17 فروری 2012 - 20:30

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی کے خط کا خیر مقدم کیا ہے۔

ابنا: سعید جلیلی نے گزشتہ ہفتے کیتھرین ایشٹون کے خط کے جواب میں ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے گروپ پانچ جمع ایک اور ایران کے مذاکرات کے سلسلے میں یورپی یونین کے رجحان کا خیر مقدم کیا تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلییری کلنٹن نے سعید جلیلی کے خط کو اہم قرار دیتے ہوۓ کہا ہے کہ ہم اس خط کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

کیتھرین ایشٹون نے سعید جلیلی کے خط کو عالمی پابندیوں کے موثر ہونے کا عکاس بھی قرار دیا ہے۔ ہلیری کلنٹن نے بھی ایران کے جواب کو ویسا ہی جواب قرار دیا ہے جس کو گروپ پانچ جمع ایک توقع کررہا تھا۔ یہ بیانات ایسی حالت میں سامنے آۓ ہیں کہ جب سعید جلیلی نے کیتھرین ایشٹون کے نام اپنے خط میں کوئي نئي تجویز پیش نہیں کی ہے۔

واضح سی بات ہے کہ تہران نے ہمیشہ مشترکہ امور میں تعاون کی بنیاد پر مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔ اور ایشٹون کے نام سعید جلیلی کا خط بھی اس اصول سے مستثنی نہیں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اس سے پہلے بھی مثبت زاویۂ نگاہ کے ساتھ جنیوا اور استنبول مذارکرات میں شریک ہوا تھا۔ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان جامع مذاکرات ترکی کے شہر استنبول میں گزشتہ سال جنوری کے مہینے میں ہوۓ تھے۔

استنبول مذاکرات یورپ کے لۓ مقابلے کی پالیسی کو تعاون اور اشتراک کی پالیسی میں تبدیل کرنے کے لۓ ایک اچھا موقع تھا لیکن امریکہ اور مذاکرات کے بعض دوسرے فریقوں کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی اور ان کی جانب سے غیر معقول مواقف پر اصرار کۓ جانے کی وجہ سے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ ان تمام اقدامات کے باوجود ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری کی جانب سے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کمیشن کی سربراہ کے نام واضح خط لکھےجانے سے ایک بار پھر یہ بات ثابت ہوگئی ہےکہ ایران مشترکہ امور کی بنیاد پر مذاکرات کے از سر نو آغاز کے لۓ تیار ہے البتہ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین خود اختلافات کا شکار ہیں۔

ایران نے اعتماد سازی اور مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیوں پر ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی آئي اے ای اے کی نگرانی بھی بدستور جاری ہے۔ اس لۓ ایران اور ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے مثبت تعاون نیز چین اور روس کی جانب سے امریکہ کی یکطرفہ پابندیوں کی پالیسی کی مخالف کۓ جانے کی وجہ سے یورپ کے لۓ ایران کے خلاف کوئي بہانہ حاصل کرنا مشکل ہوچکا ہے۔

ان امور کے پیش نظر اشٹون کے بیانات کے دو پہلو ہیں۔ اول یہ کہ ان کے بیانات میں ایک جانب ایران کے ساتھ گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے از سو نو آغاز کے رجحان کا اظہار کیا گيا ہے اور دوسری جانب ان بیانات میں ایران کے جواب کے بارے میں بعض شکوک کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ اپنے اس رویۓ کے ذریعے ایران کو ممکنہ مذاکرات میں ایک کمزور پوزیشن میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔ جیسا کہ اس نے گزشتہ آٹھ برسوں میں مختلف بہانوں کے ذریعے راۓ عامہ کو گمراہ کرنےکی کوشش کی ہے تاکہ ظاہر کر سکےکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں پرامن نہیں ہیں۔

واضح ہے کہ جیسا کہ سعید جلیلی نےاپنے خط میں لکھا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس بات کا خیر مقدم کرتا ہے کہ مذاکرات کے فریق نے مذاکرات کے صیحیح راستے کا انتخاب کیا ہے لیکن واضح ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونےکے لۓ ضروری ہے کہ ماضی کی غلط اسٹریٹیجی کو چھوڑ دیا جاۓ۔ ........

/169