اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ بحرین میں آل سعود اور اپنے بیرونی ایجنٹوں کے ذریعے قتل و غارت کو جاری رکھے ہے اور عوام کی پرامن اور لازوال مزاحمت بھی جاری و ساری ہے اور ہزاروں افراد نے انقلاب کرامت کے سترویں شہید کے جلوس جنازہ میں شرکت کی ہے۔ درج ذیل واقعات حالیہ تین دنوں میں رونما ہوئے ہیں:ــ انقلاب کرامت کا سترواں شہیدجزیرہ سترہ پر آل سعود کی حمایت سے آل خلیفہ کے کرائے کے قاتلوں کے حملے میں ایک بزرگ بحرینی شہید ہوگئے ہیں۔اطلاعات کے مطابق الحاج منصور سلمان حسن جزیرہ سترہ پر آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں کے حملے اور زہریلی گیس کے گولے فائر کرنے کے باعث مسموم ہوگئے تھے اور بالآخر ہفتہ کے روز صبح کے وقت جام شہادت نوش کرگئے اور یوں شہدائے بحرین کی تعداد 70 ہوگئی۔ ان کی عمر پچاسی برس تھی اور خلیفیوں و سعودیوں نے زہریلی گیس کے گولے ان کے گھر کے اندر فائر گئے تھے۔ انہیں خلیفی گماشتوں کے زير قبضہ اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ شہید ہوگئے۔ ــ بحرین: منامہ کے میدان شہداء کی طرف لوٹنے کی دعوت14 فروری کے انقلابی نوجوانوں کے اتحاد کے ترجمان نے بحرین کے علماء اور حریت پسندوں نے عوام کو میدان شہداء (سابقہ میدان اللؤلؤہ) میں پہنچنے اور بحرین کو آل خلیفہ کے تسلط سے چھٹکارا دلانے کی دعوت دی ہے۔اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر عبدالرؤف الشائب نے کہا: دینی علماء، نوجوانوں اور حریت پسندوں نے عوام سے فوری طور پر میدان شہداء میں لوٹنے کی دعوت دی ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ گھروں کو نہ لوٹیں اور میدان میں ڈٹ کر رہیں اور میدان شہداء تک پہنچنے کے لئے ہر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لائیں۔ میدان شہداء وہی میدان ہے جہاں سے 14 فروری 2011 کا انقلاب شروع ہوا اور مارچ کے مہینے نے آل خلیفہ اور آل سعود نے مل کر اس میں موجود موتی ٹاور کو منہدم کرکے اس کو ہمیشہ کے لئے بحرینی عوام کے انقلاب کی علامت میں بدل دیا اور اب ایک طرف سے آل سعود اور آل خلیفہ نے اس کی اپنے لئے حیثیت کا مسئلہ قرار دیا ہے اور گویا وہ بھی سمجھتے ہیں کہ انقلابیوں کا اس میدان میں پہنچنے کا مفہوم یہ ہے کہ عوام کامیاب ہوگئے ہیں اور حکومت شکست کھاگئی اور کئی غیرملکی خیررسان ادارےبھی اس میدان پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس پر انقلابیوں کے تسلط کو شاہی حکومت کا خاتمہ سمجھ رہے ہیں اور دوسری طرف سے انقلابی بحرینیوں نے بھی گویا اس میدان میں پہنچنے کا عزم کرلیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ ہتھیار کب تک ایک قوم کو ایک خاص مقام تک پہنچنے سے روکنے میں کامیابی سے عمل کرسکتے ہیں؟ الشائب نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت انقلاب کے آغاز کے اس مقام میں عوام کا لوٹ کر آنا ہرگز برداشت نہیں کررہی ہے اور عوام کو وہاں سے روک رہی ہے۔ الشائب نے کہا: خلیج فارس زون کی ریاستیں بحرین میں عوام پر خلیفی و سعودی مظالم میں برابر کی شریک ہیں کیونکہ آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت کو پرامن مظاہرے کچلنے میں تمام خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کی حمایت حاصل ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کا انفلاب ایک قومی انقلاب اور احتجاجی تحریک ایک قومی احتجاج ہے جس میں شیعہ اور سنی باشندے برابر کے شریک ہیں اور سب استبدادی حکومت اور شخصی حکمرانی اور آل خلیفہ کے خونخوار اور مجرم خاندان کی فرمانروائی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ــ بحرین: / متعدد افراد میدان شہداء تک پہنچ گئے آل خلیفہ اور آل سعود کی وسیع رکاوٹوں کو سرکرکے بحرینی نوجوانوں کا ایک گروہ میدان شہداء میں داخل ہوگیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس کے باوجود آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں کے مکمل گھیرے میں ہے، بحرینی نوجوانوں تمام رکاوٹوں کو سرکرکے میدان میں داخلے ہوگئے ہیں۔