ابنا: المصریون اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مظاہرے جمعے کی رات کو ہوئے اور مظاہرین نے التحریر اسکوائر سے ریڈیو ٹیلی ویژن کی عمارتوں تک مارچ کیا۔
مظاہرین نے انقلاب کے دوران مظاہرہ کرنےوالوں پرفائرنگ میں ملوث افراد پر مقدمہ چلائے جانے کی ضرورت پر تاکید کی اور بعض افسروں کو باعزت بری کئےجانے کی مذمت کی جن پر مظاہرین کو قتل کرنے کا الزام ہے۔ مظاہرین نے انقلابیوں کے قتل عام میں ملوث افراد پر منصفانہ طریقے سے مقدمہ چلائے جانے کی ضرورت پر زور دیا اور سول حکومت کے قیام ، سیاسی قیدیوں کی رہائي اور فوجی عدالتوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
قابل ذکر ہے مصر کی فوجی عدالتوں میں انقلابیوں پرمقدمہ چلائے جارہے ہیں جبکہ انقلابیوں کے قتل عام میں ملوث افراد پر بڑی ہی سست رفتاری سے عدالتی کاروائي کی جارہی ہے۔
مصر کی فوجی کونسل نے سابق ڈکٹیٹر حسنی مبارک کی سرنگونی کےبعد اقتدار سنبھال لیا تھا اور عوام سے وعدہ کیا تھا کہ بہت جلدی عوامی حکومت کو اقتدار سونپ دیا جائے گا لیکن یہ فوجی کونسل عملا حسنی مبارک کی روش پر گامزن ہے اور بعض اوقات تو اس سے زیادہ سختی کررہی ہے۔......
/169