ابنا: چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نورکنی بنچ نے میموگیٹ کیس کی سماعت کی، چیف جسٹس نے گزشتہ روز کی عدالتی کارروائی سے متعلق بعض اخبارات کی رپورٹس کا حوالہ دیا اور کہاکہ غلط خبرشائع کرنے والے وضاحت جاری کریں وگرنہ اسکو جوڈیشل آرڈر کا حصہ بنایاجائیگا ،چیف جسٹس نے کہاکہ ججز پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں.
پارلیمنٹ کی ناکامی کی کبھی بات نہیں کی، بعض میڈیا سے رپورٹنگ میں غلطی ہوئی، ججز نے صدر کے مواخذے کی بات نہیں کی تھی ، حسین حقانی کی وکیل عاصمہ جہانگیر نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہاکہ حکومت اور اپوزیشن کے جھگڑے سے انکا تعلق نہیں،جن مضامین کو بنیاد بناکر درخواستیں دائر ہوئیں ، وہ قابل سماعت ہی نہیں، بنیادی حقوق کے مقدمات کی سماعت کا اختیار صرف لاچار لوگوں کی دادرسی کیلئے ہے، چیف جسٹس نے ایک موقع پر کہاکہ صدر، وزیراعظم، سپہ سالار اور حقانی نے میمو وجود سے انکار نہیں کیا، حقانی سمیت دیگر جواب گزاروں کا کہناہے کہ معاملہ تحقیقات ہونی چاہیئے، اس پرعاصمہ جہانگیر نے کہاکہ میمو، ایک کاغذ کا ٹکڑاہے، سوائے منصور کے کسی اور نے اسکا تعلق حقانی سے نہیں جوڑا، یہ وہ ٹکڑا ہے جو ایک امریکی نے لکھا اور امریکیوں کو پہنچایا، اسکا کسی پاکستانی کا تعلق نہیں، عاصمہ جہانگیر نے کہاکہ انہوں نے اپنے موکل پر بیرون ملک سفر کی پابندی پر بھی کہنا ہے ،اسلئے دلائل دینے میں مزید وقت درکار ہوگا، بعد میں سماعت کے دوران عدالتی وقفہ ہوگیا۔ .......
/169