اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق عرب اور اسلامی دنیا میں رونماہونے والے انقلابات میں نوجوانوں کے اہم کردار کو دیکھ اپنے ملک کے نوجوانوں سے خوفزدہ سعودی حکام نے ٹویٹر پر سعودی عرب کے انقلابی نوجوانوں کی سرگرمی دیکھ کر اپنی مطلق العنان بادشاہت کے بچانے کے لئے ایک بار پھر دین کے ٹھیکیداروں کا دامن تھاما اور انہیں ٹویٹر استعمال کرنے سے روک لیا۔ لیکن بات صرف یہی نہیں ہے بلکہ سعودی حکام نے آل سعودی کی بادشاہت کے خلاف نیٹ سرگرمیوں میں مصروف نوجوانوں کا سراغ لگانے کے لئے تیل کی دولت سے اربوں ڈالر خرچ کرکے ٹویٹر کے شیئرز کا ساڑھے تین فیصد حصہ خرید لیا۔ جس کا مفہوم یہ ہوا کہ جس ویب بیس میں کام کرنا حرام ہے اسی ویب بیس کی مالکیت کا کچھ حصہ آل سعود کے پاس !!!آل سعود نے ٹویٹر کے 3.6 فیصد خریدنے کے بعد اپنے دربار کے مفتی اعظم سے یہ فتوی جاری کروایا۔ حجاز و نجد و الشرقیہ اور جنوب و حرمین کے عوام کی دولت سے ارب پتی بننے والے سعودی شہزادے ولید بن طلال بن عبدالعزیز ۔ <جو اسپین میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ زنا بالجبر کے جرم میں ہسپانوی عدلیہ کو مطلوب ہے> ـ نے دسمبر 2011 میں تیس کروڑ ڈالر کی خطیر رقم ادا کرکے ٹویٹر کے 3.6 فیصد شیئرز خرید لئے۔ اور سلام ہے اسلام پر جس کو ان جیسوں سے پالا پڑ رہا ہے۔
........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