ابنا: تحقيقي رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا کہ رائل ايئر فورس نے طالبان جنگجووں کے خلاف تقريباً 150 ڈرونز حملے کسي کو رپورٹ نہيں کيے.اعلي برطانوي حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان ميں اہم عسکريت پسندوں پرڈرونز حملوں نے امن کے امکان کو کم کر ديا ہے.افغانستان ميں2007ميں جنگي زونز ميں کمان کرنے والے برطانوي ميجر جنرل اينڈريو ميکے کا کہنا تھا کہ افغان مشن غلط ايڈونچر اور اسٹريٹجک غلطيوں سے بھرپور ہے.
ان کا کہنا تھا ہم غلطي پرہے ہم نتائج کي پرواہ کيے بغير پاکستان يا افغانستان ميں طالبان کي قيادت پر اندھا دھند ڈرون حملے کرتے ہيں .وزارت دفاع نے ڈرونز حملوں کي تفصيلات چھپانے کي سختي سے ترديد کي ہے اور کہا ہے کہ اکثر تفصيلات سيکورٹي اسباب کي وجہ سے شائع نہيں کي جاتي.اخبار کے مطابقبرطانوي فوج افغانستان ميں 10 ملين پونڈ کے ريپرز کو بنيادي طور پر نگراني اور جاسوسي کے لئيتعينات کيا گياہے،تاہم برطانوي فوج کوصرف اپنے دفاع کے لئے ان سے بم برسانے کي اجازت دي گئي. ليکن برطانوي فوج کي طرف سے ان ڈرونز UAVs سے ہزاروں ميل کي بلندي سے ہيلفائر ميزائل کے استعمال ميں بے پناہ اضافہ کرديا گيا.
رپورٹ ميں انکشاف کيا گيا کہ برطانيہ نے جون 2008سے طالبان جنگ جوو?ں پر248ڈرونز حملے کئے.ليکن رائل ايئر فورس نے ان حملوں ميں سے 99حملوں کو رپورٹ کيا .149حملوں کو چھپايا گيا جس نے تشويش پيدا کردي کہ برطانوي وزارت دفاع شہريوں کي ہلاکتوں کو چھپا رہي ہے.رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان ميں امريکي ريپرز اور پري ڈيٹرز سے 288ہلفائر ميزائل حملے کيے گئے جس ميں2711کے قريب افراد جاں بحق ہوئے جن ميں زيادہ تر شہري تھے. .......
/169