2 مارچ 2012 - 20:30

افغانستان کے علماء نے صدر حامد کرزئی سے ملاقات میں بگرام ایئربیس میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن کریم کی بے حرمتی کے اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوۓ غیر ملکی جیلوں کی بندش اور ان کا انتظام حکومت کابل کی تحویل میں دیۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ابنا: علماء نے تاکید کی ہے کہ امریکی فوجیوں کا یہ گھناؤنا اقدام ناقابل معافی ہے اور اس میں ملوث عناصر پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلا کر انھیں جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہۓ۔ علماۓ افغانستان کونسل کے سربراہ مولوی قیام الدین نے تاکید کی ہے کہ امریکہ اور نیٹو کو افغانستان کے اقتدار اعلی کا احترام کرنا چاہۓ۔

اس کے معنی یہ ہیں کہ غیر ملکی فوجیوں کا رات کا آپریشن بند ہونا چاہۓ اور ان کو افغانستان میں جیلوں کا کوئي حق حاصل نہیں ہونا چاہۓ۔ افغان صدر حامد کرزئي نے بھی اس نشست میں اس بات پر تاکید کی کہ گزشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے ہمیشہ غیر ملکی فوجیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان کے مسلمان عوام کے دینی مقدسات اور قومی رسومات کا احترام کریں۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ افغان علماء نے اس ملک کی جیلوں کا انتظام افغان حکومت کی تحویل میں دیۓ جانے اور رات کے وقت امریکی فوجیوں کے حملوں کے بند کۓ جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ افغانستان پر امریکہ اور نیٹو کے قبضے کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر رہا ہے اور اس عرصے میں نہ صرف دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہوا ہے بلکہ قابض فوجی افغانستان میں بدامنی اور افغان عوام کے قتل عام کے ایک اہم عامل میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ رات کے حملے ، طالبان کے ساتھ تعلقات رکھنے کے بہانے عام شہریوں کی گرفتاریاں اور قتل عام ، جیلوں کا قیام اور تفریح کے لۓ افغان شہریوں کا قتل عام اور ان کے گھروں کا انہدام افغانستان میں امریکی اور نیٹو فوجیوں کے مظالم و جرائم کا ایک حصہ ہے۔

افغانستان میں منشیات کی پیداوار اور اسمگلنگ کے سلسلے میں غیر ملکی فوجیوں کے عمل دخل اور افغان عوام کے قومی اور دینی تشخص کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ منشیات کے فروغ سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان میں اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کے لۓ کسی بھی جرم اور ظلم سے دریغ نہیں کرتے ہیں۔

بگرام ایئر بیس میں قرآن کریم کو نذر آتش کرنے کا گھناؤ‎نا اقدام بھی اسی تناظر میں انجام پایا ہے۔ اس گھناؤنے اقدام کی وجہ سے افغان عوام میں قابضوں کے بارے میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغان علماء کونسل کی جانب سے افغانستان کے اقتدار اعلی اور اس ملک کے مذہبی مقدسات اور عقائد اور قومی اقدار و رسوم کے احترام کے بارے میں امریکی فوجیوں کو دیا جانے والا انتباہ قابضوں کے لۓ مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے کیونکہ افغانستان کے مسلمان عوام قابضوں کو اپنے مذہبی اعتقادات کو بازیچہ بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔

انیسویں صدی کے اواخر میں برطانیہ کی شکست اور بیسویں صدی کے اواخر میں سوویت یونین کی شکست افغانستان میں قابضوں کے لۓ‎ ایک تلخ تجربہ ہے اور افغان عوام کے نزدیک امریکہ اور نیٹو کو اس تجربے سے عبرت حاصل کرنی چاہۓ۔ .......

/169