5 فروری 2012 - 20:30

جنگی قیدیوں کے ساتھ آنحضور ص نے ایسا سلوک روا رکھا کہ ان کے دلوں میں اخلاق حسنہ کی دھاک بیٹھ جاتی۔ وہ جب رہا ہو کر اپنی قوم و قبیلہ میں چلے جاتے تو اُن کی زبانیں مرسل اعظم ص کی مدح طراز ہو جاتیں،

ابنا:  غزوہ بدر میں عرب کے چند پڑھے لکھے افراد بھی اسلامی فوج کے ہاتھوں قید ہوئے۔ چنانچہ ان کی رہائی کیلئے یہ شرط رکھی گئی کہ وہ اپنے علوم سے مسلمانوں کو بھی مستفید کریں گے۔ قید سے رہائی کا یہ انوکھا فدیہ عالموں کی قدر دانی کی بے نظیر مثال ہے۔ حضور ص گویا اپنی پیروکاروں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ عالم چاہے غیر مسلم ہو یا مسلمان، قیدی ہو یا آزاد اس کی عزت و تکریم ہر حالت میں ہونی چاہیے۔

تلوار کے بل پر ملک گیری کی ہوس ان حکمرانوں کے دلوں پر راج کرتی ہے جو تسخیرِ قلوب کے ہنر سے نابلد ہوں۔ جس فرد بشر کو اپنی پرکشش شخصیت پر پورا بھروسہ اور اپنے بے لاگ مشن پر کامل یقین ہو، اُسے اپنی بات منوانے کیلئے قوتِ بازو ہی اولین اور واحد ذریعہ کے طور استعمال کرنے کی مجبوری لاحق نہیں ہوتی، محض طاقت کے ذریعے ہی کسی نظریہ، عقیدہ اور مشن کو دوسروں پر تھوپنا، بذاتِ خود اس کی کمزور بنیاد کی علامت ہے۔ باوجود اسکے کہ ہادیانِ برحق بے حد آرزو مند ہوتے ہیں کہ ان کا پیغام نہ صرف خاص و عام کے گوش گزار ہو بلکہ عالمِ انسانیت اس پر عمل پیرا ہو، ان پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ طوعاً و کرہاً ہر فردِ بشر ان کے پیغام کو تسلیم کر کے عملائے۔ تاریخِ انسانیت اس بات کی گواہ ہے کہ حق پرستوں نے ہمیشہ سے ہی اپنی آواز دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کیلئے صاف و شفاف ذرائع اور فطری طریقۂ کار اپنایا۔ چنانچہ انکا پیغام سراسر امن و سکون کا ضامن ہوتا ہے۔ لہذا اسکی تبلیغ و اشاعت کے سلسلے میں جنگ و جدل کی راہ اپنانا اس پیغام کے برعکس ہو گا۔ خود ذاتِ حق کو بھی منظور نہیں ہے کہ اسکا پیغام بزورِ بازو تسلیم کروایا جائے۔ اگر ایسا ہوتا تو زیر دستوں کے بجائے زبر دستوں کو پیغمبری کا منصب عطا کیا جاتا، مرسل اعظم ص کو بچپن ہی میں یتیمی کے مشکل ترین مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا، بلکہ وراثتاً ایک حکومت آپ ص کے زیرِنگین ہوتی۔ اس تناظر میں چند ایک غیر مسلموں کا سیدالمرسلین ص پر یہ بہتان باندھنا کس قدر بعید از حقیقت ہے کہ آپ ص نے دینِ اسلام کی ترویج و اشاعت کیلئے طاقت کا استعمال کیا۔

