ابنا: يوناني کابينہ نے يورپي يونين اور آئي ايم ايف سے 171 ارب ڈالر کے بيل آؤٹ پيکيج کے عوض اْن کے مطالبات کے مطابق جمعہ کو بچت کے سخت ترين اقدامات کي منظوري دي تھي. ان ميں کم از کم تنخواہ ميں 22 في صد کمي اور 15 ہزار سرکاري ملازمين کو فارغ کرنے کي تجاويز بھي شامل ہيں.
اس سلسلے ميں بل پر پارليمنٹ ميں بحث کے دوران ايتھنز ميں ايک لاکھ افراد اور تھيسا لونيکي ميں 20 ہزار افراد نے احتجاجي مظاہرے کئے. ايتھنز ميں مظاہرين نے پارليمنٹ کے باہر پوليس کا پہرا توڑنے کي کوشش کي تو شديد جھڑپيں ہوئيں اور پارلیمنٹ کے اطراف کا علاقہ ميدان جنگ بن گيا .
مظاہرين نے پوليس پر پتھراؤکيا اور بوتليں پھينکيں جبکہ پوليس نے آنسو گيس کي شيلنگ کي. مظاہرين نے پٹرول بموں کے ذريعے دس عمارتوں کو بھي آگ لگادي. دوسري جانب يوناني وزير اعظم اور وزير خزانہ نے پارلیمنٹ ميں خطاب کے دوران کہا کہ يونان تباہي کے دہانے پر کھڑا ہے اور بل کي منظوري ضروري ہے.
ملک کو برے اور بدترين ميں سے کسي ايک کا انتخاب کرنا ہے اور بدترين سے بچنے کے لئے برے کا انتخاب کرنا ہوگا. واضح رہے کہ یورپی میں شدید اقتصادی بحران جاری ہے جس سے یونان ، اٹلی اور اسپین زيادہ متاثر ہوئے ہیں۔ اور اس کے دوسرے یورپی ممالک پر بھی منفی اثرات پڑےہیں۔........
/169