اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی شہزادی اور سعودی بادشاہ کی بھتیجی بسمہ بنت سعود بن عبدالعزیز نے فیس بک ميں اپنے ذاتی پیج پر اپنے ہموطنوں کو دعوت دی ہے کہ اپنے ملک کو بچانے کے لئے اٹھیں جو کفر، انتہا پسندی، جہل اور نادانی کے بھنور میں ڈوبنے جارہا ہے۔اس سعودی شہزادی نے لکھا ہے: میرے دونوں ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور میں کچھ بھی کرنے کی قوت نہیں رکھتی چنانچہ میں اپنے عوام کے لئے صرف دعا کرسکتی ہوں۔انھوں لکھا: میں مختلف نیوز چینلز اور علمائے دین کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہوں تاہم میں ایک سیاسی اور مذہبی سامان تجارت نہیں ہوں بلکہ میں سعودی عرب کے بانی کی ایک بیٹی ہوں اور میرا مقصد اپنے معاشرے، اپنے ملک اور اپنے دین کا تحفظ ہے۔انھوں نے لکھا: میرے ہموطنو! عرب بھائیو اور بھائیو اور مسلمانان عالم! میں زور دے کر کہنا چاہتی ہوں کہ اسلام کسی طور بھی مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلاف نہیں چاہتا، اسلام مسلمانوں کے درمیان مذہبی اور فرقہ وارانہ امتیاز کا حامی نہیں ہے اور اسلام کی جو تصویر آج دنیا والوں کو دکھائی جارہی ہے یہ اسلام کی تحریف شدہ تصویر ہے۔انھوں نے لکھا: میں اس بیان میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ: "جب ہمارے پاس محمدی (ص) ثقافت ہے جو مسامحت اور برداشت کا درس دیتا ہے اور امتیازی برتاؤ اور تفرقے کو منع فرماتا ہے ایسی صورت میں ہمارا ملک آزمائشوں اور بدبختیوں میں گھرا ہوا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔توجہ: عربستان سے مراد سرزمین مقدس یعنی حجاز، نیزنجد یمن کے مقبوضے جنوبی صوبوں اور ربع الخالی پر مشتمل ہے۔
........
/110
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے :
آل سعود کے خلاف عوامی تحریک؛ تازہ ترین واقعات؛ منطقۃالشرقیہ میں مظاہرے