25 فروری 2012 - 20:30

شام: آل سعود شامیوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں / حکومت شام کا تختہ الٹنے کی سعودی سازش / سعودی عرب کے اندر بحران زوروں پر/ سعودی شہزادہ: قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے/سعودی عرب میں گھریلو تشدد کا بحران زوروں پر/ سعودی حکام اور علماء کے درمیان اختلافات طشت ازبام/سعودی وزیرخارجہ گویابحرین کو بھول گئے تھے / سعودی عرب اسرائیل کے خلاف کیوں کچھ نہيں بولتا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی بیداری کی لہر اٹھنے کے بعد امریکی و اسرائیلی حلقوں کو مصری کٹھ پتلی حسنی مبارک کے زوال کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد مشرق وسطی میں اس کے ایک اور شخص کی ضرورت تھی جو امریکی و اسرائیلی پولیس مین کا کردار ادا کرے چنانچہ انھوں نے آل سعود کو آگے بڑھایا اور اس سے بحرین اور یمن پر فوجی چڑھائی کروا دی گو کہ بعد میں قطر نے زیادہ واضح ضمانتیں فراہم کردیں اور امیر قطر نے یقینی دہانی کرائی کہ وہ اپنے لئے کچھ بھی نہیں چاہتے چنانچہ اس وقت امریکہ اور اسرائیل ان دو مہروں کو آزما رہے ہیں اور یہ دو مہرے بھی اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے مختلف النوع اقدامات میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے ہیں۔ سعودی عرب بھی قطر کو پیچھے چھوڑنے کے لئے کوشاں ہے گو کہ قطر کے ارادے کچھ زیادہ ہی خطرناک ہیں جن کی طرف رپورٹوں کے اس مجموعے میں بھی اشارہ کیا جارہا ہے۔ آل سعود کے کے کردار اور آل سعود کا نشانہ بننے والوں کا رد عمل درج ذیل رپورٹوں میں ملاحظہ ہو:ــ شام: سعودی عرب شامی باشندوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیںشام نے سعودی عرب کے حکمرانوں کو دہشت گردوں کی اعلانیہ حکومت کے بعد، شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آل سعود کو شام کے خونی واقعات میں شریک قرار دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق شام کے روزنامے "الثورہ" نے اپنے 25 فروری 2012 کے شمارے کے اداریے میں تیونس میں شام دشمن ممالک کے اجلاس کے موقع پر آل سعود کے وزير خارجہ سعود الفیصل نے کے اظہار خیال کی مذمت کی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ شام کے کے مسلح دہشت گردوں کی امداد کی تجویز "بہت زبردست" ہے۔الثورہ نے لکھا کہ سعود الفیصل کے خیالات شرمناک ہیں اور آج آل سعود کے ہاں لغات و الفاظ کی سطح اس قدر گرگئی ہے کہ۔۔۔ اور اس طرح گستاخی سے دہشت گردوں کی حمایت کررہے ہیں۔ اخبار نے لکھا ہے کہ آل سعود نے دہشت گردوں کی حمایت کرکے ثابت کیا ہے کہ وہ شامیوں کے خون میں برابر کا شریک ہے۔ دریں اثناء ایک شامی مبصر نے العالم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کی حکومت کی سطح ایک حکومت سے دہشت گرد ٹولوں کی ترجمانی تک گرگئی ہے۔

ــ حکومت شام کا تختہ الٹنے کی سعودی سازش / سعودی عرب کے اندر بحران زوروں پرشامی پارلیمان کے سیکریٹری نے شام میں امریکی سازشوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکمران شام کے نظام حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق شامی پارلیمان کے سیکریٹری خالد العبود نے کہا ہے کہ آل سعود کے حکمران ایک سالہ بحران کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام اس بحران سے سربلند ہوکر عہدہ برآ ہورہا ہے جبکہ سعودی عرب کے اندر جاری بحران زوروں پر ہے۔ شامی مجلس الشعب کے سیکریٹری نے کہا تیونس میں منعقدہ کانفرنس شام پر دباؤ بڑھانے کے لئے تھی تا ہم ہماری رائے کے مطابق اس کانفرنس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کانفرنس کے مغربی اور بعض عرب شرکاء نے شام کے مخالف دہشت گرد ٹولوں کو مسلح کرنے اور ان کو مالی امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے شام کے خلاف اپنے تمام کارڈز استعمال کرلئے ہیں اور اب اس کے پاس کوئی اور حربہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے وزیر خارجہ تیونس کی کانفرنس سے مایوس ہوکر نکلے کیونکہ انھوں نے شام کے خلاف اپنے اقدامات کی سطح وسیع کرنے کی کوشش کی اور شام پر فضائی حملے کرانے پر زور دیا لیکن انہیں معلوم ہوگیا کہ امریکہ اور یورپ ایسا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے۔

