ابنا: ڈاکٹر علی لاریجانی نے انڈونیشیا روانہ ہونےسے پہلے کہا کہ اس اجلاس میں علاقائی اور بین الاقوامی مسائل بالخصوص عالم اسلام کے اہم مسائل پر گفتگو ہوگی۔ اسی طرح اس اجلاس میں اسلامی بیداری، عالمی مالیاتی بحران کی تحقیق، بیت المقدس کی صورت حال، اقوام متحدہ میں فلسطین کی رکنیت، مشرق وسطی کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنا، جدید ٹیکنالوجی اور پرامن جوہری توانائیوں سے استفادہ اور دہشتگرد گروہوں سے مقابلہ جیسے موضوعات کے بارے میں گفت و شنید ہوگی۔
بین پارلمانی یونین کی جنرل اسمبلی کا ساتواں اجلاس تیس اور اکتیس جنوری کو انڈونیشیا کے جنوبی صوبے سوماٹرا کے شہر "پالم پانگ" میں منعقد ہو رہا ہے۔
اسلامی بین پارلمانی یونین کے گزشتہ سال ابوظبی میں منعقد ہونے والے ہنگامی اجلاس میں اس یونین کے قوانین میں کچھ تبدیلیاں کی گئی تھیں تا کہ عالم اسلام کی توقعات کو پورا کیا جا سکے؛
اب سوال یہ ہے کہ اسلامی ملکوں کی توقعات کیا ہیں؟عراق و افغانستان کے مسائل، شام اورلبنان کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی طرف سے کی جانے والی سازشوں اور اسی طرح
بحرین و یمن کے مسائل اور علاقے میں گزشتہ ایک سال کے دوران رونما ہونے والی تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنے سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اپنی سیاسی مستقبل کے ایک نئے راستے پر چل پڑا ہے۔
عالم اسلام کو موجودہ حساس دور میں بہت زیادہ چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے اس بنا پر اسے سنجیدہ حمایت کی ضرورت ہے۔
یہ بھی واضح ہے کہ اس طرح کی حمایت میں قوموں کا کردار ہونا چاہیے اور یہ کردار پارلیمانی نظاموں اور اسلامی پارلیمانوں میں اسلامی قوموں کے نمائندوں کے کردار کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
لیکن اب سوال یہ ہے کہ بین پارلمانی یونین کس طرح سے ملتوں کی حامی ہو سکتی ہے، یہ ایسی بات ہے کہ جس کی بہت سی شرائط ہیں جن میں مشکلات کے مقابل عمل اور احساس ذمہ داری شامل ہے۔
اس وقت پانچ سال سے زائد عرصے سے غزہ صیہونی حکومت کے محاصرے میں ہے حالانکہ عالم اسلام کے پاس ملت فلسطین کی حمایت کے لئے بہت زیادہ وسائل و امکانات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود ان سے صحیح استفادہ نہیں کر سکا ہے۔
دوسری جانب اسلامی بیداری ایک ایسی عظیم تبدیلی ہے جو عالم اسلام کے لئے سنہری موقع ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ عالم اسلام کے خلاف طویل مدت منصوبہ بند سازشوں کے مقابل اسلامی قوموں کی تحریک کی حمایت کی جائے۔
اس وقت عالمی اور علاقائی میدانوں میں بہت ہی اہم واقعات رونما ہو رہے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ بین پارلمانی یونین اسلامی ممالک کو درپیش مشکلات اور مسائل کی راہ حل پیش کرے۔
یہ حقیقت ہے کہ بین پارلمانی یونین ایک موثر اسلامی تنظیم کی حیثیت سے بین الاقوامی اداروں اور علاقائی تنظیموں کے میدان میں سیاسی تعاون اور علمی و اقتصادی ترقی و پیشرفت میں مدد سمیت تمام شعبوں میں بہترین کردار ادا کر سکتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ عالم اسلام کے مسائل کے حل کے لۓ بہترین مرکز قرار پا سکتی ہے۔
........
/169