ابنا: اپنے اس دورے میں انھوں نے تہران میں مختلف ایرانی حکام سے ملاقات کی تھی اور اختتام پر اعلان کیا تھا کہ ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی کا وفد جلد ہی دوبارہ ایران کا دورہ کرےگا۔ انھوں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھہ کہا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے ساتھہ ہونیوالی ملاقات میں مذاکرات میں اولویت قرار پانے والے نکات پر تبادلۂ خیال ہوا۔ایران نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور آئی اے ای اے کا رکن ملک ہے اور وہ ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی کی زیر نگرانی اپنی پر امن جوہری سرگرمیاں اور جوہری ایندھن کی پیداوار کیلئے یورینیم کی افزودگی کا عمل جاری رکھنا چاہتا ہے۔
ایران نے اپنی پر امن جوہری سرگرمیوں کے دائرے میں اپنے سائنسدانوں کے بل بوتے پر متعدد اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں جو بین الاقوامی قوانین کے خلاف بھی نہیں ہیں۔ان کامیابیوں میں تہران کے اس تحقیقاتی جوہری ری ایکٹر کی ضرورت کا ایندھن بھی شامل ہے جو مختلف مہلک بیماریوں کیلئے دوائیں بنانے میں سرگرم عمل ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کامیابیاں نہ تو روکی جاسکتی ہیں اور نہ ہی وہ قابل مذاکرات ہیں کہ جنکے بارے میں مغرب کی خوشامد کی جائے مگر یورپ و امریکہ نے ایران میں یورینیم کی افزودگی بند کرانے کیلئے امانو کی غیر منصفانہ رپورٹ کے بہانے تہران پر دباؤ بڑھا دیا ہے اور انھوں نے ایران کے سینٹرل بینک کے بائیکاٹ اور ایران کے تیل کی خریداری پر پابندی جیسی مختلف غیر منطقی پابندیوں کی منظوری دیدی ہے۔
جبکہ یورینیم کی افزودگی بند کرانے کا غیر منطقی مطالبہ نہ صرف جوہری توانائی کے مسئلے میں دیگر ملکوں کے حقوق سے چشم پوشی کئے جانے کے مترادف ہے بلکہ این پی ٹی معاہدے کی شق نمبر چار کے خلاف بھی ہے۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ ایران اور ایٹمی توانائي کی بین الاقوامی ایجنسی کے درمیان تعاون ہمیشہ خوشگوار اور قانونی فرائض سے کہیں زیادہ بڑھ کر رہا ہے۔
یہی نہیں بلکہ ایران نےپانچ سال قبل اور مقررہ منصوبہ بندی کے چوکھٹے اور آئی اے ای اے کے ساتھہ سمجھوتے کے تناظر میں ذکر کردہ ابہامات کے بارے میں ایجنسی کے پیش کردہ چھے سوالات کا جواب بھی دے دیا ہے اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے بھی جواب موصول ہوجانے کا اعتراف کر لیا ہے بنابریں اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی شفاف نیز پرامن مقاصد کیلۓ جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے پر تاکید پر استوار ہیں یہی وجہ ہے کہ ایران نے تہران اور گروپ1+5 کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ آغازکیلۓ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کٹرین اشٹون کی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔
ایران نے گذشتہ ہفتے کٹرین اشٹون کے مراسلے کا باضابطہ طور پر جواب دے دیا ہے اور اب وہ مقابل فریق کے جواب کا منتظر ہے اور یہ اس بات کے مترادف ہے کہ ایران مذاکرات اور اعتماد کی بحالی کے خلاف نہیں ہے مگر مسلمہ امر یہ ہے کہ اس سلسلے میں دو طرفہ کوششوں کی ضرورت ہے۔اس رو سے توقع کی جاتی ہے کہ ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی مغرب کے سیاسی دباؤ سے ہٹ کر اور مکمل شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں پر عمل کریگی اور ایران کے خلاف مغرب کا بلا وجہ کا زہر اگلنا بند کرائے گی// .........
/169