ابنا: مذاکرات ميں پاکستاني وفد کي قيادت وزير اعظم سيد يوسف رضا گيلاني جب کہ افغان وفد کي قيادت صدر حامد کرزئي نے کي. پاکستاني وفد ميں آرمي چيف ، وزير دفاع، وزير خارجہ ، وزير داخلہ ، وزير اطلاعات ، وزير سيفران اور مشير پيٹروليم شامل تھے جب کہ افغان وفد ميں دفاع ، خارجہ اور تجارتي امور کے وزرا اور سينئر حکام شريک تھے.
مذاکرات ميں سرحدي سيکيورٹي موثر بنانے کے ليے دو طرفہ انٹيلي جنس اور سيکيورٹي تعاون بڑھانے اور افغان مسئلہ کے حل کے ليے سنجيدہ کوششيں جاري رکھنے پر اتفاق کيا گيا.افغان صدر نے پاکستاني حکام کو طالبان گروپس کے ساتھ ہونے والي بات چيت پر اعتماد ميں ليا. وزيراعظم گيلاني نے کہا کہ مستحکم افغانستان ہي پاکستان کے مفاد ميں ہے . اس سے پہلے وزيراعظم ہاو?س ميں وزيراعظم گيلاني اور افغان صدر حامد کرزئي کے درميان ون آن ون ملاقات بھي ہوئي جس ميں دو طرفہ تعلقات اور خطے کي صورتحال پر تبادلہ خيال کيا گيا. .....
/169