1 فروری 2012 - 20:30

امريکہ اور فرانس کي حکومتوں نے سنگال کے داخلي امور ميں مداخلت کرتے ہوئے اس ملک کے موجودہ صدر عبد اللہ واد سے مطالبہ کيا ہے کہ وہ آئندہ صدارتي انتخابات ميں شرکت نہ کريں-

ابنا: امريکہ اور فرانس نے سنيگال کے موجودہ صدر عبداللہ واد سے ايسي حالت ميں آئندہ انتخابات ميں حصہ نہ لينے کا مطالبہ کيا ہے کہ جب سنگال کي آئيني کونسل کے پانچ ججوں پر مشتمل بنچ نے عبداللہ واد کو تيسري بار انتخابات ميں شرکت کي اجازت دے دي ہے - امريکي وزارت خارجہ کي ترجمان وکٹوريا نولينڈ نے چھبيس فروري کو سنيگال ميں منعقد ہونے والے صدارتي انتخابات ميں عبد اللہ واد کي شرکت کو جمہوريت اور آزاد انتخابات کے تقاضوں کے منافي قرار ديا ہے - فرانس کے وزير خارجہ الين ژوپے نے بھي امريکہ کي تقليد کرتے ہوئے اميد ظاہر کي ہے کہ عبد اللہ واد سنيگال کي نوجوان نسل کو اقتدار منتقل کريں گے اور صدارتي عہدے پر باقي رہنے کي کوشش نہيں کريں گے -

امريکہ اور فرانس کے حکام کي جانب سے ان بيانات سے ، سنيگال پر دباؤ ميں اضافے کا پتہ چلتا ہے - سنيگال کے وزير خارجہ ماديکے نيانگ نے اپنے ملک ميں جمہوري عمل کے سلسلے ميں فرانس اور امريکہ کي تنقيدوں کو مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ ان کے ملک کو جمہوريت اور آئين کے سلسلے ميں دوسرے ملکوں کي ہدايات کي کوئي ضرورت نہيں ہے کيونکہ سنيگال کے عوام ووٹ دے کر اپنے ملک کے صدر کو منتخب کريں گے -

پچاسي سالہ عبد اللہ واد سن دوہزار ميں اس وقت کي بر سر اقتدار پارٹي کو شکست دے کر پہلي بار اقتدار ميں پہنچے تھے اور اس کے بعد کے صدارتي انتخابات ميں بھي انہيں کاميابي حاصل ہوئي تھي - سن دو ہزار آٹھ ميں سنگال ميں آئين ميں اصلاحات ہوئيں اور صدارتي عہدے کي مدت سات سال کے بجائے پانچ سال کردي گئي - عبد اللہ واد اپنے صدارتي عہدے کي مدت کو سن دو ہزار ايک ميں منظور شدہ آئيني اصلاحات کے تحت قبول نہيں کرتے اور ان کا خيال ہے کہ آئيني اصلاحات کي بنا پر انہيں يہ حق ہے کہ وہ پانچ سالہ مدت کے لئے دو بار صدر بنيں اور سنيگال کي آئيني کونسل نے بھي ان کے موقف کي تائيد کردي ہے - ........

/169