13 فروری 2012 - 20:30

اسلام آباد…وفاقي کابينہ نے بيسويں ترميم کا مسودہ منظور کرليا ہے.

ابنا: حکومت اور اپوزيشن اتفاق رائے ہونے کے بعدبيسويں آئيني ترميم کا نيا متفقہ مسودہ گزشتہ ہفتے تيار کيا گيا ، اس پر غور کے بعد وفاقي کابينہ نے آج اُس کي منظوري بھي دي، توقع ہے کہ اسے آج شام قومي اسمبلي ميں منظوري کيلئے پيش کيا جائے گا.

قومي اسمبلي ميں آج پرائيويٹ ممبر ڈے ہے تاہم ايجنڈا ميں بيسيويں ترميم کي منظوري کو بھي شامل کردياگيا ہے، نامکمل اليکشن کميشن کے تحت ہونے والے ضمني انتخابات کو قانوني تحفظ دينے کے ليے آئين ميں بيسويں ترميم متعارف کرائي گئي.

اس کي متفقہ منظوري کے ليے حکومت نے اپوزيشن سے مذاکرات کيے تو اس ميں مزيد تراميم کے مطالبات حکومت کے سامنے رکھ ديے گئے. مجوزہ آئيني ترميم ميں طے پايا ہے کہ نگران حکومت کے قيام کے ليے وزير اعظم اور قومي اسمبلي ميں اپوزيشن ليڈر نام تجويز کريں گے جبکہ حکمران اور اپوزيشن جماعت کے تين تين رہنما ان ناموں کا جائزہ لے کر اتفاق رائے پيدا کريں گے.

اگر اتفاق رائے نہ ہوا تو نام ايک اور چھ رکني کميٹي کو بھجوائے جائيں گے. اس کے علاوہ اليکشن کميشن کے ارکان کي مدت 5 سال کرنے اور ان سے حلف لينے کے معاملے پر بھي اتفاق ہوا ہے. .......

/169