پوری حیاتِ طیبہ کے دوران ایک آدھ واقعہ بھی تاریخ میں درج نہیں ہے جس سے یہ الزام پایۂ ثبوت کو پہنچے کہ صدرِ اسلام میں غیر مسلموں کے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں۔ نبی رحمت ص عہدِ طفلی سے ہی سرزمینِ عرب میں رہ رہے انسانوں کی حالتِ زار پر فکر مند تھے۔ نہ صرف خود بھی قبائلی جنگوں سے مجتنب رہے بلکہ ’’حربِ فجار‘‘ کو ختم کرنے کا تہیہ بھی کیا  اور اس سلسلے میں کئی کوششیں کیں۔ جن میں ’’حلف الفضول" قابل ذکر ہے، یعنی دعوتِ اسلام سے قبل بھی انسانیت کا یہ سب سے بڑا خیر خواہ کشت و خون سے سخت متنفر تھا۔ انسانی جانوں کا زیاں انکی کریمانہ طبیعت پر گراں گزرتا تھا۔ اس تمیز کے بغیر کہ مرنے والا کس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے اور کون سے عقیدے پر یقین رکھتا ہے، قبائلی جنگوں اور غیر انسانی رسوم کی آگ میں انسانیت کو سلگتے دیکھ کر چین سے کیوں کر بیٹھتے۔ جب کہ آپ ص پوری انسانیت کو دنیاوی اور اخروی بربادی سے نجات دلانے والے آئے تھے۔ زیرِبحث موضوع کے اعتبار سے حیاتِ طیبہ کا مطالعہ تین ادوار میں کیا جا سکتا ہے۔ دورِ اول عہد طفلی سے لیکر اعلانِ بعثت تک کا احاطہ کرتا ہے۔ اس دور کے حالات کا اشارۃً تذکرہ ہوا ہے۔ مزید چند واقعات کا حوالہ دیکر یہ بات ثابت کی جا سکتی ہے کہ نہ صرف بچپن سے ہی آپ ص بلالحاظِ رنگ و نسل ہر فردِ بشر کے واسطے کریم و شفیق تھے۔ بلکہ آپ ص سے جان و پہچان رکھنے والا ہر شخص آپ ص کے غیر معمولی صفات و کمالات کا قائل تھا۔ مگر طوالت کے پیشِ نظر بیان کردہ چند باتوں پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔ البتہ اگلے دو ادوار کا تذکرہ موضوع کے لحاظ سے کافی توجہ طلب ہیں۔

دوسرا دور اعلانِ نبوت کے بعد کسمپرسی کے ان ایام پر مشتمل ہے کہ جن ایام میں مشرکینِ مکہ اور کفارِ قریش نے آپ ص پر ظلم و زیادتی کے پہاڑ توڑے اور اس صابر پیغمبر ص نے بھی صبر و شکیبائی کی تمام ممکنہ جہات کو اپنی سیرت کے چراغ سے روشن کیا۔ مظالم پر مظام ڈھائے گئے مگر حرفِ اف تک زبان پر جاری نہ ہوا۔ چنانچہ غزوہ احد میں جب عتبہ ابنِ ابی وقاص نے آپ ص پر ایک پتھر پھینکا، جس سے آپ ص کے دندانِ مبارک شہید ہوئے اور ایک پتھر پیشانی مبارک پر جا لگا۔ شکستہ دندانِ مبارک کا کرب اور زخمی پیشانی پر رستے ہوئے پاک لہو سمیت جب بارگاہِ خداوندی میں حاضر ہوئے تو توقع کے عین مطابق نہ ہی اس جابِر و جارح قوم کے حق میں بدّعا کی اور نہ ہی شکایت کا لہجہ اختیار کیا، بلکہ برعکس اس کے ان شقی ترین دشمنوں کی ہدایت و بخشش کیلئے دعا کی۔

جسکو تاریخ نے ان الفاظ میں محفوظ کر لیا ہے۔ ’’رب اغفرلی قومی فانھم لایعلومون‘‘ خدایا! میری قوم کو معاف کر دے کیونکہ یہ جاہل و نادان ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ دعا غیر مسلموں میں سے انتہائی متشدّد مخالفین کے حق میں کی گئی ہے۔ نیز ان درپۂ آزاد افراد کو بھی رسول اﷲ ص نے اپنی طرف نسبت دی ہے۔ جس سے یہ اخذ کرنا بجا ہے۔ کہ رسالت مآب ص کی نظرِ رحمت سب پر یکساں ہے۔ آفتابِ نبوّت کا نورِ اسلام بلاامتیاز مسلم و غیر مسلم تمام عالم پر ساطع ہے۔ اب اگر کوئی چشمِ قلب کو ہی موند دے تو یہ اسکے اپنے ہاتھوں مسلط کی گئی بدبختی ہے، بارگاہِ رسالت میں غیریت کا کوئی شائبہ نہیں ہے۔

