اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق شیخ یوسف القرضاوی نے اپنے عجیب و غریب فتووں اور بیانات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے کہ وہ کہیں تو عوام کو حکومتوں کے خلاف اکساتے اور قذافی جیسوں کے خلاف قتل کے فتوے دیتے ہیں، شام کے اسرائیل مخالف صدر کے خلاف بغاوت کراتے اور مغربی ملکوں کو اس ملک پر چڑھائی کی دعوت دیتے اور اس سلسلے میں بھی شرعی فتوے داغتے ہیں اور دوسری طرف ایک شخصی حکومت کا تحفظ کرتے ہیں۔ شام کے صدر کو کہتے ہیں کہ تم نے اتنے سال حکومت کی ہے اتنی ہی کافی ہے عوام کو رائے کا حق دے دو کہ اگلا حکمران وہ خود چن لیں لیکن وہ قطر میں بیٹھ کر اپنے سالے امیر قطر کو ایسا مشورہ نہیں دیتے اور سعودی بادشاہ کے استعماری بیانات کو وحیِ مُنزل قرار دیتے ہیں!۔اور ہاں یہ صاحب ڈاکٹر شیخ یوسف القرضاوی ہیں جو مصری نژاد ہیں؛ امیر قطر کے بہنوئی اور قطر کے مفتی اعظم اور آج کل دوحہ کے امام جمعہ بھی ہیں اور تازہ تعمیر شدہ مسجد "مسجد محمد بن عبدالوہاب" میں نماز جمعہ دینے پڑھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ القرضاوی کے تازہ ترین افاضات:محمد بن عبدالوہاب کی تعریف، موروثی بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی تعریف، جمہوری وزیر اعظم نوری المالکی کی مذمت اور عراق میں شیعہ سنی فتنہ بپا کرنے کی کوشش، صدر بشار اسد کو جمہوریت کی خاطر اقتدار چھوڑنے کا مشورہ وہ بھی ایک مستبد اور موروثی شیخ کے گھر میں بیٹھ کر؛ القرضاوی دوسرے استبداد کے دامن میں بیٹھ کر جمہوریت کو فروغ دینے کے لئے کوشاں؛بادشہ سخنان عجیب قرضاوی درباره پادشاهعربستان قرضاوی کسی زمانے میں اتحاد بین المسلمین کے داعیوں میں شمار ہوتے تھے لیکن حالیہ برسوں میں ایک چھوٹی سی ریاست کو امپائر بنانے کے چکر میں اس ریاست یعنی الجزیرہ چینل کی ریاست "قطر" کے امیر کا بازو بنے ہوئے ہیں۔ ان کے حالیہ برسوں کے بیانات کے کچھ لنکس بھی اس رپورٹ کے آخر میں نذر قارئین کئے جائیں گے۔گذشتہ جمعے کو انھوں نے تازہ تعمیر شدہ مسجد "کلک کریں: مسجد محمد بن عبدالوہاب" میں ـ جو امیر قطر نے وہابیت پر آل سعود کی موناپولی ختم کرنے کی غرض سے تعمیر کی ہے ـ نماز جمعہ پڑھانے کی سعادت حاصل کی اور اپنے امیر اور وزیر اعظم کے ہاتھوں رنجیدہ سعودی بادشاہ کا دل جیتنے کے لئے خلیج فارس تعاون کونسل سے عبداللہ بن عبدالعزیز کے حالیہ خطاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ملک عبداللہ کی طرف سے خلیجی ریاستوں کے حکمرانوں کو کونسل کی بجائے خلیج یونین بنانے کی دعوت ایک فریضہ اور ضرورت ہے اور ہمارا دین اور ہمارے موجودہ حقائق ہمیں اس کی دعوت دیتی ہیں! ہم اس سلسلے میں خادم الحرمین کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان سے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں اور اپنے خلیجی دوستوں (شخصی حکمرانوں) سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ قریبی تعاون کریں؛ ملک عبداللہ کی یہ درخواست بجا ہے اور یہ مالکی کے منصوبے کی مانند نہیں ہے جو عراق کو شام کے ہاتھوں بیچنا چاہتے ہیں!۔قرضاوی نے امیر قطر کے "تفرقہ پراجیکٹ" کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہا: نوری المالکی عراق کو شام کے ہاتھوں بیچنا چاہتے تھے لیکن انہيں کوئی ساتھی نہ ملا تو انھوں نے اہل سنت کو قربان کرکے عراق پر بلا منازع حکمران بننے کی کوشش کی!۔ القرضاوی نے سینکڑوں یا ہزاروں عراقی شہریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے عراق کے مفرور نائب صدر طارق الہاشمی پر لگے الزامات اور عدالت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا: نوری المالکی نے الہاشمی کے لئے جال بچھایا ہوا ہے! مالکی کا منصوبہ بے کار منصوبہ ہے۔