30 دسمبر 2011 - 20:30

روسي وزيرخارجہ نے ايران کے خلاف پابنديوں کي مذمت کي ہے.

ابنا: روسي وزير خارجہ سرگئ لاوروف نے کہا ہے کہ ماسکو ، ايران کے خلاف براہ راست محاذ آرائي کي کوششوں کے خلاف ہے -

انہوں نے کہا کہ عملي طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ ايران پر دباؤ ڈالنا يا اس کے خلاف يک طرفہ پابندياں عائد کرنا موثر نہيں رہا ہے اور اس طرح کے اقدامات سے ، ايران کے ايٹمي پروگرام کے پر امن حل کي راہ ميں صرف رکاوٹيں ہي کھڑي ہوں گي -

روسي وزير خارجہ نے زور ديا ہے کہ ، ايران کو الگ تھلگ کرنے کي کوششوں کے بجائے اس کے ساتھ تعاون کرنا ، اس مسئلے کا صحيح حل ہے -

سرگئ لاوروف نے کہا کہ ايران کے خلاف نئ پابندياں عائد کرنے کي کوشش اور اس ملک کے خلاف طاقت کے استعمال کا کوئي فائدہ نہيں ہے -

انہوں نے کہا کہ روس اس نتيجے پر پہنچا ہے کہ ايران کے ايٹمي مسئلے کے تعميري و مناسب حل کي تلاش ، صرف مذاکرات کے ذريعے ہي ممکن ہے -

انہوں نے کہا کہ ہم ايران سے مطالبہ کرتے ہيں کہ وہ اپنے ايٹمي پروگرام کے پر امن ہونے کے بارے ميں عالمي برادري کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے آئي اے اي اے کے ساتھ پوري طرح سے تعاون کرے -

واضح رہے کہ آئي اے اي اے کي رپورٹوں سے يہ ثابت ہوتا ہے کہ ، اس کے معائنہ کاروں نے حاليہ برسوں ميں کسي بھي رکن ملک سے زيادہ ايران کا دورہ کيا ہے .......

/169