ابنا: سکیورٹی فورسز نے آج بغداد میں متعدد آپریشن کرکے چھہتر دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جبکہ ایک دہشتگرد صوبہ نینوا میں سیکورٹی فورسز کےہاتھوں ہلاک اور دوسرا گرفتار ہوا ہے۔ادھر نینوا میں عراقی سیکورٹی فورسز نے گولہ بارود سے بھری ایک گاڑی کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔ یاد رہے گذشتہ روز عراق کے مختلف شہروں میں ہونے والے دہشتگردانہ بم دھماکوں میں چھہتر افراد جان بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے۔ عراقی حکام کا کہنا ہے کہ بعض غیر ملکی طاقتیں عراق میں دہشتگردی کے ذریعے عراق کو بدامنی کا شکار ظاہر کرکے بغداد میں آئندہ دنوں ہونے والے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتی ہیں۔ عبدالزھرہ آل ماجد نے کہا ہےکہ شدید حفاظتی انتظامات کے باوجود ہر روز عراق میں دہشتگردی کے واقعات ہورہے ہیں جن کا سد باب کرنے کے لئے سیکورٹی اداروں کونئے طریقہ کار اپنانے ہوں گے۔
آل ماجد نے کہا کہ عراق کو آج گھناونی سازشوں کا سامنا ہے اور عراق کے دشمن کرائے کے دہشتگردوں کے ہاتھوں عوام کا قتل عام کرواکر عراقی حکومت کو کمزور ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور عراق کے ٹکڑے کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے کا ارادہ رکھتے ہيں۔ عراق کے حکام نے کہا ہے کہ کل کے دہشتگردانہ حملوں میں القاعدہ اور سابق بعث پارٹی کے عناصر ملوث ہیں جو ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔ عراقی حکام کے مطابق دہشتگردوں کو بعض ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔عراق کے سیاسی امور کے ماہر اسماعیل کوثری نے بھی کہا ہے کہ عراق میں بدامنی کا ماحول ظاہر کرنے کی دشمنوں کی سازش کے باوجود مارچ کے اواخر میں بغداد میں آئندہ عرب سربراہی اجلاس کا انعقاد عمل میں لایا جاۓ گا۔ اور عراقی وزارت خارجہ نے اس کے لۓ ضروری اقدامات انجام دے دیۓ ہیں۔
اسماعیل کوثری نے مزید کہا کہ عراق کے دشمنوں کو جان لینا چاہۓ کہ اس ملک کی حکومت عرب سربراہی اجلاس کا انعقاد کامیابی کے ساتھ کرے گی۔ اور اب تک تیرہ عرب ممالک کے سربراہ اس اجلاس میں شرکت پر اپنی آمادگی کا اظہار کرچکے ہیں ۔ انھوں نے مزید کہا کہ القاعدہ اور بعثی دہشتگرد گروہ اپنی دہشتگردانہ کارروائیوں کے ذریعے عراق کی ترقی و پیشرفت کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ عدنان السراج نے بھی القاعدہ اور بعثی دہشتگرد گروہوں کو کل کے دہشتگردانہ دھماکوں کا ذمےدار قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ یہ دہشتگرد گروہ غیر ملکی حمایت کے ساتھ عراق میں تکفیری نظریات پھیلانا چاہتے ہیں۔عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے بھی القاعدہ کو ان دھماکوں کاذمہ دار قراردیا اور کہا کہ یہ دھماکے ایسے موقع پر ہوئے ہیں جبکہ عراق عرب سربراہی اجلاس کی تیاریاں کررہا ہے۔
واضح رہے کہ عراق میں مارچ کے آخر میں عرب سربراہی اجلاس ہونے والا ہے۔ جس کے پیش نظر بعض غیر ملکی طاقتیں عراق میں بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں البتہ عراقی حکام کے عزم سے لگتا ہے کہ وہ عراق کے دشمنوں کو ان کی سازشوں میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
...............
/169