بطورِ انسان ہر شخص اس بارگاہ میں عزت و تکریم کا حق دار ہے۔ یہاں کے بنیادی اصولوں میں سے احترامِ آدمیت سب سے نمایاں اصول ہے۔ امن و سکون کے ماحول میں اسلام ہر ایک کیلئے امان کا ضامن تو ہے ہی، جنگی اور عسکری محاذ پر بھی آنحضور ص اپنے ساتھیوں کو زریں اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے۔ آپ نے ہر حالت میں انسانی حقوق کا پاس و لحاظ رکھا۔ ایک جنگی قیدی کے متعلق حضرت عمر نے رائے دی کہ اس کے نچلے دو دانت اُکھڑوا دیے جائیں، تاکہ آئندہ یہ شعلہ بیان خطیب بیہودہ اور لغو تقریروں سے باز رہے، تو آپ نے جواباً فرمایا ’’میں ہرگز ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا، اگر میں ایسا کروں تو خدا میرا چہرہ قیامت کے دن بگاڑ دے، اگرچہ میں خدا کا پیغمبر ہوں‘‘۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ آنحضور ص نے ایسا سلوک روا رکھا کہ ان کے دلوں میں اخلاق حسنہ کی دھاک بیٹھ جاتی۔ وہ جب رہا ہو کر اپنی قوم و قبیلہ میں چلے جاتے تو اُن کی زبانیں مرسل اعظم ص کی مدح طراز ہو جاتیں، ایک غزوہ میں عرب کے چند پڑھے لکھے افراد بھی اسلامی فوج کے ہاتھوں قید ہوئے۔ چنانچہ ان کی رہائی کیلئے یہ شرط رکھی گئی کہ وہ اپنے علوم سے مسلمانوں کو بھی مستفید کریں گے۔ قید سے رہائی کا یہ انوکھا فدیہ عالموں کی قدر دانی کی بے نظیر مثال ہے۔ حضور ص گویا اپنی پیروکاروں کو یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ عالم چاہے غیر مسلم ہو یا مسلمان، قیدی ہو یا آزاد اس کی عزت و تکریم ہر حالت میں ہونی چاہیے۔ رسول کریم ص کی زندگی کا تیسرا اور آخری دور ایسا دور تھا۔ جس میں آپ ص نے ایک مضبوط اسلامی حکومت کو تشکیل دیا اس دور میں رسول اسلام ص ایک طاقتور حکمران کی حیثیت سے اُبھرے۔ جہاں اول الذکر ادوار میں بے سرو سامانی کا عالم تھا اور اسی بے سروسامانی کے عالم میں اپنے چند رفقاء کے ساتھ مخالفین کی ریشہ دوانیوں اور زیادتیوں پر صبر کرتے رہے۔ وہاں اس مواخرالذکر دور میں موقع فراہم ہوا تھا کہ اُن تمام سرکشوں کی ناک میں نکیل ڈال دیتے جنہوں نے اس عظیم ہستی پر طرح طرح کے مظالم روا رکھے تھے۔ آپ اگر چاہتے تو ایک ایک لمحے کا حساب لے لیتے، جو آپ نے مشرکین کے مسلط کردہ مصائب و آلام میں گزارے، فوجی قوت کے ذریعے عالم کفر و شرک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے، مگر یہاں پر بھی آپکی کرم نوازی اور عفو و درگذر کی عظیم صفت کام کر گئی۔ یتیم و بے سہارا عبداللہ کے بیٹے اور تاجدار عجم و عرب کے اخلاق میں ذرا برابر بھی تبدیلی دیکھنے کو نہ ملی۔ آپ نے عام حکمرانوں کی طرح غالب آتے ہی اپنے مغلوب دشمنوں کے مال وجان کو پیروں تلے نہیں روندا بلکہ تمام غیر مسلموں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا کہ اُنہیں احساس ندامت کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آیا۔