ــ سعودی بادشاہ کا بھائی: قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہےعبداللہ بن عبدالعزیز کے بھائی طلال بن عبدالعزیز نے سعودی عرب کو تقسیم کرنے کے سلسلے میں اسرائیل اور قطر کی مشترکہ سازش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: قطر اسرا‏ئیل سے مل کر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا اور شام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایک سعودی شہزادے عبداللہ بن عبدالعزیز کے بھائی طلال بن عبدالعزیز نے قاہرہ میں اپنی رہائشگاہ پر عرب شخصیات کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے قطر کی اسرائیل نواز اور سعودی و شام مخالف پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کہ قطر کا حکمران خاندان "آل ثانی" عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں پر عملدرآمد کررہا ہے اور آل ثانی خاندان اگلے مرحلے میں ایک فوری اقدام کے ذریعے سعودی عرب کو تقسیم کرکے آل سعود کو مکہ اور مدینہ پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں محصور کرے گا اور سعودی عرب کا ایک بڑا حصہ اردن کے حوالے کیا جائے گا تا کہ فلسطین سے نئے نکالے جانے والے پناہ گزینوں کو وہیں بسایا جاسکے۔طلال نے کہا: امریکہ نے سعودی عرب کی تقسیم منصوبہ بنایا ہے اور اس نے قطر کو عرب دنیا کے قلب میں اپنے چیلے کے طور پر متعین کیا ہے تا کہ سعودی عرب میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرے اور یہ کہ امریکہ سعودی عرب کی ارضی سالمیت کی ہرگز حمایت نہیں کرے گا۔ طلال نے کہا کہ آل سعود اور اسرائیل کے سیکورٹی عہدیداروں کے درمیان قریبی روابط پائے جاتے ہیں اور وہ علاقے کے ممالک خاص طور پر فلسطین اور شام کے خلاف مل کر سازشیں تیار کرتے ہیں تا کہ سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران دشمنی میں ہراول دستے کے سپاہی کے طور پر آگے بڑھایا جاسکے۔انھوں نے کہا: میں نے خلیج فارس تعاون کونسل کے کئی رکن ممالک کو قطر کی سعودی مخالف سازشوں سے مطلع کیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال بن عبدالعزيز خود، اور اپنے پانچ بھائیوں کو سعودی ولیعہدی کے حقدار سمجھتے ہیں، لہذا انھوں نے قاہرہ میں ایک بار پھر نائف بن عبدالعزیز کی ولیعہدی کی مخالفت کی ہے۔انھوں نے "المصریہ نیٹ ورک" کے تحریری بورڈ کے ساتھ رابطہ کرکے حال ہی میں ہونے والے مصری پارلیمانی انتخابات کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت جلد سعودی بیعت بورڈ سے اپنے استعفے کے اسباب کا اعلان کریں گے۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ طلال نے شام کی حمایت اور شام کے خلاف نیٹو اور سعودی عرب کی سازشوں پر تنقید کرکے عرب ممالک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔واضح رہے کہ طلال بن عبدالعزيز نے نائف بن عبدالعزيز کی ولیعہدی کے تین ہفتے بعد سعودی بیعت بورڈ سے استعفا دیا تھا۔ دریں اثناء طلال بن عبدالعزیز نے بعدازاں، غالبا سعودی اور مصری حکام کی دھمکیوں کے بعد اپنا بیان واپس لینے کا اعلان کیا لیکن انھوں نے اسی طرح کا بیان تین دسمبر 2011 کو بھی دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تردید کا کوئي اعتبار نہیں ہے: لنک دیکھئے:<قطر سعودی عرب کو تقسیم کرنا چاہتا ہے / طلال بن عبدالعزیز کے اہم انکشافات>

