2 مارچ 2012 - 20:30

ایم ڈبلیو ایم ضلع بلتستان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو کئی بسوں سے اتار کر چن چن کر قتل کرنا بزدلی، درندگی ہے اور ملک بھر میں جاری منظم شیعہ کشی کے سلسلے کی کڑی ہے، حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین ضلع بلتستان کے ترجمان فدا حسین نے اپنی ایک اخباری بیان میں سانحہ کوہستان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں جو اس قاتل شاہراہ میں پیش آیا ہو، پے در پے کئی سالوں سے ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں، ہر بار مقامی اور وفاقی حکومت میڈیا پر بیانات، لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی اور چند وعدوں کے ساتھ ہر نئے حادثے کا انتظار کرتی رہی ہے۔

اب تک اس شاہراہ پر سینکڑوں بے گناہ مسافرں کو قتل کیا گیا، لیکن کسی مجرم کو اب تک سزا نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے ان قاتلوں کے حوصلے بلند ہو گئے اور سکیورٹی فورسز کی وردیوں میں گروپ کی شکل میں آ کر سینکڑوں مسافرین میں سے شیعہ مسلمانوں کو صفوں میں بٹھا کر قتل کیا جاتا ہے۔ لیکن سکیورٹی پر مامور لوگوں کو علم نہ ہونا سوالیہ نشان ہے۔ ایم ڈبلیو ایم ضلع بلتستان کے ترجمان نے مزید کہا کہ یہ واقعہ ملک بھر میں جاری شیعہ کشی کے سلسلے کی ایک کڑی ہے، حکومت شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ہر افسوسناک واقعے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی، اعلانات کے ملبے تلے مجرموں کو دفن کیا جاتا ہے، نہیں معلوم حکومت کب دہشتگردوں کو گرفتار کریگی اور عدلیہ کب ان کو تختہ دار پر لٹکائے گی۔ اگر عدم تحفظ اور قتل و غارت کا یہ سلسلہ جاری رہا تو وطن عزیز پاکستان فرقہ واریت کی آگ میں جھلس جائے گا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت زبانی دعوں کے بجائے عملی طور پر ثابت کرے کہ وہ اس خطہ سے مخلص ہے۔ شاہراہ قراقرم پر فول پروف سکیورٹی فراہم کرے، سکردو اور گلگت ائیر پورٹ کو آل ویدر بنانے کے علاوہ بے تحاشہ کرایوں میں کمی اور دیگر ہوائی کمپنیوں کو اجازت دے۔ سانحہ کے لواحقین کی حوصلہ افزائی اور وارثین کی مستقل پشت پناہی کرے۔

..............

/169