ابنا: ہندوستان/ جموں میں : "خدمات مرجعیت اور نقش ولایت فقیہ" کے عنوان سے صرف ریاست جموں و کشمیر بلکہ پورے ملک میں اپنی نوعیت کی اولین یک روزہ عظیم الشان کانفرس منعقد ہوئی جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے علماء اور اسلامی اسکالروں کے علاوہ بیرون ملک سر زمین علم و مرجعیت اسلامی جمہوریہ ایران سے تشریف لائے ہوئے خصوصی مہمانوں نے بھی خطاب فرمائے۔ مختلف انجمنوں منجملہ حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام پونچھ کے اشتراک اور شیعہ فیڈریشن صوبہ جموں کے بھر پور تعاون سے اس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔
اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہر انسان پر اپنے زمانے کے فقیہ کی اطاعت کرنا واجب ہے۔ انہوں نے کہا ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد ولایت فقیہ جب عملی شکل میں سامنے آئی تو امریکہ ، اسرائیل اور اس کے حامیوں کی نیندیں حرام ہو گئیں اور انہوں نے انقلاب کو مٹانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی تاہم کامیابی نہ ملنے پر اب انہیں صہیونی اور طاغوتی طاقتوں نے نئے پروپگنڈے کے طور پر لوگوں کے دلوں سے مرجعیت اور ولایت فقیہ کا چراغ گل کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
کانفرس میں پوری ریاست سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے مرجعیت اور ولایت فقیہ کی تعریف کرتے ہوئے مولانا عبد الحسین نے کہا: مرجع کسی نظریہ کو پیش کرنے والے کو کہتے ہیں اور ولی فقیہ حکومتی سطح پر اس نظریہ کو نافذ کرنے والا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا: ولایت فقیہ یا دینی حکومت کا نظریہ مغربی طرز حکومت سے بالکل برعکس ہے۔ ولایت فقیہ دین و مذہب کا محور ہے اور مذہب و سیاست کے مکمل ہونے کا نام ولایت فقیہ ہے۔
اس موقعہ پر ریاست اترپردیش سے تشریف لائے ہوئے مولانا غضنفر حسین صاحب نے اپنے خطاب میں کہا: سامراجیت، صہیونیت، عیسائیت اور یہودیت نے ہر ممکنہ کوشش کی کہ نوجوانوں کو ولایت فقیہ کے لفظ سے بے بہرہ رکھا جائے لیکن ان باطل طاقتوں کو اس میں کامیابی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا: ہر حاکم ولی نہیں ہوتا لیکن ہر ولی حاکم ضرور ہوتا ہے اور حکومت کی طاقت سے سر جھکائے جا سکتے ہیں لیکن دل نہیں جھکائے جا سکتے جبکہ ولایت وہ شئے ہے جس سے لوگوں کے دل بھی جھکتے ہیں اور سر بھی جھکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: جس کی حکومت دلوں پر ہوتی ہے وہ ملکی سرحدوں میں محدود نہیں ہوتا۔ انہوں نے مزید کہا: حکومت صرف ولی امر مسلمین کا حق ہے[ بعد از امام معصوم اور نبی]۔
کانفرنس میں پہلی نشست کی صدارت کرنے والے ریاستی کابینہ کے وزیر و نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما قمر علی آخون نے کہا: حکومت ہند کو ایران سے گیس پائپ لانی چاہیے۔ انہوں نے ہندوستانی حکومت سے اپیل کی کہ ایران کے ساتھ بات چیت کر کے ہندوستان میں گیس پائپ لائن لائی جائے تاکہ یہاں گیس کے سلسلے میں پائی جا رہی قلت دور ہو سکے۔ علاوہ از این انہوں نے کہا ہر دور میں دو طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما رہی ہیں اور پہلے امریکہ اور روس ایک دوسرے کے مد مقابل تھے تو ایرانی انقلاب کے بعد امریکہ اور ایران ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا: پوری دنیا کے دباو کے باوجود بھی ایران نہیں جھک سکا ہے اور ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے کربلا کے میدان میں بہتر نفوس کی طاقت کو استعمال کر کے یزیدی فکر کو ہمیشہ کے لیے مٹا دیا۔
پہلی نشست میں مہمان ذی وقار کی حیثیت سے ایران سے تشریف لائے ہوئے امام خامنہ ای مد ظلہ العالی کے نمائندہ حجۃ الاسلام ابو الفضل حکیمی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا: ایران طاغوتی طاقتوں کے سامنے نہ کبھی جھکا ہے اور نہ جھکے گا۔ انہوں نے کہا: امام خامنہ ای فرماتے ہیں کہ جو طاقتیں اسلام کو دبانا چاہتی ہیں وہ یہ نہ سمجھیں کہ اس وقت بھی ہم شعب ابوطالب میں ہیں اور ہمارا دانہ پانی بند کر دیا جائے گا بلکہ ہم ان طاقتوں کے حملے کے جواب میں خیبر و خندق کو دھرائیں گے۔ انہوں نے کہا رہبر معظم مزید فرماتے ہیں کہ اقتصادی ناکہ بندیوں اوربموں سے نہیں ڈرتے ہم اس علی [ع] کے وارث ہیں جنہوں نے خیبر کو ایک انگلی سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ انہوں نے کہا ہم وقت آنے پر تاریخ دھرا دیں گے۔
کانفرنس کی دوسری نشست میں صدارت کے فرائض انجام دے رہے انجمن شرعی شیعیان کشمیر کے صدر آغا سید الحسن الموسوی نے کہا: دنیا میں اس وقت دو ہی بڑے نظریہ ہیں جن میں سے ایک کی سرپرستی صہیونی طاقتوں کی شکل میں امریکہ کر رہا ہے جبکہ دوسرے نظریہ کی سرپرستی ایران میں ولی فقیہ کے ہاتھ میں ہے جو سنگلاخ پہاڑوں کی مانند ڈٹ کر ان طاغوتی طاقتوں کے خلاف صف آرا ہے۔انہوں نے کہا کہ مملکت ایران میں پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن اس کے باجود بھی ایران نے ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا یہ حکومتیں اپنے مفاد کے لیے کبھی سوشلزم کا نعرہ لگاتی ہیں اور کبھی نیشنل ازم کا لیکن ایران نے تمام تر مخالفت کے باوجود تیس سال سے یہ ثابت کر دیا کہ انسانیت کی بھلائی کے لیے نہ سوشلزم کام کر سکتا ہے اور نہ نیشنل ازم بلکہ جو کچھ کر سکتا ہے وہ اسلامی انقلاب کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تیس سال سے قبل امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے جو انقلاب لایا وہ خدا کے احکام کو جاری و ساری کرنے کے لیے برپا کیا لہذا تبھی ایران پر کوئی پابندی اثر نہیں کر رہی ہے۔ اور ایران کی کامیابی کی اصلی وجہ ولایت فقیہ کی سرپرستی ہے۔
آخر میں حوزہ علمیہ امام محمد باقر علیہ السلام پونچھ کے پرنسیپل حجۃ الاسلام و المسلمین سید مختار حسین جعفری نے اپنے خطاب میں مرجعیت کی شرعی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہا: " ہمارے پاس تین ہی راستے ہیں یا تو مجتہد ہوں، یا احتیاط پر عمل کریں یا پھر کسی مجتہد کی تقلید کریں"۔ انہوں نے مزید کہا: پہلے دونوں راستے نہایت ہی مشکل ہیں اور سب سے آسان راستہ تقلید کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسلام کا نمائندہ ہے اور اس ملک نے ہرشعبہ میں سب سےزیادہ ترقی کی ہے۔




........
/110-169