19 فروری 2012 - 20:30

ایک بحرینی سیاستدان نے کہا ہے کہ بحرین اور سعودی عرب کے اتحاد کی تجویز پیش کئے جانے کا مقصد قومی عزم کے خلاف جبر و تشدد کے اقدامات میں شدت لانا اور عوامی انقلاب کو ناکام بنانا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عبدالالہ الماحوزي نے کہا: ریاض اور منامہ کے درمیان اتحاد کا منصوبہ پیش کیا جانے سے قبل آل خلیفہ خاندان نے جزیرہ نما شیلڈ کی خلیجی فورسز کو بحرین پر چڑھائی اور احتجاجی مظاہروں کو کچلنے اور مساجد کو شہید کرنے کی دعوت دی اور ان بظاہر مسلم فوجوں نے بحرین کے دفاع کے بہانے بحرین میں تمام سرخ لکیریں پامال کردیں اور اگر یہ سب آل خلیفہ اور آل خلیفہ کے درمیان اتحاد کی تمہید ہو تو دو ملکوں کے درمیان اتحاد کی صورت میں علاقائی صورت حال اور بحرین کی اندرونی صورت حال زیادہ  افسوسناک ہوسکتی ہے۔

انھوں نے آل سعود کے بعض حامیوں کے اس دعوے کو مسترد کیا کہ اتحاد کے بعد بحرینی عوام کی زندگی کی سطح بہتر ہوجائے گی اور کہا: بحرین کے عوام نے 14 فروری 2011 شوق شہادت اور جانفشانی کی روح لے کر آل خلیفہ کے خلاف اپنی انقلابی تحریک کا آغاز کیا ہے اور اس کا مقصد ہرگز زندگی کی سطح بہتر کرنا نہیں تھا۔ ہمیں روٹی کے ٹکڑوں کی نہیں آزادی اور سیاسی نظام میں مشارکت کا حق حاصل کرنا ہے؛ ہم حقیقی شہری کی مانند جینے کا حق مانگتے ہيں اور اس کے لئے جدوجہد کررہے ہیں؛ ماہانہ تنخواہ ہمارا ہدف نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بحرینی عوام اپنی جدوجہد ہرصورت میں جاری رکھیں گے چاہے آل خلیفہ اور آل سعود آپس میں اتحاد کرلیں یا پھر دشمنی۔

.......

/169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت 370ویں اور 371ویں دن کے واقعات/ سترواں شہید؛ بحرینی عوام میدان شہداء میں/ اپڈیٹس