8 مارچ 2012 - 09:55

ہندوستانی آزاد صحافی محمد احمد کاظمی کو اسرائیل کے خلاف مضامین کی اشاعت کے بعدگرفتار کرلیاگیا۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق مقامی پولیس نے نئی دہلی میں اسرائیلی سفارتخانے کی کار پر ہونے والے ایک مشکوک بم حملے میں تعاون کرنے کے الزام کے تحت گرفتار کرکے ان کا 20 روزہ ریمانڈ لے لیا ہے۔ تین ہفتے قبل یعنی 13 فروری کو صہیونی سفارت خانہ کی کار پر اس مشکوک بم حملے کے فورا بعد صہیونی حکام نے ایران اور حزب اللہ کو ملوث قرار دینے کی کوشش کی تھی تاہم حزب اللہ اور ایران کی جانب سے اس واقعے میں ملوث ہونے کے الزام کی سختی سے تردید کردی گئی تھی۔ مبصرین کے بقول ہندوستان کے پیشہ ور صحافی محمد احمد کاظمی کی گرفتاری کی وجہ کو، اسرائیل سفارتخانے کی کار پر مشکوک بم حملے سے زیادہ ان کے حالیہ دورے شام کے تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ جہاں سے وہ کچھ ہندوستانی صحافیوں کے ساتھ حال میں دورہ کرکے واپس لوٹے ہیں۔شام کے دورے سے واپسی پر محمد احمد کاظمی نے اپنے مضامین میں شام کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی سازشوں کا پردہ چاک کرکے لوگوں آگاہ کرنے کی کوشش کی ہے۔

ہندوستان نے ایران کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی پابندیوں کو نظر انداز کرکے ایران سے تیل خریدنے کی بابت جو دو ٹوک موقف اختیار کیا تھا اس کے پیش نظر محمد احمد کاظمی کی گرفتاری تہران دہلی تعلقات میں رخنہ ڈالنے کی ایک نہایت ہی بیہودہ کوشش تصور کی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صہیونی ریاست مبینہ مشکوک حملہ کے بعد سے ہی ہندوستان پرمختلف طریقوں سے ایران کا نام لینے کے لئے دباؤ ڈال رہی تھی، البتہ ہندوستان کی مرکزی حکومت سے یہ بعید کہ وہ ایسی اوچھی حرکت کرے کہ جس سے اس کے کردار پرحرف آئے۔ محمد احمد کاظمی جو میڈیااسٹارنیوز سے موسوم ایک ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹرہیں اور مقامی خبری ذرائع کے لئے عراق اور کویت سمیت کئي ممالک میں رپورٹنگ کرچکے ہیں، اسلامی جمہوریہ ایران کے عالمی نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔شام کے خلاف جنگ ناممکن کے زیر عنوان اپنے ایک طویل مضمون میں محمد احمد کاظمی نے لکھا ہے: ایسی حالت میں جبکہ امریکہ اور اسرائیل مصر میں حسنی مبارک ، تیونیشیا میں زین العابدین اور لیبیا میں قذافی جیسی حکومتوں کے خاتمہ کے بعد کمزور ہوئے ہیں اور امریکہ اور یورپ میں مالی بحران جاری ہے' ایک نئی جنگ شروع کرنا ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ امریکہ اور یوروپی حکومتیں عرب حکمرانوں کو ہتھیار فروخت کر کے اور ایران کے خلاف ماحول تیار کر کے خطے میں مسلکی بنیادوں پر جنگ کی تیاری کر رہے ہیں لیکن خطے کی حکومتیں حقیقی جنگ کے لئے تیار ہوجائیں گی اس پر مجھے اب بھی شک ہے۔

شام میں بحران کے شروع سے ہی قطر سے نشر ہونے والا الجزیرہ اور دبئی سے نشر ہونے والا العربیہ ٹی وی چینل حالات کو مزید پیچیدہ کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بی بی سی اور سی این این بھی شام کے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہے ہیں۔ ملک میں کئی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی بھی مقام پر جنگ جیسی صورتحال دکھانے والے ان چینلوں کو مقامی شہریوں نے فون کرکے بتایا ہے کہ وہ اسی مقام پر ہیں اور وہاں کوئی بھی ایسا واقعہ نہیں ہوا ہے۔

کچھ ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ عراق کی ویڈیو دکھا کر اس واقعہ کو شام میں بتادیا گیا ہے۔ شام نے ہمیشہ مظلوم فلسطینی عوام کی، اسرائیل مخالف جدوجہد کی حمایت کی ہے۔ حزب اللہ اور حماس سے شام کے اچھے رشتے رہے ہیں۔امریکہ اسرائیل اور ان کے عرب اتحادی شام کی حکومت کو برطرف کرکے ایران کو تنہا اور حزب اللہ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ سعودی عرب قطر اور خلیج فارس تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک امریکہ' اسرائیل اور یورپی ممالک کی شام مخالف تحریک کی حمایت کر رہے ہیں۔میرا تجزیہ یہ بھی ہے کہ شام اور ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی ناکامی یقینی ہے۔

بشار الاسد حکومت تنہا نہیں ہے اور اس کے اتحادی خطے کی بڑی طاقت ایران اور حزب اللہ ہیں جن سے' اب سے پہلے کے تجربات کی روشنی میں' ٹکرانے کی ہمت امریکہ اور اسرائیل نہیں کر پا رہے ہیں۔ شام کے تعلق سے محمد احمد کاظمی کے حقیقت پسندانہ تجزیوں کی بابت تنبیہ کرنے کے لئے صہیونی ریاستکے پاس 13 فروری کا مشکوک واقعہ ایک مناسب بہانہ یا یوں کہئیے کہ اوچھا ہتکنڈا تھا کہ جس کے ذریعے محمد احمد کاظمی جیسے فرض شناس اور پیشہ ور صحاف کو پابند سلاسل کردیا گیا ۔لیکن نہ تو ماضی میں اس قسم کے اوچھے اور مذموم ہتکنڈے حقائق کو چھپا سکے ہیں نہ آئندہ، اور محمد احمد کاظمی بہت جلد رہائی پاکر حقائق کو مزید برملا کردیں گے۔

 .......

/169