ابنا: کانفرنس میں مختلف شیعہ عمائدین، نوحہ خواں، شعراہ، اور مختلف حلقے سے تعلق رکھنے والوں نے شرکت کی۔ تمام علماء کرام نے ملت تشیع کے اتحاد کی طرف زور دیا۔ علماء کا کہنا تھا کہ ہمارا رشتہ صرف ایک ہے وہ رشتہ ہے امام علی کی ولایت کا۔ علماء بار بار اتحاد کا درس دیتے ہوئے نظر آئے۔ علامہ ماجد رضا عابدی کا کہنا تھا کہ گھر میں رہنے والے بھائیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے۔ مگر بھائیوں میں لڑائی نہیں ہونی چاہئے۔ وہ ہم سے نہیں ہے جو شیعہ کو شیعہ سے لڑوانے کی بات کرتا ہے، علامہ ناظر عباس کا کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے ہمیں اپنا دفاع کرنا ہے علامہ ناطر عباس کا کہنا تھا کہ فون کرکہ بتایا جاتا ہے کہ ہم شیعوں کے گھروں میں حملہ ہوگیا ہے۔ میں اُن لوگوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ تم نے کیا چوڑیاں پہن رکھی ہے؟ خبردار اب کسی مولانا کو مدد کے لیے نہ بلانا۔ پہلے جواب دینا ہم تمہارے پیچھے کھڑے ہیں۔ علامہ ناظر عباس کے خطاب کے دوران انتہائی پرجوش مناظر دیکھنے میں آئے۔ تمام افراد اپنی سیٹوں سے کھڑے ہوگئے اور علامہ ناطر عباس کو لبیک یاحسین کہہ کر جواب دیتے رہے۔
کانفرنس میں استاد سبط جعفر بھی شریک تھے۔ اس کے علاوہ شادمان رضا، شجاع رضوی، مختار فتح پوری، علی دیپ رضوی اور اس کے عللاوہ تمام ماتمی انجمن کے نمائندے ایس ایم نقی بھی شریک تھے۔ ایس ایم نقی کا کہنا تھا کہ ملت کا اتحاد ہی تمام مسائل کا حل ہے۔
کانفرنس کے اختتتام پر شہید عسکری رضا کی بیٹی نے خطاب کیا۔ شہید کی بیٹی کا کہنا تھا کہ میرے بابا نے اس ملت کے لیے جان دی ہے۔ اُن کا خواب تھا کہ ملت کے درمیان اتحاد رہے۔ شہید کی بیٹی نے فرمایا میرا اور آپ کا رشتہ امام علی کی ولایت کا رشتہ ہے۔ہم تمام افراد کو صرف ایک علم کے نیچے جمع ہونا ہےکانفرنس میں ہزاروں افراد شریک تھے۔ جنہوں پوری ملت کو صرف اتحاد کا درس دیا۔












........
/169-110