ابنا: آر پي او بہاولپور عابد قادري نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلے دعویٰ کیا کہ دھماکا علم کے ہائي ٹينشن تاروں کے ٹکرانے سے ہوا اور يہ کوئي تخريب کاري نہيں، لیکن موبائل فون کی فوٹیج نے واضح کر دیا ہے کہ دھماکہ پہلے سے نصب کیے گئے بم کے باعث ہوا۔ ڈسٹرکٹ پوليس آفیسر سہيل ظفر خان کے مطابق واقعے کي تحقيقات جاري ہيں اور بم دھماکے کو خارج از مکان نہيں کہا جاسکتا۔ واقعے کے بعد لاشيں تحصيل ہيڈ کوارٹر اسپتال خانپور پہنچائي گئيں، جبکہ کئی زخمیوں کو رحیم یار خان کے شیخ زائد اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
جلوس عزا میں شریک غلام عباس سے جب جاننے کی کوشش کی گئی تو اُن کا کہنا تھا کہ وہ اس جلوس میں خود شریک تھے اور وہ اس وقت زخمی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز بہت دور تک سنی گئی۔
انھوں نے بتایا کہ اس کے خاندان کے آٹھ سے زائد افراد اس واقعے میں شہید ہوگئے ہیں، جبکہ وہ خود دھماکے کی اصل جگہ سے دو فرلانگ کے فاصلے پر کھڑے تھے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ شہداء کی تعداد 20سے زائد ہے جبکہ اسپتالوں میں رجسٹرد تعداد 18 ہے۔
شیعہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے غلام اصغر تقی کا کہنا تھا کہ واقعہ پیشگی منصوبے کا نتیجہ تھاا، اور پہلے سے بم نصب کیا گیا تھا۔
اُن کا کہنا تھا کہ پولیس نے اپنی ذمہ داری ادا نہیں کی، پولیس کی نفری نہ ہونے کے برابر تھی۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس واقعہ کے تانے بانے سپاہ صحابہ کے دہشتگرد ملک اسحاق کی رہائی سے جا ملتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ رحیم یار خان میں پچھلے پندرہ سالوں میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا مگر جیسے ہی دہشتگرد ملک اسحاق کو رہا کیا گیا تو یہاں کے حالات خراب ہونا شروع ہوگئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ انہوں نے متعدد مرتبہ ڈی پی او کو اس جانب متوجہ کیا ہے لیکن کالعدم تنظیم کے نہ صرف جلسے جلوس ہوئے بلکہ سرگرمیوں میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوا۔
ابنا کو ملنے والی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اربعین کے روز 19 عزادار شہید ہوگئے تھے اور دو زخمی دو روز بعد شہید ہوگئے اور شہداء کی صحیح تعداد 21 ہوگئی ہے۔........
/169



