6 مارچ 2012 - 20:30

اسلام آباد میں اٹلی کے نمائندہ خصوصی کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔

ابنا: وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ہم نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کو کبھی بھی ایران کے خلاف استعمال نہیں کرنے دے گا کیونکہ اس سے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لئے پاکستان دوسرے ممالک سے مل کر کام کرتا رہے گا۔ عالمی برادری دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے۔ افغانستان اور پاکستان کے حوالے سے اٹلی کے نمائندہ خصوصی فرانسیکوٹالو نے گذشتہ روز دفتر خارجہ میں وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ملاقات کی۔ جس میں افغانستان کے حوالے سے ہونے والی حالیہ پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیر خارجہ نے افغانستان میں ہونے والے مذاکراتی عمل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغان حکومت کی سربراہی اور سرپرستی میں ہونے والے امن و مفاہمت کے عمل کی مکمل حمایت کرتا ہے، پُرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں، بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ صدر کرزئی نے پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے، تاہم طالبان سے تعلقات کے حوالے سے ہم نے ان کے پیچھے چلنے کا اعلان کیا ہے۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں 48 ممالک کے لئے مشکلات پیدا نہیں کر سکتے، لیکن نیٹو سپلائی کا فیصلہ پارلیمنٹ ہی کرے گی جبکہ پاکستان امریکہ تعلقات کے حوالے سے حنا ربانی کھر نے کہا کہ امریکہ سپر پاور ہے جس سے برابری کی سطح پر تعلقات چاہتے ہیں۔ تاہم سلالہ کے افسوس ناک واقعہ کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے بھی تعلقات میں ٹھہراﺅ کے بعد اب دوبارہ پیش رفت ہوئی ہے، جس کی وجہ پاکستان ہمسایہ ممالک سے بہتر تعلقات چاہتا ہے تاکہ شہریوں کی خوشحالی اور ملکی ترقی ان کا مقدر بن سکے۔

 اٹلی کے نمائندہ خصوصی نے وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کو اٹلی کے دورے کی دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کو اپنا شراکت دار سمجھتا ہے اور دہشتگردی کے خلاف اس کی قربانیوں کو مکمل طور پر تسلیم کرتا ہے۔

.......

/169