ــ سعودی عرب میں گھریلو تشدد کا بحران زوروں پرسعودی تجزیہ نگار نے سعودی عرب میں گھریلو تشدد کے بحران میں شدت آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس ملک میں خاندانی حیات اور معاشرتی اخلاق کو زوال آسکتا ہے۔اطلاعات کے مطابق العالمی کے نیوز ویب بیس نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی تجزیہ نگار "عبداللہ باجبیر" نے اپنے ایک مضمون میں سعودی عرب میں خاندانوں کے اندر تشدد کی افسوسناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے: حقیقت یہ ہے کہ تشدد گھرانوں میں پایا جاتا ہے ... بعض محققین کہتنے ہیں کہ سعودی عرب کے صرف 10 فیصد خاندانوں میں تشدد کا عنصر پایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بحران بہت وسیع ہے۔ مثال کے طور پر ایک سعودی مرد چار بیٹیاں اور ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے اور بیٹے کو ساتھ لے جاتا ہے اور بیٹیوں کو سابقہ بیوی کے پاس چھوڑ دیتا ہے جس سے معاشرتی بے راہروی پیدا ہوتی ہے یا ایک سعودی مرد اپنے بیٹے کو ٹارچر کرتا اور اس کو زنجیروں میں کستا ہے۔ ایسے حال میں فطری امر ہے کہ بیٹا موقع پاکر بھاگ جائے گا اور اپنی ماں کے پاس پناہ لے گا لیکن باپ جاکر بیٹے کو اس کی ماں کی آنکھوں کے سامنے ذبح کردیتا ہے۔انھوں نے کہا: اس طرح کی مثالیں بہت زیادہ ہیں اور اس کی صورتیں اور شکلیں مختلف ہیں؛ جیسے سوتیلی ماں ایک لڑکی کو ٹارچر کرکے جلادیتی ہے یا ایک باپ اپنی بیٹی کو ایک بوڑھے شخص سے شادی کرنے کے لئے زد وکوب کرتا ہے یا سعودی مرد اپنی بیوی کو بچوں کے سامنے مارتا پیٹتا ہے۔باجبیر نے خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات میں اضافہ ثابت کرتا ہے کہ سعودی عرب میں گھریلو تشدد معمول کی عادت بن گیا ہے لیکن مدنی اور سرکاری اقدامات کا ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہيں ہوسکا ہے۔ انھوں نے لکھا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ شراب نوشی اور منشیات کا استعمال تشدد عام ہونے کا سبب ہے اور بعض رپورٹوں کے مطابق تشدد کے تیس فیصد واقعات شراب نوشی اور منشیات کے استعمال سے رونما ہورہے ہیں حالانکہ یہ چیزیں حرام بھی ہیں اور بظاہر ممنوع  بھی ہیں۔باجبیر نے کہا: سعودی عرب میں تشدد کا شکار ہونے والے افراد کے لئے بظاہر کئی تنظیمیں تشکیل پائی ہیں لیکن تشدد کا مقابلہ کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ اقدام عمل میں نہيں آیا ہے۔

ــ سعودی عرب میں حکام اور علماء کے درمیان اختلافات طشت ازبامسعودی عرب میں حکمران خاندان اور وہابی علماء کے درمیان اختلافات طشت از بام ہو کر سامنے آگئے ہیں۔الجنادریہ نامی ستائیسویں سالانہ میلے میں فسق و فجور کی محافل کے انعقاد کی خبریں ملنے کے بعد سعودی علماء نے شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بادشاہ اور حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور حکام نے بھی علماء کو سیاسی حکومت کے معاملات میں دخل نہ دینے کی تلقین کرتے ہوئے سخت جواب دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق الجنادریہ کے آثار قدیمہ کے عنوان سے منعقدہ ستائیسویں سالانہ میلے میں ہونے والے بعض اعمال و افعال سعودی علماء کے شدید رد عمل کا سبب بن گئے ہیں۔ سعودی عرب کی مذہبی پولیس نے الجنادریہ میلے کو "نائٹ کلب" (Night Club) قرار دیا۔ میلے کے انتظامات بادشاہ عبداللہ کے بیٹے اور وزیر داخلہ متعب بن عبداللہ کے ہاتھ میں ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کے چینل 1 کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی علماء کے الزامات کو مسترد کیا اور انہیں نہایت سخت لہجے میں سرکاری معاملات میں مداخلت سے منع کرتے ہوئے کہا: دینی پولیس کے بعض اہلکاروں نے الجنادریہ فیسٹیول کو نائٹ کلب سے تشبیہ دی ہے جس میں بہت ساری خلاف ورزیاں ہوئی ہیں لیکن ان کا یہ دعوی غلط ہے اور ہم نیشنل گارڈ کی حیثیت سے ایسے اعمال کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔انھوں نے کہا: ہم نے دینی پولیس کے 40 اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے اور ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ان محافل سے بے خبر تھے اور انھوں نے محض فتنہ انگیزی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ بعض علماء نے تحقیق کئے بغیر ان الزامات کو درست تسلیم کیا حالانکہ انہیں پہلے اس بارے میں تحقیق کرنی چاہئے تھی۔ واض