4 مارچ 2012 - 20:30

دعوے کرنے کے لئے کسی زحمت و تکلیف کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن دعؤوں سے شیعہ بننا ممکن نہیں ہے بلکہ شیعہ بننے کے لئے اپنے آپ کو فنا کرنا پڑتا ہے، گناہوں اور نافرمانیوں سے دوری کرنی پڑتی ہے ایثار و قربانی دینی پڑتی ہے۔

ایک شخص متعدد نیک صفات کا مالک تھا اور اس سے کئی کرامات بھی ظاہر ہوئی تھیں لیکن امام علیہ السلام نے اس کے تشیع کے دعوے کو مسترد کیا اور فرمایا: "یا عبدالله لست من شیعه علی(ع)، انما انت من محبیه إنما شيعة علي عليه السلام الذين قال عزوجل فيهم: "وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ أُولَـئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ". (بقره – 82) هم الذين آمنوا بالله ووصفوه بصفاته، ونزهوه عن خلاف صفاته، وصدقوا محمدا في أقواله، وصوبوه في كل أفعاله، ورأوا عليا بعده سيدا إماما، وقرما هماما لا يعدله من امة محمد أحد، ولا كلهم إذا اجتمعوا في كفة يوزنون بوزنه، بل يرجح عليهم كما ترجح السماء والارض على الذرة. وشيعة علي عليه السلام هم الذين لا يبالون في سبيل الله أوقع الموت عليهم، أو وقعوا على الموت. وشيعة علي عليه السلام هم الذين يؤثرون إخوانهم على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة"۔

(تفسیر الامام الحسن العسکری علیہ السلام ص319)

اے بندہ خدا! تم علی بن ابی طالب (ع) کے شیعوں میں سے نہیں ہو بلکہ آپ (ص) کے دوست ہو۔ [گویا اس شخص نے دوستی کی تمام شرطیں پوری کی تھیں جو امام باقر علیہ السلام کی مذکورہ بالا حدیث میں مذکور ہیں چنانچہ دوستوں کے زمرے میں قرار پایا]، بےشک شیعیان علی وہی ہیں جن کی شان میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے: اور جو ایمان لائیں اور اچھے اعمال بجا لائیں تو یہ لوگ بہشت والے ہیں جو کہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

شیعیان علی وہ ہیں جو  خدا پر ایمان کامل رکھتے ہیں اور اس کو ایسے اوصاف سے موصوف کرتے ہیں جو اللہ تعالی نے خود بیان فرمائے ہیں اور اللہ تعالی کو ان اوصاف سے پاک و منزہ سمجھتے ہیں جو اللہ کے بیان کردہ اوصاف کے سوا ہیں؛ وہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام ارشادات و فرامین کی تصدیق کرتے ہیں اور آپ (ص) کے تمام افعال و اعمال کو درست اور "صواب" سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ علی (ع) رسول اللہ (ص) کے بعد سب کے سید و امام و پیشوا ہیں اور ایسی ہستی ہیں جن کا امت محمد (ص) میں کوئی برابر و ہمتا نہیں ہے؛ بلکہ اگر پوری امت کو ترازو کے ایک پلڑے میں رکھیں اور علی (ع) کو دوسرے پلڑے میں قرار دیں علی (ع) والے پلڑے کو پوری امت پر بھاری سمجھتے ہیں؛ اور ترجیح دیتے ہیں ایک بے مقدار ذرے کے مقابلے میں پورے آسمان و زمین کے بھاری پن کی مانند۔ اور شیعیان علی علیہ السلام وہ ہیں جن کو اللہ کی راہ میں کوئی پروا نہیں ہے کہ موت ان پر آ پڑے یا وہ موت پر جا پڑیں۔ اور شیعیان علی علیہ السلام وہ ہیں جو اپنے بھائیوں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں اگرچہ وہ خود تنگ دست ہی کیوں نہ ہوں"۔

اور ہاں بے ادبی

19۔ شیعہ بے ادب بھی نہیں ہوتا

شیعیان علی کہلانے والے امام علی علیہ السلام سے منسوب کئے جاتے ہیں اور علی علیہ السلام کا ادب دیکھ کر ہمارے لئے محاسبے کی ایک اور راستہ کھل جاتا ہے اور وہ یہ کہ امام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام شرک خدا کی بات خدا کے بغیر کسی اور سے کرنے کو بے ادبی قرار دیتے ہيں اور بے ادبی ایک نہایت ظریف قسم کی وضاحت بھی کرتے ہیں؛ حدیث دیکھئے:

