26 دسمبر 2011 - 20:30

اسلام آباد… چیف جسٹس افتخارچودھری نے میمواسکینڈل کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ پاکستانی قوم ایک زندہ قوم ہے ، میمو میں لکھی گئی چیزوں کو برداشت نہیں کرتی، وفاق ، میموکو محض کاغذ کا ٹکڑا کہتاہے تو پھر وزیراعظم ہاوٴس میں اتنا اہم اجلاس کیوں ہوا،حقانی سے استفعی کیوں لیاگیا اور وزیراعظم نے تحقیقات کا حکم کیوں دیا؟

ابنا: چیف جسٹس کی سربراہی میں نورکنی لارجر بنچ نے میمواسکینڈل کیس کی سماعت کی، اٹارنی جنرل نے وفاق کی طرف سے جوابات پیش کرتے ہوئے کہاکہ میموایشو پر وزیراعظم ہاوٴس میں 22 نومبر کو اجلاس ہوا اسی میں حسین حقانی نے استفعی دے دیا، یہ اگلے روز منظور کرکے نوٹی فکیشن جاری کردیا گیا، حقانی نے اس سے پہلے بھی اپنے مستعفی ہونے کی تجویز دے دی تھی، اٹارنی جنرل نے کہاکہ وزیراعظم نے 22 نومبر کے اجلاس میں میمو کی تحقیقات کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ جب وفاق کاکہناہے کہ میمو محض کاغذ کا ٹکڑا ہے، پھر اس ٹکڑے پر صدر، وزیراعظم ، آرمی چیف کا اجلاس ہوتا ہے، پھر وزیراعظم تحقیقات کا بھی کہتے ہیں، حقانی سے استعفیٰ آخر کس لئے لیا گیا، اس کیس میں الزام لگانے والا اور اس الزام میں آنے والا، دونوں تحقیقات چاہتے ہیں، منصور اعجاز آج بھی موقف پر قائم ہے، اس نے جواب میں بلیک بیری کی 31 تصاویر بھی دی ہیں، پوری قوم متحد ہے کہ ملکی سلامتی، آزادی اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔  ........

/169