7 مارچ 2012 - 20:30

ہندوستان اور امریکہ کی بّری افواج کی مشترکہ مشقوں سے سکیورٹی اور فوجی تعاون فروغ دینے کیلئے دونوں ملکوں کی کوششوں کی نشاندہی ہوتی ہے۔

ابنا: ہندوستان کی وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دو ہفتوں کی ان مشترکہ فوجی مشقوں کا مقصد جو کل راجستھان کے بیابانی علاقے میں شروع ہوئی ہیں شہری علاقوں میں جنگ اور دہشت گردی کے خلاف کاروائی کیلئے فریقین کی افواج کی توانائی بڑھانا ہے۔ ان فوجی مشقوں میں امریکہ کی نمائندگی 25 ویں انفینٹری ڈویژن کررہی ہے جبکہ ہندوستان کی جانب سے جموں و کشمیر رائفلس اینڈ میکانائزڈ انفینٹری ان فوجی مشقوں کا حصہ بنی ہے۔

یہ فوجی مشقیں ایسی حالت میں شروع ہوئی ہیں کہ ہندوستان میں امریکی سفارت خانے کی تردید کے باوجود پینٹاگون کے ایک سینئر کمانڈر نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان سمیت ایشیاء کے پانچ ملکوں میں امریکی فوجیں موجود ہیں۔ جنرل رابرٹ ویلرڈ کے بقول ہندوستان میں دہشت گردی کے خلاف مہم میں اس ملک کے ساتھہ تعاون کی غرض سے امریکہ کے خصوصی فوجی دستے موجود ہیں جبکہ نیپال۔ بنگلہ دیش ۔ سری لنکا ۔ اور مالدیپ میں بھی امریکی اسپیشل فوج کی کمپنیاں تعینات ہیں۔

سیاسی مبصرین کے نقطۂ نظر سے ہندوستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقیں کئی زاویوں سے غور طلب ہیں۔ اولا یہ کہ نئی دہلی ان فوجی مشقوں کے ذریعے امریکہ کو جدید فوجی آلات اور نئی ٹیکنالوجی ہندوستان منتقل کرنے کی ترغیب دلانا چاہتا ہے۔ اور ثانیا یہ کہ وہ امریکہ کو اس بات کا یقین دلانے کی کوشش کررہا ہے کہ نئی دہلی،ماسکو اور واشنگٹن کے ساتھہ فوجی تعلقات میں توازن پیدا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ جوہری تعاون کی توسیع کیلئے بھی امریکہ کی رضا مندی حاصل کی جاسکے۔ دریں اثنا امریکہ بھی ہندوستان کے ساتھہ سکیورٹی اور فوجی تعاون کے فروغ میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ ہندوستان کی اہم منڈیوں کا کچھہ حصہ روس کے کنٹرول سے باہر نکالا جاسکے۔

اس کے علاوہ امریکہ، ہندوستان کو اس لئے فوجی لحاظ سے مستحکم کرنا چاہتا ہے تاکہ اس ملک کو اس کے ایٹمی پڑوسی ملک چین کے مقابلے میں لا کھڑا کیا جاسکے۔ سیاسی مبصرین کی نگاہ میں راجستھان کے بیابانی علاقے میں ہندوستان اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں میں جموں و کشمیر رائفلس اینڈ میکانائزڈ انفینٹری کے حصہ لینے میں ایک اہم مقصد کار فرما ہے ہندوستان جو کشمیری گروہوں کی سرگرمیوں کو دہشت گردانہ قرار دیتا ہے ان گروہوں کا مقابلہ کرنے کیلئے امریکہ کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اس سے قبل ہندوستان کی حکومت اس سلسلے میں صہیونی ریاست کے ساتھہ بھی اپنا سکیورٹی تعاون بڑھا چکی ہے۔ چنانچے ہندوستان کا فوجی پروگرام، جو امریکہ اور صہیونی ریاست کے ساتھہ جوہری۔ فوجی۔

اور سکیورٹی تعاون کی توسیع کے دائرے میں آگے بڑھایا جارہا ہےجنوبی ایشیاء کے علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ میں شّدت پیدا کرنے کے ساتھہ ساتھہ بیجنگ اور نئی دہلی کے درمیان بدگمانی کا ماحول اور زیادہ سازگار بنائے گا اور یہ امریکہ کی ایک ایسی پالیسی ہے کہ جس کے نفاذ کے ذریعے وہ ایشیائی ملکوں کے درمیان ہتھیاروں کی دوڑ کے علاوہ تعاون کے فروغ کی روک تھام کے ساتھہ ساتھہ کسی بھی قسم کے طاقتور ایشیائی بلاک کے قیام کی بھی روک تھام کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

.......

/169