حضرت امیر علیہ السلام کے ایک صحابی "نوف البکالی" کہتے ہیں: "رَاَيْتُ أميرَ المُؤمِنينَ عليه‏السلام مُوَلِّيا مُبادِرا ، فَقُلْتُ : اَيْنَ تُريدُ يا مَولاىَ؟ فَقالَ : دَعنى يا نَوفُ ، اِنَّ آمالى تُقَدِّمُنى فِى المَحبوبِ. فَقُلتُ : يا مَولاىَ وَ ما آمالُكَ؟ قالَ : قَدْ عَلِمَهَا الْمَأمولُ وَ اسْتَغنَيتُ عَنْ تَبيينِها لِغَيْرِهِ ، وَكَفى بِالْعَبْدِ اَدَبا اَلاّ يُشْرِكَ فى نِعَمِهِ و اِرْبِهِ غَيْرَ رَبِّهِ"۔

(بحار الانوار ج91 ص 94 - عبدالواحد بن محمد بن عبدالواحد الآمدی التمیمی ۔ غرر الحكم، ح 10599)۔

میں نے امیرالمؤمنین علیہ السلام کو تیز تیز قدم اٹھا کر چلتے ہوئے دیکھا اور عرض کیا: میرے مولا! کہاں جارہے ہیں؟

فرمایا: میری آرزوئیں مجھے اپنے محبوب کی طرف لے جارہی ہیں۔

میں نے عرض کیا: مولائے من! آپ کی آرزوئیں کیا ہیں؟

جس کی آرزو ہے وہ خود جانتا ہے کہ میری آرزوئیں کیا ہیں۔ اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ میں وہ آرزوئیں اس کے سوا کسی اور کو بتاؤں۔ بندے کے لئے اتنا ہی ادب کافی ہے کہ وہ اپنی نعمتوں میں اور اپنی ضروریات و احتیاجات میں اپنے پروردگار کے سوا کسی اور کو شریک نہ کرے۔

نکتہ یہ ہے کہ میرے اور آپ کے امیر اور امام ادب کا اتنا لحاظ رکھتے ہیں چنانچہ سوال اٹھتا ہے کہ "اگر محبوب کی بات محبوب سے کرنا ادب ہے اور وہی بات غیر محبوب سے کرنا بے ادبی ہے تو ہمارے رویئے کیا ہیں؟ کیا ہم اخلاق و آداب اور اجتماعی رویوں اور خدا کی بندگی کے علوی کسوٹی پر اتر سکتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیعہ شرک سے دوری کرتا ہے

"شرک" کیا ہے؟ مشرک کون ہے؟ شرک یہ ہے کہ کوئی اللہ تعالی کی ذات یا صفات خاصہ میں کسی کو شریک قرار دے، قدیم، قادر، مطلق، حی، مرید، مدرک متکلم، عالم، خدا کی صفات ثبوتیہ ہیں جن میں کوئی بھی شریک نہیں ہے اور اگر اور خدا خالق و مالک ہے اب کسی اور کو ان صفات سے بلا قید، متصف سمجھا جائے تو یہ شرک ہے۔ اور اگر کوئی اللہ کے سوا کسی اور کے سامنے سجدہ ریز ہوجائے تو وہ شرک میں مبتلا ہے۔

شیعہ اعتقاد کے مطابق اللہ تعالی "لا مؤثر في الوجود إلا الله سبحانه"، عالم وجود میں اللہ سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی بھی مؤثر نہیں ہے اور اللہ کے سوا جتنے بھی انبیاء اور اولیاء اور اقطاب و علماء و عرفاء یا عام انسان یا دیگر موجودات بھی ہیں وہ سب اللہ تعالی کی مخلوق ہیں چنانچہ ان کو وجود میں مؤثر سمجھنا شرک ہے اور کہیں کوئی نبی یا کوئی ولی کوئی معجزہ دکھاتا یا کائنات میں کوئی تصرف کرتا نظر آئے تو جان لینا چاہئے کہ اس کو تصرف کا یہ حق اور یہ اختیار اللہ تعالی نے عطا فرمایا ہے اور یہ تصرف ان کا ذاتی نہیں ہے۔

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے تابعدار اسی لئے ہیں کہ وہ "اللہ تعالی کے خاص بندے ہیں" اور ان کا اعتبار اللہ تعالی کی ذات سے براہ راست وابستگی کی بنا پر ہے؛ اب اگر ہم ان کی مدح سرائی میں حد سے بڑھ جائیں. متقی ہندی علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا: "عن علي قال : يهلك في رجلان : محب مُفرِط ، و مبغض مُفَرِّط"۔ (1) دو آدمی میری وجہ سے نابود ہوجائیں گے: وہ جو میری محبت میں غُلُو کا ارتکاب کرے گا اور وہ جو میری دشمنی میں زیادہ روی کرے گا۔ اور نہج البلاغہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: هَلَكَ فِيَّ رَجُلَانِ مُحِبٌّ غَالٍ وَ مُبْغِضٌ قَالٍ (2) میری وجہ سے دو لوگ نابود ہوجائیں گے وہ جو میری محبت میں غلو کریں گے (اور مجھے اپنے درجے سے بڑھا کر (معاذاللہ) الوہیت کے قائل ہوں گے) اور وہ جو میری مخالفت میں بغض اور دشمنی کی انتہا تک پہنچیں گے۔