29 فروری 2012 - 20:30

ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے آئي اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے بعض رکن ممالک کو انتباہ دیا ہے کہ وہ اس ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعاون کا ماحول خراب کرنے کا سلسلہ ختم کردیں۔

ابنا: علی اصغر سلطانیہ نے بدھ کے دن ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے رکن ممالک کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوۓ اس بات کو تاکید کے ساتھ بیان کیا۔ارنا کی رپورٹ کے مطابق علی اصغر سلطانیہ نے اس نشست کے اختتام پر ایران کی بعض تنصیبات کے معائنے کے بارے میں کہا کہ تہران مذاکرات کے سلسلے میں اس بات کو بنیاد بنایا گیا تھا کہ پہلے ایک دائرہ کار معین کیا جاۓ گا اور اس کے بعد دوسرے اقدامات انجام دیۓ جائیں گے۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان تنصیبات کا معائنہ ایجنڈے میں شامل ہی نہیں تھا بلکہ طے یہ تھا کہ ایک قانونی دائرہ کار معین کیا جاۓ تاکہ فریقین کو اپنے اپنے فرائض معلوم ہوجائيں اور جب دائرہ کار معین ہو جاۓ تو اس کے بعد ان تنصیبات تک رسائی کی اجازت دی جاۓ۔

علی اصغر سلطانیہ نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے رکن ممالک کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوۓ مزید کہا کہ ایران پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت اضافی پروٹوکول پر عملدرآمد نہیں کرسکتا ہے اس لۓ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کو این پی ٹی معاہدے سے بڑھ کر ایران سے کوئي مطالبہ نہیں کرنا چاہۓ۔

ادھر ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کے بارے میں یوکیا آمانو کی حالیہ رپورٹ میں بعض ایسے امور پاۓ جاتے ہیں جو فنی اور قانونی دائرے سے خارج ہیں لیکن اس کے باوجود اس رپورٹ میں اس نکتے پر تاکید کی گئی ہے کہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں جاری ہیں۔ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ناکارتس کی رپورٹ میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی فردو ایٹمی سائٹ کی تمام سرگرمیوں ، تہران کی تحقیقاتی ری ایکٹر میں ایندھن کی پیداوار ، سینٹری فوجز کی تعداد اور یورینیئم کی افزودگی کی نگرانی کررہی ہے۔

اس کے علاوہ امریکہ کی سولہ خفیہ تنظیموں کی رپورٹ میں بھی دوسری مرتبہ اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کررہا ہے۔وائٹ ہاؤس کے پریس آفس کے ترجمان جے کارنی نے بھی کہا ہے کہ ایران نے ابھی تک ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ بیانات ایسی حالت میں سامنے آۓ ہیں کہ جب امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے دعوی کیا ہے کہ امریکہ کی پالیسی سفارتکاری اور دباؤ دونوں سے فائدہ اٹھانے پر مبنی ہے حالانکہ امریکہ کے تمام اقدامات ایران پر دباؤ اور سفارتی عمل کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر مبنی رہے ہیں۔

امریکہ نے بدھ کے دن سے ایران کے سنٹرل بینک کے خلاف اپنی جدید پابندیوں پر عمل شروع کردیا ہے۔ ان پابندیوں کا تعلق بینک کے معاملات سے ہے ۔ پابندیوں کے اس قانون پر اکتیس دسمبر کو امریکی صدر باراک اوباما نے دستخط کۓ تھے۔ اس قانون میں پابندیوں کا جو دوسرا حصہ مدنظر رکھا گیا تھا اس کا تعلق تیل کے لین دین سے ہے۔ اور ان پابندیوں پر آئندہ موسم گرما سے عملدرآمد شروع کیا جاۓ گا۔ امریکہ کے ایران مخالف اقدامات میں ایسی حالت میں شدت آ رہی ہے کہ جب حالیہ ایک مہینے کے دوران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے مذاکرات کے دو دور ہوچکے ہیں۔ ان مذاکرات کا آغاز اچھے ماحول میں ہوا لیکن امریکہ کے دعوے کے برخلاف یورپ کا رویہ ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے یہ اچھا ماحول خراب ہونے کا امکان پایا جاتا ہے۔

بہرحال جیسا کہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے بھی صاف لفظوں میں کہا ہے اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں اپنی پرامن ایٹمی سرگرمیاں جاری رکھے گا اور یورینیئم کی افزدوگي بند نہیں کرے گا کیونکہ یورینیئم کی افزودگی این پی ٹی معاہدے سے تضاد نہیں رکھتی ہے اور ایران این پی ٹی معاہدے کی مکمل طور پر پابندی کرتا ہے۔
 ........

/169