اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق نائف بن عبدالعزیز امریکہ پہنچ کر فوری طور پر وزارت جنگ "پینٹاگان" ميں امریکی اور اسرائیلی سیکورٹی حکام کے ساتھ ایک خفیہ اجلاس میں شریک ہوئے۔ یہ اجلاس کئی دن جاری رہنے کی توقع ہے اور اس کا ایجنڈہ ایران کے ایٹمی پروگرام پر بحث کرنا، بتایا گیا ہے جبکہ شام میں دہشت گرد جماعتوں کو امداد پہنچانے کے منصوبے پر بھی بات چیت ہوگی۔
فلسطینی نیوز ویب بیس "المنار" نے لکھا ہے کہ گذشتہ کئی دنوں سے متعدد اسرائیلی سیکورٹی افسران امریکہ میں ہیں اور نائف بن عبدالعزیز بھی ان کے پاس پہنچ گئے ہیں!! نائف بن عبدالعزيز نے امریکہ میں موجود صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی خفیہ ملاقات کی ہے اور ان کی یہ ملاقات دوطرفہ فیصلے کے مطابق ذرائع ابلاغ کی نظروں سے دور رکھی گئی تھی۔ نائف نے اس سے قبل بوڑھے یہودی اسرائیلی صدر شمعون پیرز سے بھی ملاقات کی اور اس ملاقات کو بھی خفیہ رکھا گیا! المنار نے امریکہ میں اپنے ایک معتبر سورس کے حوالے سے لکھا ہے کہ اسرائیلی حکام سعودی عرب کو اپنا تزویری شریک (Strategic Partner) سمجھتے ہیں اور ان کی رائے ہے تل ابیب اور ریاض ایران دشمنی اور شام دشمنی جیسے موضوعات میں ایک ہی مورچے کے دو سپاہی ہیں۔ امریکی سورس نے المنار کو بتایا نائف کے دورہ امریکہ کے کئی اہم مقاصد ہیں جن میں مندرجہ ذیل مقاصد
خاص طور پر قابل ذکر ہیں:1۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مفاہمت کرنا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کاروائی کے لئے قائل کرنا؛2۔ امریکہ اور اسرائيل کو شام میں بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے دہشت گرد ٹولوں کو مالی اور فوجی امداد فراہم کرنے کے لئے آمادہ کرنا اور یوں نائف بن عبدالعزیز اپنے مسلم اور عرب برادر ملک کو نیست و نابود کرنے کے لئے ایک ساتھ یہود و نصاری سے امداد مانگیں گے اور انہیں دہشت گردوں کو ہر قسم کی مدد پہنچانے کے لئے آمادہ کرنا چاہیں گے!3۔ سعودی عرب کے منطقۃ الشرقیہ میں آل سعود کے خلاف عوامی تحریک جاری اور ساری ہے اور یہ تحریک عروج پر ہے چنانچہ امریکی ذریعے نے المنار سے کہا ہے کہ آل سعود کے ولیعہد امریکیوں اور اسرائیلیوں سے درخواست کریں گے کہ دنیا کے اس تحریک کو کچلنے میں آل سعود کی مدد کو آئیں! کیونکہ الشرقیہ کے عوامی انقلاب نے آل سعود کی نیند حرام کردی ہے۔ 4۔ اس رپورٹ کے مطابق نائف نے امریکیوں سے گزارش کی ہے کہ بحرین میں آل سعود کی افواج کے طویل المدت قیام میں آل سعود کو مدد دے اور آل خلیفہ کی حکومت کو ہر قیمت پر بحال رکھیں اور اس کو تحفظ فراہم کریں اور حکومت شام کا تختہ الٹنے کے لئے زيادہ سے زيادہ کوشش کریں۔امریکی ذریعے نے المنار کو بتایا کہ قطر کے وزيراعظم و وزيرخارجہ حمد بن جاسم بن جبر آل ثانی نے حال ہی میں دو اعلی امریکی اہلکاروں کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر سرزمین شام میں ایک نو فلائی زون قائم کریں اور عرب افواج کواس علاقے میں تعینات کریں اور نہر سوئز سے ایران کے جنگی بحری جہازوں کے لئے بند کردیں کیونکہ ان کے بقول یہ جہاز شام کے لئے ہتھیار لے جارہے ہیں۔
واضح رہے کہ آل ثانی اور آل سعود نے ایسے حال میں امریکہ سے شام پر ہلہ بولنے کی پرزور درخواست کی ہے کہ امریکہ نے شام پر فوجی حملہ کرنے کا امکان ہی مسترد کیا ہے اور امریکی ماہرین نے کہا ہے کہ شام کے ہتھیار امریکی فضائیہ اور بحریہ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ وہ ابھی 2006 کی 33 روز جنگ میں اسرائیل کی ناک رگڑے جانے کے واقعے کو نہیں بھول سکے ہیں۔اطلاعات کے مطابق شام اور ایران کے خلاف امریکی دھمکیوں میں نرمی کے ساتھ ہی آل سعود اور آل ثانی بری طرح تشویش میں مبتلا ہیں کیونکہ ان کو کم از کم اپنے کرتوتوں کا پتہ ہے اور شام اور ایران بھی ان کے کرتوتوں سے نا واقف نہیں ہیں۔.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں شیعہ باشندوں کی گرفتاریوں میں زبردست اضافہ / اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون