30 جنوری 2012 - 20:30

ایران کے تیل کا بائيکاٹ کرنے کا فیصلہ خود اب یورپی ملکوں کے ہی گلے ہڈی بنتا جارہا ہے.

ابنا:یورپی ملکوں نے امریکی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے اگرچہ جلد بازی میں ایران کے خلاف یہ مخاصمانہ فیصلہ کرڈالا مگر اب یہ معاملہ یورپ کے لئے سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے خاص طور پر اس لئے اور جب ایران نے یہ اعلان کردیا ہے کہ یورپی یونین نے جولائی سے اپنے فیصلے پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے مگر ہم یورپ کے لئے تیل کی برآمدات ابھی سے ہی منقطع کرنے کی سوچ رہے ہيں ۔

 یہ معاملہ ایران کی پارلیمنٹ میں اٹھتے ہی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے ۔  یورپی حکام کو اس بات کی تشویش ہے کہ شدید سردی کے موسم میں اگرایران نے فوری طور پر اپنے تیل کی برآمدات منقطع کردی تو یورپی عوام خود کو شدید سردی سے کیسے محفوظ رکھ پائيں گے ۔ امریکا نے تو جس کو ایران کا تیل فروخت ہی نہيں ہوتا تھا اکتیس دسمبر کو ایران کے تیل پر پابندی عائد کرنے کافیصلہ کیا تھا مگر یورپی یونین کے وزراء خارجہ نے امریکی پالیسیوں کی پیروی کرتے ہوئے تیئس جنوری کو یہ غیرمنطقی فیصلہ کیا ۔ جس کے بارے میں خود یورپ میں بہت سے مبصرین اور نظریہ پردازوں کا کہنا ہے کہ یورپ نے یہ فیصلہ کرکے اپنی اقتصادی خودکشی کا سامان فراہم کیا ہے ۔

یورپی یونین کے اس فیصلے کے بعد امریکا نے ان ملکوں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش شروع کردی ہے جو ایران سے زیادہ تیل خریدتے ہیں اور خاص کر اس کی توجہ ایشیائی ملکوں منجملہ ہندوستان، چین اور جنوبی کوریا پر مرکوز ہوگئی ہے ۔ مگر ان ملکوں نے امریکا کے اس مطالبے کو صراحت کے ساتھ مستر د کردیا ہے کیونکہ ایران کے تیل تک ان ملکوں کی رسائی دیگر ملکوں کی بہ نسبت زیادہ آسان ہے اور دوسرے ملکوں کے مقابلے میں ایران اپنا تیل نسبتا کم قیمت پر فروخت کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ ایشائی ممالک یورپی یونین اور امریکا کے اس فیصلے کی پیروی کرکے اپنی آزاد خارجہ پالیسی پر سوالیہ نشان نہيں لگنے دینا چاہتے ۔

چینی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے تیل پر پابندی عائد کرنے کایورپی یونین کا فیصلہ مناسب نہيں ہے ۔ چین ایران کے تیل کے بڑے خریداروں میں سے ایک ہے ۔ اس کےعلاوہ چین اور ایران کے درمیان تجارتی لین دین کی شرح گذشتہ برس پینتالیس ارب ڈالر سے بھی زیادہ پہنچ گئی تھی اس حقیقت کے پیش نظر چین ایران جیسی اہم منڈی سے خود کو محروم نہيں کرے گا۔ روس نے بھی اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجربات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایران کے خلاف دھونس و دھمکی اور پابندیوں کی پالیسی کا رگر نہیں رہی ہے ۔

 دوسری طرف ہندوستان کے وزراء پٹرولیم اور خزانہ نے بھی صاف لفظوں میں کہا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھیں گے اور یورپی یونین کے فیصلے ان پر اثر انداز نہيں ہوسکتے۔ ہندوستان کے وزیر خزانہ پرنب مکھر جی نے اپنے دورہ امریکا میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے صاف کردیا کہ ہندوستان، ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھے گا ۔

 انہوں نے کہاکہ ہندوستان کو توانائی کی ضرورت ہے اس لئے وہ ایران کے تیل کی درامدات جاری رکھے گا ہندوستان کی حکومت کے اس فیصلے کا جہاں خود اس کے ملک کے مختلف ذرائع ابلاغ نے خیر مقدم کیا ہے وہيں مختلف سیاستدانوں اور حلقوں نے اس فیصلے کی جم کر ستائش کی ہے ۔اس میں شک نہيں کہ امریکا اوریورپی ممالک ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کو بہانہ کر مغرب کی تسلط پسندی کے مقابلے میں ایران کے عوام اور حکام کی استقامت کو کمزور کرنا چاہتے ہيں مگر ایسا لگتا ہے کہ مغربی ممالک خود ہی اب اپنے فیصلے سے پشیمان دکھائی دے رہے ہيں ۔

یورپی ملکوں نے اپنے اقتصادی بحران اور علاقے میں ایران کی مضبوط پوزیشن کو مدنظر رکھے بغیر محض امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی اسی لئے جب ایران کے پٹرولیم کے وزیر نے اعلان کیا کہ ایران فوری طور پر یورپ کو اپنے تیل کی سپلائی بند کرنے کی سوچ رہا ہے تو جرمنی کے وزیر خارجہ نے عاجزانہ لہجے میں کہا کہ ایران کو چاہئے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لے ۔

یورپی ماہرین کا کہنا ہے کہ اٹلی اور اسپین جیسے ممالک جو اس وقت شدید بحران کا شکار ہيں اس بات کے متحمل نہيں ہوسکتے کہ وہ اپنی پچاس فیصد آئیل ریفائنریوں کو بند اور ان کی مشینیں کوڑے دانوں کے حوالے کردیں۔ اٹلی اور اسپین کی پچاس فیصد آئیل ریفائنریاں ایران کے تیل اور اس کی کیفیت کو نظر میں رکھ کر ہی تیار کی گئی ہيں اور اگر ایران کا تیل بند ہوجاتا ہے تو یہ ان جیسے ملکوں کے لئے جو پہلے ہی سخت معاشی بحران کا شکار ہيں اتنا بڑا نقصان برداشت کرنا آسان نہيں ہوگا ۔

جبکہ دوسری طرف ایران اپنے تیل کی کل برامدات کا دس سے پندرہ فیصد ہی یورپ کو برآمد کرتا ہے اور انتی مقدار میں تیل برآمد کرنے کے لئے ایران کو پہلے سے ہی خریدار مل گئے ہیں بنابریں اگر ماہرین یہ کہہ رہے ہيں کہ یورپ نے خود کو امریکا کے سامنے حقیر کرکے اپنی اقتصادی خودکشی کا اقدام کیا ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ .........

/169