ابنا: یونیسیف نے اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ دو ہزار گيارہ سے فلسطینی علاقوں پر صہیونی فوجیوں کے حملوں میں انیس فلسطینی بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں چار سو تین بچے زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب اس وقت ایک سو چونسٹھ فلسطینی بچے صہیونی ریاست کی جیلوں میں قید ہیں جو صہیونی فوجیوں کے ظلم و تشدد کا شکار ہیں۔شائع شدہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ایک دہائی کے دوران ڈیڑھ ہزار سے زائد فلسطینی بچے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور آٹھ ہزار سے زائد فلسطینی بچے بھی ایک عرصے صہیونی ریاست کی جیلوں میں قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔
اسی طرح فلسطینیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیے صہیونی ریاست کی پالیسیوں کی وجہ سے آٹھ لاکھ سے زائد فلسطینی بچے غذائی قلت اور غربت کا شکار ہیں اور ہزاروں فلسطینی بچے اپنی یا اپنے گھر والوں کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے کام کرنے پر مجبور ہیں۔
مختلف بین الاقوامی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق صہیونی ریاست دنیا میں وہ واحد حکومت ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو گرفتار کرتی ہے اور انہیں جیلوں میں مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔بہرحال فلسطینی بچوں کی گرفتاری صہیونی ریاست کا روزمرہ کا کام اور صہیونی حکام کی ثقافت کا ایک حصہ ہے اور کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا ہے کہ جب صہیونی ریاست کے ہاتھوں فلسطینی بچوں کی گرفتاری اور ان پر تشدد کرنے کی خبر نہ ملتی ہو۔
قدس کی غاصب ریاست کا بچوں کے ساتھ تشدد آمیز رویہ بین الاقوامی قوانین خاص طور پر بچوں کے حقوق کے کنونشن کی شق سولہ کی خلاف ورزی ہے۔ اس شق کے تحت بچوں کے ساتھ تشدد آمیز سلوک پر پابندی ہے۔فلسطینی بچوں کے خلاف صہیونی ریاست کے وحشیانہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ناجائز حکومت اپنے ظلم اور جارحیت میں کسی بھی حدود و قیود کی قائل نہیں ہے اور مغربی ملکوں کی جانب سے صہیونی ریاست کی حمایت نے اسے اپنے انسانیت سوز اقدامات کو جاری رکھنے کے سلسلے میں مزید گستاخ اور جری کر دیا ہے۔
صہیونی ریاست نے فلسطینیوں کی نسل کو ختم کرنے کے سلسلے میں اپنی نسل پرستانہ پالیسی کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی کو اپنی ترجیحات میں شامل کر رکھا ہے اور ساتھ ہی ساتھ صہیونی ریاست رعب و وحشت پیدا کر کے فلسطینی نوجوانوں کو مزاحمت جاری رکھنے سے روکنا چاہتی ہے۔
صہیونی ریاست کے ان مظالم پر اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی خاموشی کے سبب یہ نسل پرست حکومت فلسطینیوں کے خلاف اپنے انسانیت سوز اقدامات جاری رکھے ہوئے ہیں اور انسانی حقوق کی حمایت کے نام نہاد دعویدار اس پر چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ .......
/169