ابنا: آئي ايس پي آر کي جانب سے جاري کئے گئے بيان ميں کہا گيا ہے کہ وزيراعظم کي جانب سے جنرل کياني اور جنرل پاشا پر لگائے گئے الزامات سنگين نوعيت کے ہيں اور دونوں افسران پر ان سے زيادہ سنگين الزامات نہيں ہوسکتے، جن کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے، وزيراعظم نے آرمي چيف اور سربراہ آئي ايس آئي سے متعلق اس وقت انٹرويو ديا جب جنرل کياني چين کے دورے پر تھے.
وزيراعظم گيلاني نے آرمي چيف اور آئي ايس آئي چيف کے سپريم کورٹ ميں جمع کرائے گئے بيانات کو غير آئيني قرار ديا تھا? آئي ايس پي آر نے کہا ہے کہ دونوں افسران پر آئين سے انحراف کا الزام سنگين نوعيت کا ہے، آئي ايس پي آر کے مطابق ميمو کيس ميں سپريم کورٹ کے کہنے پر آرمي چيف جنرل کياني اور آئي ايس آئي چيف جنرل پاشا نے حقائق بتائے،
آئي ايس پي آر نے واضح کيا ہے کہ آرمي چيف اور سربراہ آئي ايس آئي کے بيانات سپريم کورٹ ميں براہ راست نہيں تھرو پراپر چينل جمع کرائے گئے جو اٹارني جنرل کے ذريعے جمع کرائے گئے تھے، سپريم کورٹ کو خط بھجوايا گيا جس ميں بتايا گيا کہ وزارت دفاع کے ذريعے جوابات جمع کرائے جارہے ہيں، آئي ايس پي آر کے مطابق وزيراعظم گيلاني نے 16 دسمبر کو کہا کہ بيانات قانون کے مطابق اور مروجہ طريقہ کار کے تحت ديئے گئے ہيں، آئي ايس پي آر کے مطابق ميمو کيس قابل سماعت ہونے سے متعلق فيصلہ سپريم کورٹ کو کرنا ہے.........
/169