ایک طرف سے بحرینی نوجوان میدان شہداء میں داخل ہوگئے ہیں تو دوسری طرف سے آل سعود اور آل خلیفہ کی بکتربند گاڑیاں جد حفص نامی شہر میں داخل ہوگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آل سعود اور آل خلیفہ کو چین میسر نہیں آرہا کیونکہ اس ملک کے حالات پر عوام کا کنٹرول ہے اور آل سعود اور آل خلیفہ کے مسلح گماشتے عوام کے مدمقابل صف آرا ہیں اور دوسری طرف سے بحرینی عوام ہیں جو میدان شہداء پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں چنانچہ سڑکوں پر بھاری ٹریفک ہے اور یہ صورت حال شب و روز جاری و ساری ہے۔ الدیہ نامی شہر میں آل سعودی اور آل خلیفہ کی فورسز نے عوام کے گھروں پر ہلہ بول دیا ہے اور آل خلیفہ و آل سعود کے ہیلی کاپٹرز نچلی پروازوں کے ذریعے عوام کو میدان شہداء سے بازرکھنے کی اپنی سی کوششیں کررہے ہیں اور خلیفی و سعودی گماشتے فائرنگ اور زہریلی آنسو گیس کے گولوں کے ذریعے عوام کو میدان شہداء جانے سے باز رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔
ــ 19سالہ مجاہد نوجوان کا جلوس جنازہ شہید مجاہد حسین محمد البقالی کا جلوس جنازہ جد حفص سے نکلا اور انہیں سپرد خاک کیا گیا۔اطلاعات کے مطابق شہید مجاہد حسین محمد البقالی کو اسپتال میں طبی امداد فراہم نہ کئے جانے کے باعث شہید ہوگئے تھے۔ شہید مجاہد حسین محمد البقالی جد حفص شہر کے رہائشی تھے اور جارحین و غاصبین کی جارحیت کے دوران احتجاجی مظاہرے میں شریک تھے اور سڑک میں ٹائر کو آگ لگانے کے لئے اس پر تیل چھڑک رہے تھے کہ اسی اثناء میں آل سعود کے حمایت یافتہ خلیفی غنڈوں نے ان پر حملہ کیا اور ان کے کپڑوں میں آگ لگ گئی جس کی وجہ سے ان کا جسم بری طرح جل گیا لیکن خلیفی درندوں نے انہیں اسپتال منتقل نہیں ہونے دیا چنانچہ وہ علاج معالجہ نہ ہونے اور طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے شہید ہوگئے تھے۔قابل ذکر ہے کہ یہ شہید سعید ایک ماہ قبل ہی آل خلیفہ کے اذيتکدوں سے رہا ہوگئے تھے۔ شہید مجاہد حسین محمد البقالی کی شہادت کے بعد آل خلیفہ کے ناجائز حکمرانوں نے بیرون ملک سے برآمدہ کرائے کے قاتلوں کے متعدد مسلح اور نقاب پوش ٹولے مہزہ اور اسفالہ کے علاقوں پر حملہ کرنے کے لئے تشکیل دیئے جنہوں نے ان علاقوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی۔ یہ لوگ گھروں کے دروازوں پر دستک دیتے رہے، کئی راہگیروں کو تشدد کا نشانہ بنیا اور بعض افراد کو علاقے سے اغوا کیا۔ شہید حسین محمد البقالی 17 فروری کو شہید ہوگئے تھے اور اٹھارہ فروری 2012 کو ان کا جنازہ اٹھا جو زبردست احتجاجی ریلی میں بدل گیا۔
ــ بحرین میں عدل و انصاف کا خلیفی اسٹائل!آل خلیفہ کی عدالت نے ایک خاتون کے قتل کے جرم میں اپنے غنڈوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے پہلے سے قید نوجوانوں کی قید کی مدت میں توسیع کردی!!!اطلاعات کے مطابق خلیفی غنڈوں نے تیز دھار سلاخیں پرامن مظاہرین کی طرف پھینکنے کا حربہ بھی آزما لیا جن میں سے ایک سلاخ ایک نوجوان بحرینی لڑکی کے سر کو لگا اور وہ شہید ہوگئیں اور یہ عمل عالمی سطح پر آل خلیفہ خاندانوں کی رسوائی کا سبب بنا اور آل خلیفہ کی عدالت نے اپنے غنڈوں کی بجائے بحرینی شہریوں کی حراست میں توسیع کرلی!!!