ابنا: خالد عزیزبابر نے اتوار کو صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر سےملاقات میں اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ زاہدان پاکستان کے لئے اقتصادی رونق کا دروازہ ہے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ ہم مستقل قریب میں دونوں ملکوں کی سرحد پر صنعتی زون قائم کریں جو تہران اور اسلام آباد کے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
پاکستانی سفیر نے صوبہ سیستان و بلوچستان سے ملنے والی پاکستان کی سرحدی پٹی کومضبوط کرنے کی خبر دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی چیک پوسٹوں کی تعداد میں اضافے اور ایران کے ساتھ مشترکہ فضائی گشت قائم ہونے سے اسمگلنگ رکے گی اور علاقےمیں پائیدار سیکورٹی قائم ہوگي ۔
اس موقع پر صوبہ سیستان و بلوچستان کےگورنر علی محمد آزاد نے ایران و پاکستان کےمشترکہ ثقافتی ، مذہبی اور سماجی تعلقات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صلاحیتوں اور وسائل سے استفادے اور تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد سے دونوں قوموں کی معاشی طاقت بڑھنے کےساتھ ہی اغیار سے وابستگی کم ہوگي۔
صوبہ سیستان و بلوچستان کے گورنر نے کہا کہ رابطے کے مناسب راستے کا قیام، اورزاہدان کوئٹہ فضائی سروس نیز زاہدان کے راستے یورپ تک پاکستان کا ریل رابطہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینے کے لئے ایران کی جانب سے فراہم کردہ ڈھانچے کا ایک حصہ ہے۔........
/169