12 جنوری 2012 - 20:30

بحرینی سیاستدان نے کہا کہ آل خلیفہ حکومت کے مخالفین منامہ دستاویز کے پابند ہیں اور اس میں مندرجہ مطالبات سے کسی صورت میں بھی پسپائی اختیار نہیں کریں گے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے قومی جمہوری فورم کے سربراہ فاضل عباس نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: خلیفی حکومت کی مخالف جماعتیں منامہ دستاویز کے دائرے میں سرگرم عمل ہیں جس میں بحرین میں آئینی بادشاہت کے قیام، مکمل اختیارات کی حامل حکومت و پارلیمان کے قیام، 2002 کے آئین کی منسوخی اور نئے آئین کی تدوین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: سیاسی جماعتیں ان مطالبات سے چشم پوشی نہیں کریں گی اور اگر ان مطالبات سے پسپائی اختیار کرنی ہوتی تو درجنوں افراد کی شہادت کے بعد اب تک پسپا ہوچکی ہوتیں۔ فاضل عباس نے کہا کہ آل خلیفہ کے مظالم اور جبر و ستم کی بنا پر بین الاقوامی عدالت کے قیام کے لئے پوری کوششیں ہورہی ہيں کیونکہ آل خلیفہ کا نظام عدل قابل اعتماد نہیں ہے اور عدلیہ خودمختار نہیں ہے اور حتی کہ البسیونی کی رپورٹ کو بھی لائق اعتناء نہیں سمجھتا اور دوسری طرف سے مجرمین صرف وہی نہیں ہیں جو اذیتکدوں میں اسیروں کو ٹارچر کررہے ہیں بلکہ وہ بھی مجرمین ہیں جو ان جرائم کا حکم دیتے ہیں اور جیلوں کے اندر اور باہر عوام کو جان سے مارنے کی ہدایات دینے والے بھی مجرم ہیں اور ان سب پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔........

/169

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

انقلاب بحرین کا 334واں دن/ پابندسلاسل قائدین کی حمایت میں مظاہرے