ابنا: لیبرمین کے ترجمان تزاشی موشے نے بھی کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ یا کسی بھی دوسرے بین الاقوامی ادارے کے توسط سے شام میں مسلح افراد کے لیے مدد ارسال کر سکتا ہے۔شام میں مسلح افراد اور بلوائیوں نے مارچ دو ہزار گيارہ سے بعض مغربی اور عرب حکومتوں اور صہیونی ریاست کی حمایت سے دہشت گردی کا بازار گرم کر رکھا ہے اور اب تک وہ اس ملک کے بہت سے فوجیوں اور عام شہریوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنا چکے ہیں۔
صہیونی ریاست نے ایک ایسے وقت میں شام میں مسلح افراد اور بلوائیوں کو مزید مدد بھیجنے پر آمادگي کا اعلان کیا ہے کہ جب شام کی عبوری کونسل کے نام سے موسوم شام کی حکومت کے مخالفین کی یہ سازش بھی منظرعام پر آئی ہے کہ اس نام نہاد عبوری کونسل نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر وہ برسراقتدار آ گئی تو صہیونی ریاست کے ساتھ سازباز معاہدہ کرے گي۔
اسرائیل کی پارلیمنٹ میں لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے نمائندے اسحاق ہرتزوگ نے بھی شام کے مخالف گروہوں کی حمایت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اسحاق ہرتزوگ نے صہیونی ریاست کے ساتھ شامی حکومت کے مخالفین کی نام نہاد عبوری کونسل کے سربراہ برہان غلیون کے رابطے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کونسل کے بعض افراد نے ان سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ امن چاہتے ہیں۔ اسحاق ہرتزوگ نے مزید کہا کہ جو لوگ اسرائیل کے ساتھ امن چاہتے ہیں، سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ان کے نام نہیں بتائے جا سکتے۔
صہیونی ریاست کے ساتھ شام کے مخالفین کے رابطوں سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ شام میں بدامنی اور دہشت گردی پھیلانے والے غیرملکی ایجنٹ ہیں اور وہ بیرونی اشارے اور امداد پر شام کے حالات خراب کر رہے ہیں۔
شام کے اسٹریٹجک امور کے ماہر سلیم حربا نے صہیونی ریاست اور مغربی حکومتوں کی شام کے خلاف سازشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج کی بابا عمرو میں کارروائی کے دوران گرفتار ہونے والے خیلج فارس کے ملکوں، عراق، لبنان، افغانستان، ترکی اور فرانس سے تعلق رکھنے والے افراد کی مغربی ممالک اور صہیونی رہنمائی کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں قطر میں ایک ہم آہنگي دفتر بھی قائم کیا گيا ہے کہ جو امریکی جاسوسی تنظیم سی آئی اے، اسرائیل کی جاسوسی تنظیم موساد اور شام کے مخالفین کی عبوری کونسل کے افراد کی نگرانی میں کام کر رہا ہے۔ سلیم حربا نے کہا کہ قطر نے بھی شام میں مسلح افراد اور دہشت گرد گروہوں کو مسلح کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی اسلحہ ساز کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیے ہیں۔
ان سب باتوں نے ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کر دیا ہے کہ شام کو امریکہ اور صہیونی ریاست کی وسیع پیمانے پر سازشوں کا سامنا ہے۔
صہیونی ریاست شام میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کر کے اور اس ملک کو خانہ جنگي کی جانب دھکیل کر شام کے عوام اور حکام کو جولان کی پہاڑیوں پر صہیونی ریاست کے قبضے سے صرف نظر کرنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔
عالمی میدان میں شام کے آزاد و خودمختار موقف اور صہیونی ریاست کی توسیع پسندی کے سامنے مزاحمت اور مغرب کی تسلط پسندانہ پالیسیوں کے مقابل شام کی استقامت و پائیداری کے باعث شام ہمیشہ امریکہ یورپی حکومتوں اور صہیونی ریاست کی مشترکہ سازشوں کا شکار رہا ہے۔
شام کے خلاف ان تمام تر سازشوں اور غیرملکی ایجنٹوں اور دہشت گردوں کے فتنوں کے باوجود شام کے عوام اور حکام آزاد اور صہیونیت مخالف پالیسیوں کو جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔............ /169