ابنا: ایران کے خلاف مغرب کی دھمکیوں اور پابندیوں کے موقع پر ہندوستان کی برآمداتی تنظیموں کی فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ 10/ سے 14/ مارچ کے دوران ہندوستانی ماہرین کا ایک وفد ایران کا دورہ کریگا۔ ہندوستان کی برآمداتی تنظیموں کی فیڈریشن کے ترجمان آنند سیٹھہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے برآمد کنندگان نے ڈالرز میں سودے کرنے پر ایران کے خلاف عائد پابندیوں کے پیش نظر تہران سے کرنسی کے حصول کے طریقۂ کار کا مسئلہ حل کرلیا ہے۔
اس وقت ہندوستان کی نئی ترقی و توانائی کے وزیر فاروق عبد اللہ ایران کے دورے پر ہیں جو نئی توانائی کے شعبے میں ایران کی جدید ترین تنصیبات منجملہ جنوبی ایران کے شہر شیراز کے شمسی توانائی سے چلنے والے بجلی گھر کا معائنہ کرتے ہوئے ایرانی حکام سے دو طرفہ تعاون کے فروغ کے طریقوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کریں گے۔ ہندوستان کے اس وزیر نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد سے گفتگو کرتے ہوئے صراحت کے ساتھہ کہا ہے کہ ان کے ملک کی حکومت، ایران کے ساتھہ اقتصادی۔ تجارتی ۔ اور ثقافتی شعبوں میں تعاون کی توسیع کی خواہاں ہے۔
ایران کے وزیربجلی مجید نامجو نے بھی فاروق عبد اللہ کے ساتھہ گفتگو کے بعد شمسی توانائی کے بجلی گھروں کی تعمیر کیلئے ایران اور ہندوستان کی شراکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر ہندوستان کو بجلی سپلائی کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے ایران سے پانچ ہزار میگا واٹ بجلی درآمد کرنے کیلئے ہندوستان کی درخواست کے بارے میں کہا ہے کہ ہندوستان نے ایران سے بجلی درآمد کرنے کیلئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
مجید نامجو کے بقول پاکستان کی سرحد پر نئے بجلی گھر کی تعمیر کے ساتھہ ہی ہندوستان کیلئے بجلی کی منتقلی و فروخت کے سلسلے میں مذاکرات کا مسئلہ ایران کی بجلی کی وزارت کے ایجنڈے میں شامل ہوگیا ہے۔ ایسی حالت میں کہ امریکہ اور مغربی ممالک ایران کے بائیکاٹ کیلئے روز نئے نئے طریقے اور ہتھکنڈے استعمال کررہے ہیں خاص طور سے توانائی کے شعبے میں ایران اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کا فروغ اسلامی جمہوریہ ایران کو الگ تھلگ کرنے میں مغرب کی ناکامی کا ترجمان ہے جس سے علاقے میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اوربھرپورموجودگی کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ ایران ہندوستان کو تیل برآمد کرنے والا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جو خام تیل سے متعلق اس ملک کی لگ بھگ 12 فیصد ضروریات پوری کرتا ہے۔
ایران کے ساتھہ تجارتی تعلقات اور اس سے تیل کی درآمدات منقطع کرنے کیلئے ہندوستان پر بڑھتے ہوئے امریکی دباؤ کے باوجود نئی دہلی کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ ان کے ملک کو ایران کے تیل کی ضرورت ہے اور ہندوستان ایران کے خلاف عائد پابندیوں پرعمل نہیں کریگا۔ ہندوستان کے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے گذشتہ مہینے اپنے دورۂ امریکہ میں ہندوستان کو تیل درامد کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک قرار دیا اور تاکید کے ساتھہ کہا کہ ان کا ملک ایران سے تیل کی درآمدات منقطع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔تہران اور نئی دہلی کے درمیان تعاون کے میّسر ہونے والے مواقع کے پیش نظر ہندوستان کے وزیر تجارت نے بھی اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک تجارتی مسائل و مواقع کا جائزہ لینے کیلئے ایک وفد ایران روانہ کریگا۔
ایران میں اقتصادی تعاون کی وسیع توانائی و گنجائش پائی جاتی ہے۔ ایران کی وسیع توانائی و گنجائش اور ذخائر پر بعض ابھرتی ہوئی اقتصادی طاقتوں منجملہ ہندوستان کی بڑھتی ہوئی توجہ اور رجحان کے پیش نظر دیگر ملکوں کے ساتھہ ایران کے علاقائی و بین الاقوامی تعاون کیلئے نئی راہ ہموار ہوگئی ہے۔ اس تعاون کے فروغ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ ایران کے بائیکاٹ نے صرف ان مغربی ملکوں کو ایران کے مختلف شعبوں منجملہ تجارتی۔ توانائی۔ اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں پیدا ہونے والے مواقع سے محروم کیا ہے جو ایران کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔
.......
/169