فتح مکہ کا واقعہ اس بات کے ثبوت کیلئے کافی ہے، جب مکہ پر اسلام کی فتح مندی کا پرچم لہرایا گیا اور وہ تمام کے تمام متکبر اشخاص انتہائی لاچاری کے عالم میں سرجھکائے دربار رسالت مآب ص میں بحیثیت مجرم کھڑے تھے۔ جنہوں نے اسی مکہ میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کیا تھا۔ اگرچہ ان مجرموں کے اذہان میں انجام دیئے گئے ظالمانہ کارنامے ایک مرتبہ پھر گردش کرنے لگے تھے لیکن مقام حیریت یہ ہے کہ ان شقی ترین افراد کو بھی حضرت محمد مصطفٰی ص کی رحم دلی پر پورا یقین تھا۔ ہندہ (جگر خوارِ سید شہدا حضرت حمزہ ع) اور ابوسفیان جیسے بدترین دشمن بھی رحمۃ للعالمین کی نظر کرم سے ناامید نہ ہوئے۔

چنانچہ حضرت ص نے ان اذیت دینے والوں سے جب پوچھا کہ آج تم ہم سے کیا توقع رکھتے ہو، تو سب نے یک زبان ہو کر عرض کیا کہ آپ شریف ابن شریف ہیں، بس اتنا کہا اور چپ سادھ لی۔ ان کی خاموشی بتا رہی تھی کہ وہ مزید اپنی عرض داشت اور رحم کی اپیل پیش کرنے کے بجائے آنحضور کی صوابدید کو ہی اپنے حق میں بہتر جانتے تھے۔ بالفاظ دیگر وہ جانتے تھے کہ جو رحم و کرم ہمیں دربار رسالت سے مل سکتا ہے اُس کا ہم خود بھی اندازہ نہیں کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ ص نے فرمایا کہ ’’میں تم سے وہی کہتا ہوں جو یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا۔ آج تمہارے اوپر کوئی ملامت نہیں۔ جاؤ تم سب آزاد ہو۔‘‘

فتح مکہ سے قبل مدینہ میں ایک چھوٹی سے اسلامی حکومت قائم ہوئی تھی اور بیشتر یہودی قبائل اور مسلمانوں کی اتفاق رائے کے مطابق رسول کریم ص رئیس مملکت مقرر ہوئے۔ مدینہ کے قرب و جوار میں مختلف قبائل آباد تھے، جن میں بنی نضیر، بنی قینقاع، بنی قریضہ، بنی نجار قابل ذکر ہیں۔ رسول کریم ص کے اخلاق حسنہ سے یہ لوگ ابتداً متاثر ہوئے بغیر نہ رہ پائے۔ چنانچہ انہوں نے بھی اپنے مذہب پر قائم دائم رہنے کے باوجود آنحضور کو سرپرست و نگراں تسلیم کیا۔ آپ کی عالی ظرفی، حکمت و تدبیر اور بے مثال فیصلہ سازی کی قوت سے متاثر ہو کر یہودیوں نے ایک مشروط درخواست آنحضور کے حضور میں پیش کی۔ جس میں انہوں نے گذارش کی کہ یہودی قبائل کے درمیان آپسی تنازعات کا حل آپ کی نگاہ عقدہ کشا سے ہی ڈھونڈ نکالا جائے۔ مگر یہ حل یہودیوں کے مذہبی صحیفہ یعنی توریت کی تعلیمات کے عین مطابق ہو۔

چنانچہ آزدئ ضمیر کے اس عظیم علمبردار نے یہود کی یہ درخواست شرط سمیت قبول فرمائی اور مختلف اوقات ان کی آپسی چپقلش و رنجش کو رفع دفع کیا۔ سید امیر علی اپنی کتاب ’’The Spirit of Islam‘‘ میں ایک جگہ رقم طراز ہیں کہ’’مدینہ اور اس کے اطراف و جوانب میں آباد متضاد اور باہم برسرپیکار عناصر کو باہمی عہد و پیماں کے ذریعے آپ نے متحد کیا۔‘‘ اور اس سلسلہ میں کچھ ٹھوس اقدامات بھی اٹھائے۔ چند ایک معاہدوں کو مرتب فرمایا نہ صرف مسلمانوں کے دو گروہوں (مہاجر و انصار) کو برادری و مو