24 دسمبر 2011 - 20:30

اسلام ٹائمز کیساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر کا کہنا تھا کہ نہتے شیعہ طلباء پر وحشیانہ تشدد اور درس گاہ کا ماحول خراب کر کے جمعیت کے اراکین نے اپنا چہرہ واضح کردیا۔

ابنا: شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر علامہ رمضان توقیر نے سانحہ جامعہ پنجاب کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے میں وہ جماعت اسلامی کے قائدین کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، اسلام ٹائمز کیساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نہتے شیعہ طلباء پر وحشیانہ تشدد اور درس گاہ کا ماحول خراب کر کے جمعیت کے اراکین نے اپنا چہرہ واضح کردیا، یونیورسٹی انتظامیہ کی باقاعدہ اجازت کے تحت 'یوم حسین ع' کا پروگرام ترتیب دیا گیا لیکن پروگرام میں خلل ڈالتے ہوئے اسے سبوتاژ کرنا انتہائی قابل مذمت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے قائدین کے سامنے احتجاج ریکارڈ کروائیں گے، اتحاد کی جو فضاء قائم ہوئی ہے ان حالات میں ایک سنجیدہ جماعت کے لوگ جب ایسی حرکتیں کرینگے تو یہ کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ رمضان توقیر نے کہا کہ اگر یہ کسی کالعدم تنظیم کی کارستانی ہے تو نام جمعیت کا استعمال کیا گیا ہے لہٰذا ذمہ داری بھی انہی پر عائد ہوتی ہے، اگر جمعیت کے طلباء اس واقعہ میں ملوث نہیں تو وہ واضح بیان دے کر اس واقعہ سے لاتعلقی کا اعلان کرتے ہوئے اس کی مذمت کریں، ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ واقعہ کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے اور یونیورسٹی انتظامیہ آئندہ ایسے واقعات سے بچنے کیلئے مربوط لائحہ عمل تشکیل دے۔

.....

/169