6 فروری 2012 - 20:30

اپنے پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں۔

ابنا: علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی اور ان کے موقف کی ترجمانی پاکستانی قوم کا فریضہ اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ لہذا اس فریضے کی ادائیگی کے لئے ہم 5 فروری کو اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ منا رہے ہیں۔

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے لئے آئے روز نئے حل سامنے لائے جا رہے ہیں، کبھی پاک بھارت مذاکرات، کبھی بیک ڈور ڈپلومیسی، کبھی بیرونی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت یا ثالثی، کبھی تقسیم کشمیر، کبھی چار نکاتی فارمولے، کبھی عوامی، ثقافتی اور سپورٹس دوستی اور دیگر انداز میں مسئلہ کشمیر حل کرنے کے راستے تلاش کئے جا رہے ہیں، لیکن اس وقت تک کوئی حل قابل قبول اور قابل نفاذ نہیں ہو گا جب تک پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ مسئلہ کشمیر کے تیسرے فریق یعنی کشمیری عوام کو اس عمل میں شامل کر کے کلیدی کردار نہیں دیا جاتا کیونکہ کشمیری عوام کی رائے ہی اہمیت کی حامل ہے۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ بھارت کو یک طرفہ اور جانبدارانہ پالیسیاں اور جارحانہ طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرتے ہوئے سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے اور مذاکرات سے پہلے کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنا کر مذاکرات کے لئے ماحول کو سازگار بنانا چاہیے، مقبوضہ کشمیر میں اپنی افواج میں کمی کرنی چاہیے، تشدد کا راستہ ترک کرنا چاہیے تاکہ دنیا پر واضح ہو جائے کہ بھارت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے۔ اس ماحول کے بعد مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوں گے اور کوئی قابل عمل حل نکل سکے گا۔

علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستانی حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے موقف اور جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دیں، قومی موقف سے روگردانی اور یو ٹرن پالیسیوں سے کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہ ہونے دیں، کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام سے کرائیں اور مذاکرات کے عمل میں تمام کشمیری جماعتوں اور طبقات کو نمائندگی دیں، کسی ایک گروہ یا طبقے کی حمایت کر کے کشمیر کی تحریک آزادی کو منتشر اور کمزور نہ کریں اور عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پیش کر کے عالمی اداروں کو قائل کریں کہ وہ بھارت کو مسئلہ کشمیر حل کرنے پر مجبور کریں۔

...............

/169