21 فروری 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہدنیا میں صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کامرکز بنانے پر قادر ہیں جن میں ایران بھی شامل ہے اور اسی وجہ سے مغربی ممالک چونک گئے ہیں۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے عمان کے وزير خارجہ یوسف بن علوی کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں گفتگو کے دوران ماضی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی ایٹمی پیشرفت کو مغربی ممالک کی طرف سے کم اہمیت بنا کر پیش کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں اس وقت صرف چند محدود ممالک ایٹمی ایندھن کا مرکز بنانے پر قادر ہیں  جن میں ایران بھی شامل ہے اور ایران کی اس پیشرفت کی وجہ سے مغربی ممالک غافلگیر ہوگئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم نے دو سال پہلے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کو 20 فیصد ایندھن فراہم کرنے کا تقاضا پیش کیا تھا اور انھوں نے اس کے بارے میں سخت شرائط عائد کرنا شروع کردیئے جس کے بعد ہم خود 20 فیصد ایندھن کی پیدوار کے لئے مجبور ہوگئے اور ہم نے 20 فیصد ایندھن تیار کرنے کا اقدام کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے غیور جوانوں نے ہمت و شجاعت سے کام لیا اور ملک اندرونی ضروریات کو پورا کرنےکے لئے 20 فیصد ایندھن تیار کرلیا انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک نے ایران کے خلاف بہت پروپیگنڈہ کیا کہ ایران ایٹمی ایندھن کا مرکز تعمیر کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن ہم نے ایسا کرکے دکھا دیا اور اس پر مغربی ممالک چراغ پا ہوگئے ہیں انھوں نے کہا کہ مغربی ممالک ایران کی علمی پیشرفت کو روکنے کی تلاش میں ہیں لیکن ایران انھیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دےگا کیونکہ علمی پیشرفت ایرانی عوام اور ایرانی جوانوں کا مسلّم حق ہے۔........

/169