرکے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے جرائم کی مذمت کی اور اس امریکی قاتل کو کیفر کردار تک پہنچائے جانے نیز امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ کیا۔ افغاں سینیٹ کے ارکان نے زور دیکر کہا ہے کہ امریکی مجرم کو افغانستان کے قوانین کے مطابق سزا دی جائے۔

یاد رہے امریکی وزیر جنگ نے گذشتہ روز اچانک افغانستان کا دورہ کرکے نہتے عوام کے قتل عام کے ذمہ دار امریکی فوجی کو افغانستان سے باہر بھجوا دیا ہے۔ امریکی وزیر جنگ کا یہ غیر انسانی اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ کے انسانی حقوق کے دعوے کھوکھلے ہیں اور امریکہ کی نظر میں دیگر قوموں کے حقوق کی ذرہ برابر وقعت نہیں ہے اور افغانستان، پاکستان اور عراق میں اور نام نہاد دہشتگردی سے مقابلے کے بہانے دسیوں ہزار افراد کا قتل عام کسی پر پوشیدہ نہیں ہے۔

قابل ذکر ہے کہ امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے حرمتی کے بعد ایک امریکی فوجی نے اندھا دھند فائرنگ کر کے سترہ افغان شہریوں کا قتل عام کر دیا تھا۔ ادھر امریکی وزارت جنگ پنٹاگون کے ذرائع نے اس شرمناک خبر کا اعلان کیا ہے کہ نہتے افغانیوں کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجی کو افغانستان سے باہر ایک جیل میں منتقل کر دیا گيا ہے۔ پنٹاگون کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ اس امریکی مجرم کو کس جگہ رکھا گيا ہے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ ایک دلیر افغان شہری نے امریکی وزیر جنگ لئون پنیٹا پر حملہ کیا تھا لیکن اس حملے میں امریکی وزیر جنگ کو کوئي نقصان نہیں پہنچا۔ ہمارے نمائندے نے ہلمند صوبے کے حکام کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکی وزیر جنگ پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب ان کا طیارہ ہلمند ایر پورٹ پر اترا تھا۔ .......

/169