اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق اسیر بچوں میں سے ایک کی بہن نے ذرائع کو بتایا: "حسین عبدالعلی" اور "محمد حبیب" المالکیہ کلب جارہے تھے لیکن راستے میں جھڑپیں شروع ہوئیں تو ان دو بچوں نے حسین عبدالعلی کی خالہ کے گھر میں پناہ لینے کا فیصلہ کیا۔
آدھا گھنٹہ گذرنے کے بعد آل خلیفہ کے گماشتوں نے حسین کی خالہ کے گھر پر چھاپہ مارا اور ان دو بچوں کو گرفتار کرکے اسکوائر-17 کے پولیس اسٹیشن میں منتقل کیا، ہم نے مذکورہ پولیس اسٹیشن سے رجوع کیا لیکن وہاں موجود خلیفی اہلکاروں نے بچوں کی گرفتاری سے لاعلمی ظاہر کی لیکن ہم نے کئی مرتبہ رجوع کیا تو انھوں نے اعتراف کیا کہ یہ دو بچے گرفتار کئے گئے ہیں۔
جس کے بعد بچوں سے اہل خانہ کی ملاقات کرائی گئی اور ملاقات کے دوران بچوں نے بتایا کہ ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور دھمکیاں دے کر ایک اعتراف نامے پر دستخط کرائے گئے ہیں جن میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ ان کے دیسی ساختہ پٹرول بم تھے جو انھوں نے المالکیہ کے علاقے میں ایک درخت پھینک دیئے تھے!۔
انھوں نے حکمرانوں سے مطالبہ کیا کہ ان دو بچوں کی عمریں پندرہ سال سے کم ہیں اسی لئے انہيں فوری طور پر رہا کردیں۔
.........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
بحرین کا انقلاب کرامت/ بحران سے بھاگنے کے لئے آل خلیفہ کا آخری اقدام