خلیفیوں کا یہ اقدام دیکھ کر بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ عقلیت کے دعویدار مغربی حکمران کتنی حدتک معقول ہیں کیونکہ وہ کسی قید و شرط کے بغیر آل خلیفہ حکومت کے حامی ہیں اور انسانی حقوق کے ساتھ اعلانیہ اور نہایت مضحکہ خیز خلیفی برتاؤ کو دیکھ کر بحرینی عوام پر روا رکھے جانے والے مظالم پر خاموش عالمی ادارے کس حد تک انسان اور انسانیت کو وقعت دیتے ہیں!!! بہر خلیفیوں کے قاضی ابراہیم الزید نے تین ملزموں کی مدت حراست میں 45 دن تک توسیع کی ہے جن میں سے ایک بحرین کی قومی تائکوانڈو ٹیم کا کھلاڑی ہے۔ آل خلیفہ کی عدالت میں لائے گئے ان تین نوجوانوں نے جج کے سامنے کہا کہ انہیں شہید ہونے والی خاتون کی شہادت سے کئی دن قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ ملزمان کے وکیل نے کہا: میرے موکلین گذشتہ کئی مہینوں سے جیل میں پڑے ہیں اور اس عرصے میں ان پر فرد جرم عائد نہیں کی گئی ہے۔ شہیدہ زہرہ صالح محمد "الدیہ نامی" قصبے کی رہائشی تھیں جہاں آل خلیفہ اور آل سعود کے گماشتوں نے اٹھارہ نومبر 2011 کو حملہ کرکے انہیں روکا اور ایک آہنی سلاخ ان کے سر پر دے ماری جو کھوپڑی کو سوراخ کرکے چھ انچ تک سر میں گھس گئی اور خلیفی درندوں نے کئی گھنٹوں تک انہيں اسپتال منتقل نہیں ہونے دیا اور جب اسپتال منتقل ہوئیں تو کومے میں چلی گئی اور اسی حال میں آپریشن کرکے ان کے سر سے سلاخ نکال لی گئی لیکن وہ جانبر نہ ہوسکیں اور جام شہادت نوش کرگئیں اور خلیفی افواج نے ان کے خاندان کو انہیں خفیہ طور پر دفنانے پر مجبور کیا۔ خلیفیوں نے ان پر اس وحشیانہ اور غیرانسانی حملے میں اپنے اہلکاروں کے ملوث ہونے کی حقیقت کو بے جا الزام قرار دیا لیکن تصاویر اور ویڈیو کلپس نے خلیفی جھوٹ کو برملا کردیا۔آل خلیفہ نے اس تنہا لڑکی کے قتل کو عوام پر تھونپنے کی بھی کوشش کی لیکن سوال یہ ہے کہ پھر ان کو خفیہ طور پر دفنانے کا جواز کیا تھا۔زہراء صالح محمد یتیم لڑکی تھیں جن کا نہ کوئی بھائی تھا اور نہ ہی کوئی بہن؛ والدین انتقال کرچکے تھے اور اپنی دادی کے ہاں رہتی تھیں۔زہراء صالح محمد بحرین کے ایک سنی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں اس کے باوجود ان کے اہل خاندان نے ان کی میت تحویل میں لینے کی کوشش کی تھی تو انہیں خالی ہاتھ واپس کردیا گیا۔ 14 فروری انقلابی اتحاد نے شہیدہ کی تدفین کے لئے جلوس جنازہ کا انتظام بھی کیا تھا لیکن حکومت نے اس کو خفیہ طور پر دفنا کر یہ جتانے کی کوشش کی کہ بحرین کا انقلاب شیعہ انقلاب ہے اور اس میں سنی شریک نہیں ہیں جبکہ متعدد سنی راہنما خلیفی جیلوں میں اسی لئے قیدوبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں کہ وہ خلیفی بادشاہت کے خلاف شروع ہونے والے قومی انقلاب کا حصہ ہیں۔خلیفی عدالت نے 12 سال سے کم تین بچـیوں کو قید کی سزا سنائی ہے کیونکہ انھوں نے اپنی ماؤں کے ساتھ مظاہرے میں شرکت کی تھی!!
ــ سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کا خطرناک منصوبہابھی آل خلیفہ کی استبدادی حکومت کے خلاف بحرینی عوام کے قومی اور اسلامی انقلاب کی سالگرہ سے چند ہی روز گذرے ہیں اور اسی اثناء میں بعض انکشاف ہوا ہے کہ آل سعود اور آل خلیفہ کے درمیان سعودی عرب سے بحرین کے الحاق کی سازش پر کام ہورہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کے ایک محقق محمد السعیدی نے آل سعود اور آل خلیفہ کی اس خیانت کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ "بحرین ایک چھوٹا ملک ہے اور اس کے تیل کے ذخائر ختم ہوچکے ہیں اور اس کو ایک بڑے ملک کے سہارے کی ضرورت ہے تا کہ اس ملک کے سرپرست اور حامی کا کردار ادا کرے۔محمد السعیدی نے دعوی کیا کہ اس طرح بحرین میں روزگار کے وسیع مواقع فراہم ہونگے اور اس ملک میں وسیع سرمایہ کاری ہوسکے گی۔ انھوں نے آل سعود کے ایک وسیع تر منصوبے اور علاقے پر سعودی وہابیت کے تسلط کے سلسلے میں بات چیت کرتے ہوئے کہا: خلیج فارس تعاون کونسل کو اب کنفیڈریشن میں بد