ابنا: علاء الدین بروجردی نے پارلیمنٹ نیوز سے گفتگو میں ایران کے خلاف خلیج فارس تعاون کونسل کے حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اچھی ہمسائيگي اور ہمسایوں کے ساتھ تعاون بڑھانے پر تاکید کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران علاقے میں دوطرفہ اور چند طرفہ تعاون پر زور دیتا ہے۔ بروجردی نے بحرین جیسے بعض عرب ملکوں کےحالات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بحرین کی پولیس اور فوج سعودی عرب کے فوجیوں اور پاکستان سے بلائے گئے کرائے کے غنڈوں کے ساتھ مل کر عوام کے ساتھ بہت برا سلوک کررہی ہے جس پر اسلامی جمہوریہ ایران کو اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحرین کا بحران طویل ہوتا جا رہا ہے جس پر ہمیں اور سارے اسلامی ملکوں کو تشویش ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ملت بحرین اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کرے گي تاکہ اس ملک میں جلد از جلد امن قائم ہو۔
ادھر قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ایک رکن مہدی مہدی زادہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں آئي اے ای اے کے معائنہ کاروں کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔ مہدی زادہ نے کہا کہ ایران کی ایٹمی سائٹوں کے معائنہ کے بعد اس بات کی کوئي ضمانت نہیں ہے کہ آئي اے ای اے کے معائنہ کار صحیح رپورٹ دیں گے لیکن اس کے باوجود بھی چونکہ ایران آئي اے ای اے کا رکن ہے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اور اپنی نیک نیتی کا ثبوت دینے کے لئے آئي اے ای اے کے معائنہ کاروں کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آئي اے ای اے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے نمائندے علی اصغر سلطانیہ نے بھی کہا ہے کہ اسالمی جمہوریہ ایران اپنے پرامن ایٹمی پروگرام کے تعلق سے ہرطرح کی تشویش کو برطرف کرنے کی آمادگي رکھتا ہے۔.............. /169