18 فروری 2012 - 20:30

14 فروری کے انقلابی نوجوانوں کے اتحاد کے ترجمان نے بحرین کے علماء اور حریت پسندوں نے عوام کو میدان شہداء (سابقہ میدان اللؤلؤہ) میں پہنچنے اور بحرین کو آل خلیفہ کے تسلط سے چھٹکارا دلانے کی دعوت دی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر عبدالرؤف الشائب نے کہا: دینی علماء، نوجوانوں اور حریت پسندوں نے عوام سے فوری طور پر میدان شہداء میں لوٹنے کی دعوت دی ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ گھروں کو نہ لوٹیں اور میدان میں ڈٹ کر رہیں اور میدان شہداء تک پہنچنے کے لئے ہر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لائیں۔
میدان شہداء وہی میدان ہے جہاں سے 14 فروری 2011 کا انقلاب شروع ہوا اور مارچ کے مہینے نے آل خلیفہ اور آل سعود نے مل کر اس میں موجود موتی ٹاور کو منہدم کرکے اس کو ہمیشہ کے لئے بحرینی عوام کے انقلاب کی علامت میں بدل دیا اور اب ایک طرف سے آل سعود اور آل خلیفہ نے اس کی اپنے لئے حیثیت کا مسئلہ قرار دیا ہے اور گویا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انقلابیوں کا اس میدان میں پہنچنے کا مفہوم یہ ہے کہ عوام کامیاب ہوگئے ہیں اور حکومت شکست کھاگئی اور کئی غیرملکی خیررسان ادارےبھی اس میدان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس پر انقلابیوں کے تسلط کو شاہی حکومت کا خاتمہ سمجھ رہے ہیں اور دوسری طرف سے انقلابی بحرینیوں نے بھی گویا اس میدان میں پہنچنے کا عزم  کرلیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ہتھیار کب تک ایک قوم کو ایک خاص مقام تک پہنچنے سے روکنے میں کامیابی سے عمل کرسکتے ہیں؟
الشا‏ئب نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت انقلاب کے آغاز کے اس مقام میں عوام کا لوٹ کر آنا ہرگز برداشت نہیں کررہی ہے اور عوام کو وہاں سے روک رہی ہے۔
الشائب نے کہا: خلیج فارس زون کی ریاستیں بحرین میں عوام پر خلیفی و سعودی مظالم میں برابر کی شریک ہیں کیونکہ آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت کو پرامن مظاہرے کچلنے میں تمام خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے۔
انھوں نے کہا: بحرین کا انفلاب ایک قومی انقلاب اور احتجاجی تحریک ایک قومی احتجاج ہے جس میں شیعہ اور سنی باشندے برابر کے شریک ہیں اور سب استبدادی حکومت اور شخصی حکمرانی اور آل خلیفہ کے خونخوار اور مجرم خاندان کی فرمانروائی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
........

/169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

بحرین کا انقلاب کرامت 370ویں دن کے واقعات/ سترواں شہید؛ بحرینی عوام میدان شہداء میں!