اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انقلاب کرامت کی پہلی سالگرہ آج بحرین میں منائی جارہی ہے اور عوام نے میدان اللؤلؤہ یا میدان الشہداء میں جاکر یہ مراسمات منانے کے لئے انتظامات مکمل کرلئے ہیں۔ کل رات کو موصولہ اطلاعات کے مطابق آل سعود کے تازہ دم جارح دستوں کی آمد اور آل خلیفہ کے کرائے کے بیرونی جلادوں کی ریڈ الرٹ کے باوجود عوام نے اپنی تحریک کو دوچند شدت بخشی ہے۔بحرین کی عمومی صورت حال کے حوالے سے رپورٹیں ملاحظہ فرمائیں:ــ بحرین: آل خلیفہ سے بحرینی عوام کا خوف زائل ہوچکا ہے14 فروری 2011 کو شروع ہونے والے بحرینی انقلاب کرامت کے ثمرات میں سے ایک یہ ہے کہ بحرینی عوام اب آل سعود اور آل خلیفہ سمیت آل خلیفہ کے تمام حلیفوں اور آقاؤں اور کرائے کے بیرونی قاتلوں سے نہیں ڈرتے اور وہ آج موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میدان عمل میں حاضر و موجودہ ہیں۔ ایک بحرینی قانوندان نے کہا کہ ایک سال کے دوران تمام تر دباؤ اور قتل و غارت کے باوجود لوگوں کی بامقصد استقامت اور جائز مطالبات پر ان کا بجا اصرار روز بروز شدید سے شدیدتر ہوگیا ہے اور آج آل خلیفہ خاندان کو ایک سال قبل کی نسبت بے شمار چیلنجوں اور خطروں کا سامنا ہے۔ عباس العمران نے مزید کہا: 14 فروری کے نوجوانوں نے ایک ایسے نظام بادشاہت کے پیروں سے زمین کھینچ لی جس نے عوام کے مطالبات کو کچلنے کے لئے زور زبردستی اور جبر و تشدد کا سہارا لیا۔ انھوں نے کہا: آج بحرین میں پرانا فارمولا ناکارہ ہوچکا ہے اور آل خلیفہ کی فوجی قوت عوام کے سامنے بےوقعت ہوچکی ہے۔ العمران نے کہا: گذشتہ سال کے دوران آل خلیفہ خاندان نے عام عدالتی کاروائیاں فوجی عدالت کے سپرد کردیں اور اس عدالت نے تشدد کی انتہا کرتے ہوئے عوام کو پھانسیوں اور عمر قید کی سزائیں سنائیں، آل خلیفہ خاندان نے کرائے کے بیرونی قاتلوں سے پولیس اور فوج تشکیل دی اور دوسری طرف سے آل سعود کو بحرین پر فوجی جارحیت کرنے کی ترغیب دلائی اور تمامتر ذرائع ابلاغ کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کی بھرپور کوششیں کیں لیکن انقلاب بحرین کے تسلسل نے ان تمام سازشوں کو ناکام بنایا اور آل خلیفہ کے تمام اقدامات آخرکار 14 فروری کے انقلابیوں کی استقامت اور پر امن جدوجہد کے سامنے اپنا رنگ ڈھنگ کھوگئے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ حکومت 14 فروری کو ہونے والے ہر احتجاج کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا لیکن بحرینی عوام آل خلیفہ کی اس طرح کی دھمکیوں کو کوئی وقعت نہیں دیتے۔ آل خلیفہ کے اہلکاروں نے ان دنوں دھمکیاں تیز کردی ہیں لیکن یہ دھمکیاں اب عوام کو خوفزدہ نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنے انقلاب کو جاری رکھنے کے لئے پر عزم ہیں۔ العمران نے کہا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ انقلابیوں کی استقامت آل خلیفہ کو مشتعل کررہی ہے اور میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کون ہے جو دوسروں کو مشتعل کررہا ہے؟ آل خلیفہ حکومت یا عوام؟ کیا نہتے عوام پر گولی چلانے جیسے اقدامات اشتعال انگیز نہیں ہیں؟ کیا مساجد کی شہادت اور نوامیس کی بے حرمتی اور لوگوں کے گھروں میں آنسو گیس اور زہریلی گیس کے گولے پھینکنا، اشتعال انگیز نہیں ہے؟ کیا رہائشی علاقوں پر آل خلیفہ سے وابستہ بیرونی غنڈوں کے حملے اشتعال انگیز نہیں ہیں؟ سوال تو یہ ہے کہ ملت بحرین کی طرف سے بیان کی آزادی کا مطالبہ اشتعال انگیز کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اور شہر کے ایک خاص اسکوائر جیسے لؤلؤہ اسکوائر پر عوام کا دھرنا اشتعال انگیز کیوں سمجھا جاتا ہے؟
ــ بحرین کا سیاسی میدان عوام کے ہاتھ میں ہےبحرین کا سیاسی عمل آج آل خلیفہ کے مخالفین کے کنٹرول میں ہے اور اس خوشگوار حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے سیکورٹی اقدامات اور جبر و تشدد کی پالیسیاں ناکام ہوچکی ہیں۔اطلاعات کے مطابق جمعیۃ العمل الاسلامی کے رکن ہشام الصباغ نے پیر کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: آل خلیفہ حکومت کے مخالفین نے بحرین کی سیاسی صورتحال کو اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور ملک کی تمامتر سیاسی سرگرمیاں مخالفین کے ہاتھ میں ہے اور ملک کے تمام چوک اور تمام اسکوائرز پر عوام ہی عوام نظر آرہے ہیں اور یہ ایسی حقیقت ہے جس کو آل خلیفہ کے بادشاہ سمیت کوئی بھی چھپا نہیں سکتا۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کے بادشاہ نے حال ہی میں جرمن جریدے اشپیگل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ملک میں مخالفتوں کی موجودگی کا اعتراف کیا ہے۔ انھوں نے کہا: بحرین کے سیاسی عمل پر مخالفین کے تسلط نے آزادی کی تحریک کا ایک سال گذرنے پر، آل خلیفہ کے جاسوسی ایجنسیوں اور فوج اور بیرونی جارحین کو بھاری شکست سے دوچار کیا ہے اور آل خلیفہ کی حکومت عوام کو ان کے مطالبات سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرسکی ہے بلکہ عوام کے مطالبات روز بروز وسیع تر ہوگئے ہیں۔الصباغ نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت متعدد غلطیاں کرچکی ہے لیکن ان غلطیوں سے سبق لینے کی اہلیت بھی کھوچکی ہے چنانچہ اب بھی وہ حماقتوں کا ارتکاب کررہی ہے؛ اور سب سے بڑی حماقت یہ ہے کہ آل خلیفہ کی مطلق العنان حکومت سیاسی راہ حل کے لئے راستہ ہموار کرنے کی غرض سے گولی کا سہارا لے رہی ہے۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ سے وابستہ ذرائع ابلاغ بحران کو سیاسی گفتگو کے ذریعے حل کرنے کے دعوے کررہے ہیں لیکن آل خلیفہ کے گماشتے اسی حال میں سڑکوں پر عوام کے خلاف تشدد آمیز کاروائیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں؛ وہ پرامن مظاہرین کو گولیوں کا نشانہ بناتے ہيں اور خواتین کو گرفتار کرتے ہيں۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے حال میں انسانی حقوق کے شعبے میں فعال امریکی خواتین کو نہ صرف کام نہیں کرنے دیا بلکہ انہیں گرفتار کرکے کئی گھنٹے حبس بے جا میں رکھا اور پھر انہیں ملک بدر کردیا۔انھوں نے کہا: آل خلیفہ حکومت نے ملک کو پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کردیا ہے۔انھوں نے کہا: ملت بحرین کا پیغام یہ ہے کہ وہ استبداد، آمریت اور مطلق العنانیت سے تھک ہار گئی ہے اور یہ حکومت مزید برقرار نہیں رہ سکے گی۔
ــ بحرین: بحرینی عوام کی لغت میں پسپائی کا لفظ نہیں ہےبحرینی عوام کی لغت میں پسپائی کا لفظ نہیں پایا جاتا بحرین کے عوام 14 فروری کو میدان اللؤلؤہ میں لوٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کی اپوزیشن کے اورسیز دفتر کے رکن نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی عوام کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات سے پسپا ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی لغت میں پسپائی کا لفظ نہيں پایا جاتا چنانچہ عوام آج منامہ کے میدان اللؤلؤہ لوٹ کر وہاں دھرنا دینے اور اپنی تحریک کی پہلی سالگرہ شان و شوکت منانے کے لئے پرعزم ہیں۔ 14 فروری 2012 کو بحرین کے عوامی انقلاب کی پہلی سالگرہ منائی جارہی ہے، اس انقلاب کے لئے بحرینیوں نے اب تک 70 شہیدوں کی قربانی دی ہے اور آل خلیفہ اور آل سعود نے مل کر وہابی اور خلیفی تشدد کے تمام حربے آزما لئے ہيں اور انہیں امریکی و اسرائیلی نیز برطانوی حمایت بھی حاصل ہے اور لندن کا ایک سابق پولیس چیف عوام کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ لیکن انقلابی تحریک جاری ہے جس کی زندہ مثال یہی ہے کہ بحرینی عوام مایوس ہوکر گھروں میں دبکنے کی بجائے ہنوز سڑکوں پر ہیں اور آج 14 فروری کو اسی اسکوائر میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سے انھوں نے ایک سال قبل اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا۔ بیرون ملک تعینات اپوزیشن کے دفتر کے رکن "ابراہیم المدہون" نے کہا کہ بحرینی عوام کے حوصلے بہت بلند ہیں اور ان مجاہد عوام کی لغت میں پسپائی کا لفظ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اور وہ اپنے تما مطالبات پر عملدرآمد ہونے تک چین سے بیٹھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ انھوں نے کہا: بحرینی عوام کی استقامت نے حکومت کی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں چھین لی ہیں اور خلیفی گماشتوں کے مختلف اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کے انقلابی حربوں نے آل خلیفہ کے کرائے کے غنڈوں کو بے بس کردیا ہے اور آل خلیفہ حکومت عوام کی پیہم پرامن جدوجہد سے عاجز آگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کے خلاف عوامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا بھر میں خلیفی سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کئے جائیں گے؛ مختلف ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیئے جائیں گے، المنار سیٹلائٹ چینل پر ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جائے گا جس میں آل خلیفہ کے مخالف راہنما شرکت کریں گے۔ انھوں نے ان دعووں کو مسترد کیا کہ میدان اللؤلؤہ میں عوامی مظاہرہ بحرینی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ بحرینی عوام کا مسلمہ حق ہے کہ اس میدان میں اکٹھے ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کریں، ریلیاں نکالیں اور دھرنا دیں۔ انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا ہے حالانکہ 1973 اور 2002 میں منظور شدہ سول قانون کے مطابق، عوام اقتداراعلی کا سرچشمہ ہيں لیکن آج دنیا دیکھ رہی اور ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ آل خلیفہ کی حکومت اور اس سے وابستہ ادارے ملک کے تمام ادارے ملت پر رحم نہیں کرتے چنانچہ یہ حکومت ایک ناجائز حکومت ہے جس کو جلد از جلد سرنگوں ہونا چاہئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110