ابنا: عدالت نے جو آپشن ديئے ان کے مطابق 1: حلف کي وفاداري اور عدالتي احکامات کي پيروي نہ کرنے پر صدر، وزيراعظم اور وفاقي وزيرقانون کے خلاف آئيني خلاف ورزي کا مرتکب ہونے کي کارروائي کي جائے، 2: وزيراعظم، وفاقي وزيرقانون، سيکريٹري قانون کے خلاف توہين عدالت کي کارروائي کي جائے، عدالتي حکم پر عمل کرانے کيلئے آرٹيکل 187 کے تحت عدالتي کميشن قائم کرديا جائے، 4: صدر کيلئے کسي نے آرٹيکل 248 کے تحت استثني? نہيں مانگا ، کوئي ان آپشنز سے متاثر ہوتا ہے تو عدالت اسے سننے کيلئے موقع دے رہي ہے، 5: چيئرمين نيب کو نيب آرڈيننس کے تحت ہٹانے کي کارروائي کي جائے، اور 6: عدالت تحمل کا مظاہرہ کرے اور آئيني ديباچہ کے مطابق عوام کو فيصلہ کرنے دياجائے. عدالت نے ان آپشنز کے بعد اگلي سماعت ميں وزيراعظم کو توہين عدالت کا نوٹس بھي جاري کردياتھا. عدالت يہ واضح بھي کرچکي ہے کہ يہ آپشن کسي اور کو انتخاب کيلئے نہيں دئے گئے بلکہ يہ عدالت کے پاس اختيار کرنے کيلئے ہيں. .........
/169