اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عراقی دارالحکومت بغداد کے چار مقامات پر کم از کم چار بڑے دھماکوں میں 65 بے گناہ عراقی شہید اور 196 افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں کئی افراد کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔عراقی وزارت صحت کے ترجمان زیاد طارق نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کو ابتدائی طبی امداد دینے کے بعد فارغ کردیا گیا اور کئی زخمی اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ سب سے خوفناک دھماکہ بغداد کے مرکز میں واقع الکرادہ کے علاقے میں ہوا جس میں موقع پر ہی 13 افراد شہید اور 36 زخمی ہوگئے۔ اس علاقے میں ایک خودکش دہشت گرد نے بارود سے بھری ہوئی گاڑی کو ایک سرکاری عمارت سے ٹکرایا۔ امریکی کمانڈروں نے عراق سے انخلاء کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں کہا تھا کہ امریکہ کی افواج کے انخلاء کے ساتھ عراق میں دہشت گردانہ کاروائیاں ہوسکتی ہیں اور اُس وقت اس کی بات ایک پیشینگوئی سمجھی گئی لیکن آج کے متعدد دھماکوں سے ثابت ہوا کہ وہ درحقیقت آنے والے واقعات کی خبر دے رہا تھا یا یوں کہئے کہ امریکیوں نے اپنے انخلاء کے بعد بھی عراق کے استحکام کو مخدوش کرنے کے لئے منصوبہ بندی کی تھی۔امریکیوں کے انخلاء کی آخری تقریبات کے بعد سابق بعثی اور موجودہ دور میں العراقیہ اتحاد کے سربراہ ایادالعلاوی نے کہا تھا کہ "امریکہ اپنا مشن پورا کئے بغیر عراق سے جارہا ہے"۔گذشتہ ہفتے عراق سے امریکیوں کے انخلاء کے بعد یہ پہلی دہشت گردانہ کاروائیاں تھیں جو بغداد میں انجام پائی ہیں اور اس کے علاوہ عراق کے مختلف علاقوں میں بھی دہشت گردانہ کاروائیاں ہوئی ہیں جن میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ عراق میں بعض مبصرین نے ان دھماکوں کو دہشت گرد نائب صدر کے خلاف عدالتی کاروائی کا رد عمل قرار دیا ہے جو فرار ہوکر کردستان میں پناہ لے چکا ہے۔ بعض ذرائع نے بم دھماکوں کی تعداد بارہ بتائی ہے۔ دیوان وقف اہل سنت کے نائب سربراہ کا موقفابھی تک کسی نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اہل سنت کے اوقاف کے نائب سربراہ نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اور شیعیان عراق کے قتل عام کو غیر انسانی اور غیر اسلامی عمل قرار دیا جس کا مقصد عراقی عوام میں تفرقہ ڈالنا ہے۔میجر جنرل قاسم عطاء کا بیانادھر بغداد میں فوج کے آپریشنز کمانڈر میجرجنرل قاسم عطاء نے ذرائع کو بتایا ہے کہ آج صبح بغداد کے اکثر شیعہ علاقوں میں آٹھ کار بم دھماکے ہوئے جن میں درجنوں افراد شہید ہوئے؛ دہشت گردوں نے آج بغداد میں جن علاقوں کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا ان میں "العلاوی" ، "الکرادە" ، " وسط الشرق" ، "العزمیہ" ، "الشعب" ، "الشعلہ" ، "العامل" ، "باب المعظم" ، "الامین " ، "الوزیریہ" شامل ہیں؛ انھوں نے 9 علاقوں میں نصب شدہ بموں اور کار بموں کے دھماکے کئے۔انھوں نے کہا: دہشت گردوں کی گرفتاری کے لئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور ہوٹل فسلطین سمیت متعدد علاقوں میں کرفیو لگایا گیا ہے۔
رائٹرز کا شرارت آمیز اور غیر پیشہ ورانہ موقفرائٹرز خبررساں ایجنسی نے تشہیری شرارت اور غیرپیشہ ورانہ، زرد صحافت کا ثبوت دیتے ہوئے امریکہ اور تکفیریوں کی طرف سے ماضی کی وحشیانہ کاروائیوں کو نظر انداز کیا ہے اور نائب صدر طارق الہاشمی کی طرف سے دہشت گردوں کی سرپرستی طشت از بام ہونے اور اس کے خلاف عدالتی کاروائی کو شیعہ سنی جھگڑا قرار دیتے ہوئے لکھا: آج کے بیشتر دھماکے بغداد کے شیعہ اکثریتی علاقوں میں ہوئے ہیں جو نوری المالکی اور سنی دھڑوں کے درمیان رونماہونے والے اختلافات کے بعد کئے گئے ہیں۔رائٹرز نے نہایت بےشرمی کے ساتھ شیعہ اور سنی مسلمانوں کو لڑانے کی اعلانیہ کوشش کی ہے۔
