اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عبدالالہ الماحوزي نے کہا: ریاض اور منامہ کے درمیان اتحاد کا منصوبہ پیش کیا جانے سے قبل آل خلیفہ خاندان نے جزیرہ نما شیلڈ کی خلیجی فورسز کو بحرین پر چڑھائی اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے اور مساجد کو شہید کرنے کی دعوت دی اور ان بظاہر مسلم فوجوں نے بحرین کے دفاع کے بہانے بحرین میں تمام سرخ لکیریں پامال کردیں اور اگر یہ سب آل خلیفہ اور آل خلیفہ کے درمیان اتحاد کی تمہید ہو تو دو ملکوں کے درمیان اتحاد کی صورت میں علاقائی صورت حال اور بحرین کی اندرونی صورت حال زیادہ افسوسناک ہوسکتی ہے۔
انھوں نے آل سعود کے بعض حامیوں کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اتحاد کے بعد بحرینی عوام کی زندگی کی سطح بہتر ہوجائے گی اور کہا: بحرین کے عوام نے 14 فروری 2011 شوق شہادت اور جانفشانی کی روح لے کر آل خلیفہ کے خلاف اپنی انقلابی تحریک کا آغاز کیا ہے اور اس کا مقصد ہرگز زندگی کی سطح بہتر کرنا نہیں تھا۔ ہمیں روٹی کے ٹکڑوں کی نہیں آزادی اور سیاسی نظام میں مشارکت کا حق حاصل کرنا ہے؛ ہم حقیقی شہری کی مانند جینے کا حق مانگتے ہيں اور اس کے لئے جدوجہد کررہے ہیں؛ ماہانہ تنخواہ ہمارا ہدف نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنی جدوجہد ہرصورت میں جاری رکھیں گے چاہے آل خلیفہ اور آل سعود آپس میں اتحاد کرلیں یا پھر دشمنی۔
.......
/169-110
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے: