اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای نے "نوجوان اور بیداری اسلامی" کانفرنس میں شرکت کے لئے 73 ممالک سے آئے ہوئے 1200 نوجوان انقلابیوں سے خطاب کیا جس کا مکمل متن قارئین و صارفین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے:
بسماللَّهالرّحمنالرّحيم الحمد للَّه ربّ العالمين و الصّلاة و السّلام على سيّد المرسلين و سيّد الخلق اجمعين سيّدنا و نبيّنا ابىالقاسم المصطفى محمّد و على ءاله الطّيّبين و صحبه المنتجبين و من تبعهم باحسان الى يوم الدّين.
آپ سب عزیز مہمانوں اور عزیز نوجوانوں اور امت اسلامی کے مستقبل کے لئے عظیم بشارتوں کے حاملین کو۔ آپ میں سے ہرایک نوجوان ایک عظیم بشارت کا حامل ہے۔ جب ایک ملک کے نوجوان جاگ جاتے ہیں اس ملک کے اس ملک میں عمومی بیداریوں کی امید میں اضافہ ہوتا ہے۔ آج ہمارے نوجوان پوری دنیا میں بیدار ہوچکے ہیں۔ اتنے جال نوجوانوں کے سامنے بچھائے گئے ہیں لیکن مسلمان، غیور اور بلند ہمت نوجوان نے ان مسائل سے اپنے آپ کو آزاد کررکھا ہے تیونس میں، مصر میں، لیبیا میں، یمن میں اور بحرین میں کیا واقعہ رونما ہوا، دوسرے اسلامی ملکوں میں کیا تحریکیں معرض وجود میں آئیں۔ یہ سب بشارتیں ہیں۔میں آپ عزیز نوجوانوں اور اپنے فرزندوں سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہے کہ آپ جان لیں کہ عالمی تاریخ، انسانی تاریخ ایک بہت بڑے اور اہم موڑ پر آپہنچی ہے۔ پوری دنیا میں نئے دور کا آغاز ہورہا ہے۔ اس نئے دور کی بڑی اور واضح علامت خدائے متعال کی طرف توجہ، خدا کی زائل نہ ہونے والی طاقت سے مدد لینے اور وحی کا سہارا لینے سے عبارت ہے۔ بنی نوع انسان مختلف مکاتب اور آئیڈیالوجیوں کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ آج نہ تو مارکسزم کسی کے لئے دلچسپی کا سبب بنتا ہے اور نہ مغربی لبرل جمہوریت میں کوئی دلچسپی رہی ہے ـ آپ دیکھ رہے ہیں کہ مغربی لبرل ڈموکریسی کے گہوارے یعنی امریکہ اور یورپ میں کیا ہو رہا ہے، وہ اب شکست کا اعتراف کررہے ہیں ـ اور نہ ہی سیکولر نیشنلسٹوں میں کوئی جاذبیت رہی ہے۔ آج امت اسلامی کے اندر سب سے زیادہ جاذبیت اسلام، قرآن اور مکتب وحی کو حاصل ہے کیونکہ خدا وند متعال نے وعدہ دیا ہے کہ مکتب اسلام، وحی الہی اور اسلام عزیز ہی بنی نوع انسان کو سعادتمندی سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ یہ ایک بہت ہی مبارک، اہم اور پرمعنی واقعہ ہے جو رونما ہو چکا ہے۔ آج اسلامی ممالک میں وابستہ آمریتوں کے خلاف تحریکیں شروع ہوئی ہیں اور یہ تمہید ہے ان عالمی اور بین الاقوامی آمریتوں کے خلاف عالمی تحریک کے لئے جو فاسد، بدعنوان اور خبیث صہیونی نیٹ ورک اور استکباری طاقتوں پر مشتمل ہے۔ آج بین الاقوامی استبداد اور بین الاقوامی ڈکٹیٹرشپ، امریکی ڈکٹیٹرشپ اور امریکہ کے پیروکاروں نیز خطرناک شیطانی نیٹ ورک میں مجسم ہوچکی ہے۔ آج یہ طاقتیں مختلف روشوں سے اور مختلف قسم کے وسائل اور اوزاروں کے ذریعے آمرانہ فرمانروائی کررہے ہیں۔ آپ نے آج جو کچھ تیونس میں انجام دیا، مصر میں انجام دیا، لیبیا میں انجام دیا یا وہ جو آپ یمن میں انجام دے رہے ہيں اور بحرین میں انجام دے رہے ہيں، اور ان اقدامات کے محرکات دوسرے ملکوں میں شدت کے ساتھ نمایاں ہوچکے ہیں، یہ سب اس خطرناک اور مضر ڈکٹیٹر شپ کے خلاف عالمی جدوجہد کا ایک جزء ہے جو دو صدیوں سے بنی نوع انسان کو دبا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ تاریخی موڑ جس کی طرف میں نے اشارہ کیا، یہ ایک ایسی ڈکٹیٹرشپ سے ملتوں کی آزادی اور حریت اور معنوی اور الہی اقدار کی حاکمیت کی طرف منتقلی سے عبارت ہے، یہ ضرور بضرور پیش آئے گا؛ اس کو بعید نہ جانیں۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ "و لينصرنّ اللَّه من ينصره"، (1) اور جو شخص اﷲ کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے)۔ خداوند متعال تاکید کے ساتھ فرماتا ہے کہ اگر تم اس کی مدد کروگے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا؛ اگر معمولی اور مادی نگاہوں سے دیکھا جائے تو ممکن ہے کہ یہ غیر ممکن نظر آئے؛ لیکن بہت سی چیزی بعید از قیاس نظر آتی تھی جو واقع ہوئیں۔ آپ ایک سال اور دو تین ماہ قبل کیا تصور کرسکتے تھے کہ مصر کا طاغوت اس طرح خوار و ذلیل ہوجائے گا اور ختم ہوجائے گا؟ اگر اس روز بعض لوگوں سے کہا جاتا کہ حسنی مبارک کی بدعنوان اور وابستہ حکومت زوال پذیر ہوجائے گی، بہت سے لوگ اس کو بعید قرار دیتے [اور ناممکن سمجھتے] لیکن ہم نے دیکھا کہ یہ واقعہ رونما ہوا۔ اگر کوئی دو سال قبل اگر کوئی دعوی کرتا کہ شمالی افریقہ میں یہ عجیب و غریب واقعات رونما ہونگے تو اکثر لوگ یقین نہ کرتے۔ اگر کوئی کہتا کہ لبنان جیسے ممالک میں ایک نوجوان گروہ صہیونی ریاست اور کیل کانٹے سے لیس صہیونی افواج کو شکست دے سکے گا، کوئی بھی یقین نہ کرتا؛ لیکن یہ واقعہ رونما ہوا۔ اگر کوئی کہتا کہ اسلامی جمہوری نظام مشرق اور مغرب کی طرف سے اتنی ساری عداوتوں اور دشمنوں کے باوجود، 32 سال تک استقامت کرے گا اور روز بروز زيادہ طاقتور ہوجائے گا اور آگے کی طرف بڑھتا رہے گا، کوئی بھی یقین نہ کرتا؛ لیکن اسلامی جمہوری نظام نے ایسا کرکے دکھا۔ " وَعَدَكُمُ اللَّهُ مَغَانِمَ كَثِيرَةً تَأْخُذُونَهَا فَعَجَّلَ لَكُمْ هَذِهِ وَكَفَّ أَيْدِيَ النَّاسِ عَنكُمْ وَلِتَكُونَ آيَةً لِّلْمُؤْمِنِينَ وَيَهْدِيَكُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا "۔