بغداد میں دہشت گردانہ کاروائیوں کے اہداف و مقاصدایک عراقی تجزیہ نگار نے بغداد میں آج کے دھماکوں کو بعض حکام کی طرف سے ان کی رائے قوم پر مسلط کرنے کی کوشش قرارد نی ہے۔محمود الہاشمی نے کہا: دہشت گردی کا سہارا لینا سیاسی عمل میں ہمارے بعض رفقاء کار کی روش ہے جو اس روش سے اپنی بات حکومت اور قوم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں چنانچہ قوم و ملت کو اس حقیقت کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ انھوں نے کہا: حکومت کو طارق الہاشمی کے دہشت گرد ٹولے کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرنا چاہئے جس نے سیکورٹی نظام میں اثر و رسوخ بڑھا کر ملت عراق کے خلاف درجنوں دہشت گردانہ حملے کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر آج کے حملے گرفتار ہونے والے دہشت گردوں کے حامیوں کی طرف سے ہوئے ہوں تو انہیں جان لینا چاہئے کہ ملت عراق ان کو دندان شکن جواب دے گی۔
عراقی پارلیمان بغداد کے دھماکوں کا جائزہ لے گیعراقی پارلیمان نے بغداد کے حملوں پر بحث و مباحثہ کرنے کے لئے کل جمعہ کو ہنگامی اجلاس بلایا ہے۔ ان حملوں میں ساٹھ سے زائد افراد شہید اور دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ عراقی پارلیمان کے سربراہ اسامہ النجیفی نے بغداد میں دہشت گردانہ کاروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عراق کے قومی یکجہتی کو تباہ کرنا اور ملک کی موجودہ صورت حال سے ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔
عراق: دہشت گردانہ کاروائیوں کے سرپرست نائب صدر اور نائب وزير اعظم!نائب وزيراعظم صالح المطلک جو اپنے اور اپنے رفیق کار نائب صدر طارق الہاشمی کی طرف سے عراق میں دہشت گردی کی طویل المدت سرپرستی کے طشت ازبام ہونے کے بعد اردن فرار ہوگیا ہے، نے کچھ دن قبل امریکی جرنیل ڈیویڈ پیٹریاس کے ساتھ ملاقات میں کہا تھا کہ اگر ان اور ان کے دوستوں کے خلاف الزام تراشی بند نہ ہوئی تو عراق کو برے دن دیکھنے پڑیں گے اور ملک کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ المطلک بھاگ گیا اور عراقی عدلیہ نے نائب صدر طارق الہاشمی اور اس کے محافظوں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے لیکن اس کے محافظین تو گرفتار ہوئے جبکہ طارق الہاشمی بھی کردستان کے خودمختار صوبے میں فرار ہوکر چلا گیا ہے۔ صالح المطلک نے دوروز قبل امریکی جرنیل کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عراق میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کا دور لوٹ کے آسکتا ہے۔ادھر طارق الہاشمی پر ایک نیا الزام بھی سامنے آیا ہے اور عراقی جماعت حزب الامہ کے سربراہ اور سابق عراقی رکن پارلیمان نے عدلیہ سے رجوع کرکے اپنے بچوں کے قتل کے حوالے سے طارق الہاشمی کو عدلیہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ الہاشمی نے ان کے بچوں کے قاتل کو پناہ دی تھی۔ انھوں نے کہا: میرے بچوں کو 2005 میں طارق الہاشمی نے قتل کروایا تھا اور پھر ان کے قتل کو چھپانے کی کوشش کی تھی اور اس حوالے سے عدلیہ کو بھی گمراہ کردیا تھا اور تحقیقات کا رخ صحیح سمت میں آگے نہیں بڑھنے دیا تھا۔ مثال الآلوسی نے کہ ان کے پاس ناقابل انکار ثبوت موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ طارق الہاشمی ان کے بیٹوں کا قاتل ہے۔ انھوں نے الہاشمی پر کردستان میں مقدمہ چلانے کی تجویز مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر الہاشمی ڈرتا ہے تو میں اس کو بغداد میں جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دینے کے لئے تیار ہوں۔
عراقی وزیراعظم: بغداد حملوں کے پس پردہ عناصر کیفر کردار تک پہنچائے جائیں گےعراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے اپنے بیان میں بغداد کے دھماکے اندرونی سیاسی صورت حال کا نتیجہ قرار دیئے اور کہا: ان جرائم کی ٹائمنگ اور دھماکوں کے مقامات ایک بار پھر ان جرائم میں ملوث عناصر کو افشاء کردیں گے۔ انھوں نے بغداد میں ہونے والے دھماکوں کی مذمت کی اور ان دھماکوں میں ملوث افراد کو تیز رفتاری سے گرفتار کرکے انہیں قرار واقعی سزا دینے پر زور دیا۔المالکی نے کہا: جن افراد نے دھماکے کئے ہیں اور جو لوگ پس پردہ ان کی سرپرستی کررہے ہیں ان سب کو جان لینا چاہئے کہ وہ کبھی بھی عراق میں سیاسی عمل کو نہيں روک سکیں گے اور وہ بہت جلد اپنے شرمناک فعل کی سزا پائیں گے۔ عراقی وزیر اعظم نے عراق کے شیعہ اور سنی علماء سے اپیل کی کہ ان مسائل کے سامنے اپنے آپ کو جوابدہ سمجھے اور لوگوں کو آگہی دے کر ملک کو اس فتنے سے نجات دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110