القرضاوی نے ضمنی طور پر عراق سے امریکیوں کے انخلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا: المالکی نے امریکیوں کو ملک سے نکال کر کروڑوں انسانوں کی جانوں سے کھیلنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے انھوں اپنے مذہب کو اسلام پر اور ایک خاص فرقے کو ملت عراق پر مقدم رکھا ہے!۔القرضاوی نے تضاد گوئی کا اپنا پرانا سلسلہ جاری رکھا اور فرقہ واریت کو فروغ دینے کے حوالے سے اپنے واضح بیان کے فورا بعد فرقہ واریت کی مخالفت کی اور کہا: ہم نفرت انگیز فرقہ واریت کے خلاف ہیں!۔انھوں نے اپنے فتووں اور اپنے امیر کے ٹیلی ویژن چینل کے ہاتھوں شام میں تکفیری تحریک آغاز کرنے کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا: ہم فرقہ واریت کے خلاف ہیں! ہم شام کے عوام کے ساتھ ہیں اور اس کی حکومت کے خلاف ہیں۔ انھوں نے ایک ڈکٹیٹر کے دامن میں بیٹھ کر آمریت کی مخالفت کی اور کہا: آمر حکمران جرم و ظلم روا رکھتے ہیں، اپنی قوموں کو ٹارچر کرتے ہیں، بہت سی خواتین اور بوڑھوں کی جانیں چلی جاتی ہیں بالکل اسی طرح جس طرح کہ آج شامِ عزیز! میں ہم دیکھ رہے ہیں۔انھوں نے لیبیا پر امریکہ اور نیٹو کے قبضے اور عوامی انقلاب کی ناکامی کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا: اسلام مصر اور لیبیا میں کامیاب ہوگیا ہے اور مراکش، یمن اور شام میں بھی ایسا ہی ہوگا۔۔۔۔ انھوں نے قریبی ملک بحرین میں عوامی انقلاب اور اس ملک پر سعودی قبضے کو بھی نظر انداز کیا۔انھوں نے شام کے خلاف اپنے اور اپنے امیر نيز آل سعود اور اسرائیل و امریکہ کی مشترکہ سازش کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا: اے بشار! تم دوسروں سے زیادہ حکومت کرچکے کیا ہمیشہ کے لئے حکومت کرنا چاہتے ہو؟ اجازت دو کہ شام کے عوام خود اپنے حکام منتخب کریں کیونکہ قومیں رہتی ہیں اور حکومتیں چلی جاتی ہیں۔ یادرہے کہ وہ تا حیات شخصی حکمران کے درباری مفتی ہیں جنہیں اپنے ملک میں آمریت نظر نہیں آتی۔القرضاوی نے اس سے قبل وہابیت کی مسلسل مخالفت کی پالیسی ترک کرتے ہوئے مسجد محمد بن عبدالوہاب کی تأسیس کی طرف اشارہ کیا اور پہلی بار منحرف وہابی فرقے کے امام محمد بن عبدالوہاب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: محمد بن عبدالوہاب جزیرة العرب کے مجدد ہیں!۔یادرہے کہ مدینہ یونیورسٹی سے وہابیت میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے والے یمنی عالم دین ڈاکٹر عصام العماد، جو تشیع کے خلاف اپنا تحقیقی رسالہ لکھتے ہوئے شیعہ مکتب کے متوالے بن گئے اور شیعہ مذہب اختیار کرگئے نے وہابیت کے بارے میں ایک مکالمے کے ضمن میں کہا ہے: "يوسف قرضاوي کہتے ہیں کہ: "عالم اسلام میں کوئی بھی زندہ یا مردہ شخص نہیں ہے جس کے سب و لعن میں وہابیت نے کتاب نہ لکھی ہو چاہے وہ شخصیات شیعہ ہوں چاہے سنی ہوں چاہے زيدی۔۔۔"۔سلفیت اور وہابیت سے ان کو نفرت تھی؛ دیکھئے؛ کتنے تضادات:شیخ یوسف القرضاوی: سلفی عناصر عوامی انقلابات کو بجھانا چاہتے ہیںعلمائے اسلام کے عالمی اتحاد کے سربراہ شیخ یوسف القرضاوی نے کہا ہے کہ سلفی قوتیں عرب اقوام کے عوام انقلابات کا چراغ گل کرنے کے درپے ہیں۔القرضاوی: سلفیوں کے فتوے اسلام کے خلاف ہیںعلمائے اسلام کے عالمی اتحاد کے سربراہ ڈاکٹر شیخ یوسف القرضاوی نے سلفی علماء اور قومی انقلابات کے خلاف ان کے فتؤوں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے فتوے اسلامی احکام کے منافی ہیں۔قطری شیخ نے ایک راز سے پردہ اٹھایا؛آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش / اہم واقعہآل ثانی خاندان کے قطری شیخ نے آخرکار ایک بڑے راز سے پردہ اٹھا ہی لیا اور وہ یہ کہ آل ثانی خاندان کے حکمران وہابیت کے حلقہ بگوش ہیں۔عراقیوں کا جواب: عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کے ترجمان علی شلاہ نے القرضاوی کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے کہا: القرضاوی وہ شخض ہیں جنہوں نے اپنا دین اور اپنا وطن بیچ ڈالا ہے اور آج سب انہیں بخوبی جانتے ہیں؛ عراقی قوم ابھی ان کے فتنہ انگیز بیانات اور امریکی قبضے کے زمانے میں عراقی عوام کے قتل عام کے حوالے سے ان کے فتوے ابھی نہیں بھول سکی ہے اور کبھی بھی نہیں بھولے گی۔انھوں نے کہا: شیخ قرضاوی آج انتہا پسندی کا حوالہ اور فرقہ واریت کے مبلغ ہیں۔ ملت عراق کو قرضاوی کے فتووں کی کوئی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس قسم کے علماء اقوام کو تباہ کردیتے ہیں جبکہ عراقی قوم آسائش اور پر امن زندگی کی جانب رواں دواں ہے۔القرضاوی عراق میں فرقہ وارانہ فتنہ انگیزی کررہے ہیںعراقی نیوز ویب بیس نے "سموم یوسف القرضاوی" (یوسف القرضاوی کی زہر افشانی) کے عنوان سے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ قرضاوی عراق میں شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیا تنازعہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور شیعہ سنی تنازعہ عراق کے لئے زہر قاتل ہے۔ النخیل نے لکھا: قرضاوی نے عراق میں جمہوری عمل اور منتخب حکومت کو نظر انداز کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ: العراقیہ الائنس عراق میں حکومت کرنا چاہتی ہے لیکن نوری المالکی اس کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے اور یہ کہ عوامی قتل عام کے مجرمین طارق الہاشمی اور صالح المطلک (دونوں مفرور و مطلوب) المالکی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں!النخیل نے ایک عراقی رکن پارلیمان کے حوالے سے لکھا ہے کہ عراقی عوام کو کوتاہ بین مفتیوں کے فتوؤں کی ضرورت نہیں ہے اور عراقی عوام اپنے جمہوری عمل کو پوری طاقت سے جاری رکھیں گے؛ عراق میں شیعہ اور سنی مراجع کی کوئی کمی نہیں ہے؛ ہمارا نظام عدل طارق الہاشمی کو بخوبی جانتا ہے اور شیخ قرضاوی کے فتوے عراقیوں کو خوفزدہ نہیں کرسکتے۔عراق کے ایک سنی عالم دین کا موقف: قطر امریکہ کا ایجنٹ ہے اور القرضاوی عرب ملکوں میں صہیونیوں کے منصوبے نافذ کررہے ہیںعراق کے سنی عالم دین اور سنی علماء کونسل کے سربراہ شیخ خالد عبدالوہاب الملا نے حکومت قطر اور شیخ قرضاوی کو امریکیوں اور صہیونیوں کے ایجنٹ قرار دیا اور کہا کہ عراق کے حالیہ واقعات میں اجنبی قوتوں کا ہاتھ واضح طور پر دکھایا گیا؛ اجنبی چاہتے ہیں کہ عراق کے سیاسی دھڑوں میں اختلاف پیدا کریں اور اس کے بعد معاشرے کو فسادات میں مبتلا کردیں لیکن عراقی عوام حسب سابق اپنے مسائل خود حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ہمیں بیرونی مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ قطر کی مانند چھوٹی ریاستیں امریکہ اور صہیونیوں کے سائے میں کھڑی ہیں اور خلیج فارس کی ریاستوں سمیت عراق میں بھی فتنہ پردازی کررہے ہیں اور ممالک کے اندرونی مسائل میں مداخلت کررہے ہیں۔ عراقی عالم دین نے القرضاوی کو فتنہ انگیزی ترک کرنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا: شیخ قرضاوی اور ان جیسے بیرونی مولوی جو عراق میں شیعہ سنی فتنہ کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں انھیں دوسرے ممالک کے معاملات میں مداخلت سے اجتناب کرنا چاہئے اور ایسے امور میں ہاتھ نہیں ڈالنا چاہئے جن کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یاد رہے یوسف القرضاوی نے قذافی کے خلاف قتل کا فتوی دیا جس کے جواب میں قذافی کے خاندان نے بھی ان کے قتل کا فتوی دیکر دھمکی دی ہے کہ قرضاوی کو دیکھتے ہی گولی ما
27 دسمبر 2011 - 20:30
News ID: 286885
یوسف القرضاوی ایک چھوٹی ریاست کو امپائر بنانے میں حکمران خاندان کے ساتھ تعاون کررہے ہیں، فتوے دے رہے ہیں نیا اسلام متعارف کرا رہے ہیں وہابیت کی مخالفت کرتے ہیں اور پھر اس کی تأئید کرتے ہیں، امیر آل سعود کی سرنگونی کے نعرے لگاتا ہے تو یہ آل سعود کا دل جیتنے کے لئے اس کی باتوں کی اسلام کی مصلحت قرار دیتے ہیں غرضیکہ اس مفتی صاحب کا تعارف اہل قلم کی ذمہ داری ٹہری ہے اور ہم بھی ان کا تعارف ان کے اپنے کردار سے کراتے ہیں۔