(2) اين پيروزىها آيت الهى است؛ اينها نشانههائى از قدرت فائقهى حق است كه خداى متعال دارد به ما نشان ميدهد. آن وقتى كه مردم به ميدان بيايند، آن وقتى كه ما موجودى خودمان را وارد ميدان كنيم، نصرت الهى قطعى است. خداى متعال راه را هم به ما نشان ميدهد؛ « وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ».(3) خدا ہدایت بھی دیتا ہے راہنمائی بھی کرتا ہے، مدد بھی کرتا ہے اور اعلی اہداف تک بھی پہنچاتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ ہم میدان میں رہیں۔ جو کچھ آج تک پیش آیا ہے، بہت عظیم ہے۔ دو سو سال تک مغربیوں نے اپنی سائنسی ترقی کی بنیاد پر اسلامی امت پر حکمرانی کی؛ اسلامی ممالک پر قبضہ کیا، بعض پر براہ راست قبضہ کیا اور بعض پر مقامی ڈکٹیٹروں کے توسط سے مسلط ہوئے۔ برطانیہ، فرانس اور آخر کار امریکہ ـ جو شیطان بزرگ ہے ـ امت مسلمہ پر مسلط ہوئے۔ جہاں تک ممکن تھا انھوں نے امت اسلامی کی تحقیر اور تذلیل کردی؛ صہیونیت کی سرطانی گلٹی (Cancer Tumor) کو مشرق وسطی اور اس حساس علاقے میں بو دیا اور اس کو ہر سمت اور ہر جہت سے تقویت پہنچائی اور وہ مطمئن تھے کہ ان کے مفادات دنیا کے اس بہت اہم علاقے میں محفوظ ہوچکے ہیں۔ لیک ایمانی ہمت اور عوامی موجودگی نے ان سارے باطل سپنوں کو باطل کردیا اور ان تمام حرکتوں کو روک لیا۔آج عالمی استکبار اسلامی بیداری کے سامنے بے بسی محسوس کررہا ہے۔ آپ غالب ہیں، آپ فاتح ہیں، مستقبل آپ کا ہے، جو کچھ ہوا ہے وہ بہت عظیم ہے لیکن یہ سفر کا اختتام نہیں ہے ـ اہم بات یہی ہے ـ یہ تو بس آغاز ہی ہے۔۔ مسلم ملتوں کو اپنی مجاہدت جاری رکھنی چاہئے تا کہ دشمن کو مختلف میدانوں سے نکال باہر کرسکیں۔یہ جدوجہد عزم و ہمت اور ارادوں کی جدوجہد ہے۔ جس فریق یا عزم و ارادہ زیادہ قوی ہوگا غلبہ اسی ہوگا، غالب وہی ہے۔ جس کا دل اللہ تعالی پر بھروسے اور توکل سے مالامال ہے، وہی غالب ہے۔ ارشاد ہے: "إِن يَنصُرْكُمُ اللّهُ فَلاَ غَالِبَ"؛ (4) اگر اللہ تمہاری مدد فرمائے تو تم پر کوئی غالب نہیں آئے گا، آپ پیشقدمی کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم اقوام جو عظیم اسلامی امہ کو تشکیل دیتی ہیں، آزاد ہوں، مستقل اور خودمختار ہوں، صاحب عزت و عظمت ہوں، کوئی اس کی تذلیل اور تحقیر نہ کرے؛ اسلام کے ترقی پسندانہ اور اعلی احکام کی روشنی میں اپنی زندگی کو منظم کریں اور اسلام یہ سب کچھ ہیں دے سکتا ہے۔ انھوں نے ایک طویل مدت کے دوران ہمیں سائنسی اور علمی حوالے سے پسماندہ رکھا، ہماری تہذیب و ثقافت کو پامال کرکے کچل دیا، ہمارے استقلال و خودمختاری کو نابود کردیا۔ آج ہم بیدار ہوچکے ہیں۔ ہم علم و سائنس کے میادین بھی یکے بعد دیگرے فتح کرلیں گے۔ 30 سال قبل جب اسلامی جمہوریہ کی تشکیل ہوئی تو دشمن کہتے تھے کہ اسلامی انقلاب کامیاب تو ہوا لیکن یہ انقلاب کو یکے بعد دیگرے زندگی کے میدانوں کا انتظام نہیں سنبھال سکے گا اور یہ کہ یہ انقلاب پسپائی اختیار کرے گا۔ آج ہمارے نوجوان اسلام کی برکت سے سائنس کے میدان میں عظیم کارنامے سرانجام دے چکے ہیں جو ماضی میں ان کے اپنے تصور سے بھی خارج تھے۔ آج ایرانی نوجوان اللہ پر توکل کرکے عظیم سائنسی کارنامے سرانجام دے رہے ہيں: یورینیم کو افزودہ کرتے ہیں، بنیادی سیل (Stem cells) تیارکرتے ہیں اور ان کی پرورش کرتے ہیں، بائیوٹیکنالوجی میں بڑے قدم اٹھاتے ہیں، خلا پر کمندیں ڈالتے ہیں؛ یہ سب خدائے متعال پر توکل اور "اللہ اکبر" کے نعرے سے ممکن ہوا ہے۔ (5)ہمیں اپنی صلاحیتوں کو کم اور کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔ سب سے بڑا آسیب جو مغربی ثقافت نے اسلامی ممالک پر وار کیا وہ دو غلط تصورات پر مشتمل ہے: ایک یہ کہ انھوں نے مسلمان ممالک کو باور کرایا اور ان سے تسلیم کروایا کہ "تم کسی کام کے بھی قابل نہیں ہو"؛ میدان سیاست میں، میدان معیشت میں بھی، سائنس کے میدان میں بھی؛ کہا "تم کمزور ہو"۔ ہم اسلامی ممالک دسیوں برس اسی غلط تفکر میں الجھے رہے اور پسماندہ رہے۔ دوسری تلقین یہ تھی اور دوسری بات جو انھوں نے ہم سے تسلیم کروا دی یہ تھ کہ "ہمارے دشمنوں [یعنی مغربی طاقتوں] کی صلاحیت اور قوت کی کوئی انتہا نہیں ہے اور یہ نہ ختم ہونے والی ہے" انھوں نے ہمیں باور کرایا کہ "امریکہ کو شکست دینا ممکن نہیں ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ مغرب کو پسپائی پر مجبور کیا جاسکے! چنانچہ ہم مجبور ہیں کہ ان کے مقابلے میں سب کچھ برداشت کریں"۔ آج مسلم اقوام کے لئے عینی اور عملی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ دونوں تصورات غلط اندر غلط ہیں۔ مسلم اقوام آگے بڑھ سکتی ہیں، وہ جو کسی زمانے میں افتخار کے عروج پر تھیں اور علمی و سائنسی اور سیاسی و سماجی چوٹیوں پر مستقر تھیں، اپنے مجد و عظمت کی تجدید کرسکتی ہیں اور دشمن مختلف میدانوں میں پسپائی پر مجبور ہے۔ یہ صدی، اسلام کی صدی ہے۔ یہ صدی، معنویت اور روحانیت کی صدی ہے۔ اسلام عقلیت کو اور معنویت کو اور عدل کا تحفہ ایک ساتھ اقوام کے حوالے کرتا ہے۔ عقلیت کا اسلام، تدبر و تفکر کا اسلام، معنویت کا اسلام، خدائے متعال کی طرف توجہ اور اس پر توکل کا اسلام، جہاد کا اسلام، محنت اور جدوجہد کا اسلام، اقدام کا اسلام؛ یہ سب ہمارے لئے خدائے متعال کی تعلیمات اور اسلامی تعلیمات ہیں۔ جو کچھ آج اہم ہے وہ یہ ہے کہ دشمن پر مصر، تیونس لیبیا اور دوسرے ممالک میں جو نقصان پہنچا ہے وہ [اس کی تلافی کے لئے] منصوبہ بندی اور سازشوں میں مصروف ہے۔ دشمن کی سازشوں کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ خیال رہے کہ کہيں وہ عوام کے انقلابات کو اغوا اور ہائی جیک نہ کریں، اقوام کو اصل راستے سے منحرف نہ کریں۔ آپ [انقلابی اقوام] دوسروں کے تجربے سے استفادہ کریں۔ دشمن بہت سے کاموں میں مصرو