ابنا: اقوام متحدہ کی سیکرٹری جنرل نے تقریبا ایک مہینہ قبل عراق کی سرزمین سے منافقین کے دہشتگرد گروہ ایم کے او کے نکالے جانے میں چھ ماہ کے التواء کی تجویز عراقی حکومت کو پیش کی تھی۔
عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے اس تجویز کو مشروط طور پر قبول کر لیا ہے۔ نوری مالکی نے اقوام متحدہ کی تجویز اس شرط پر قبول کی ہے کہ اقوام متحدہ اس بات کی ضمانت فراہم کرے کہ وہ ان دہشتگرد گرد منافقین میں سے نصف کو مقررہ مدت کے اندر اندر عراق سے نکال دے گی۔ بظاہر ایسا لگتا ہےکہ اقوام متحدہ نے نوری مالکی کی یہ شرط مان لی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اس چھ ماہ کی مدت کے دوران منافقین کے دہشتگرد گروہ کے اصل گڑھ اشرف چھاؤنی کو بند کر دیا جاۓ گا اور منافقین کو کسی دوسری جگہ منتقل کردیا جاۓ گا تاکہ وہ عراق سے نکلنے کے لۓ آمادہ ہوجائيں۔
بغداد ایئر پورٹ کے قریب ایک جگہ ہے جسے امریکی اپنے فوجی اڈے کے طور پر استعمال کرتے تھے اس جگہ کو منافقین کی منتقلی کے لۓ مدنظر رکھا گیا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے کل بغداد میں ایک پریس کانفرنس میں اس بات پر تاکید کی تھی کہ بغداد اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے مطابق رواں سال کے اختتام کے قبل چار سو سے آٹھ سو تک منافقین عراق کی سرزمین سے نکل جائيں گے۔ منافقین کے دہشتگرد گروہ نے اقوام متحدہ کی تجویز کے سلسلے میں جو موقف اختیار کیا ہے وہ توجہ طلب ہے۔
اس دہشتگرد گروہ نے اقوام متحدہ کی تجویز کی مخالفت کرنے کے ساتھ اشرف چھاؤنی کے ارد گرد سرنگيں کھود کر ان میں آگ جلا دی ہے اور جنگ کا نقارہ بجا کر پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جیسے کسی ملک نے ان کے خلاف اعلان جنگ کردیا ہو۔
عراقی وزیر اعظم نوری مالکی کا کہنا ہے کہ منافقین کا گروہ اشرف چھاؤنی کو عراقی سرزمین کا حصہ نہیں بلکہ اسے اپنا ملک سمجھتا ہے حالانکہ عراق میں ان کی موجودگی ہمارے قومی اقتدار اعلی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اگرچہ موجودہ حالات میں عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے منافقین کے لۓ نئی جگہ تلاش کرنے کے لۓ عراق میں ان کو مزید چھ ماہ تک رہنے کی مہلت دیۓ جانے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے لیکن اس مسئلے یعنی عراق کی سرزمین سے اس دہشتگرد گروہ کے عناصر کے نکالے جانے کی ضرورت کے سلسلے میں کوئي تبدیلی نہیں آئي ہے اور عراقی وزیر اعظم نے بھی صراحت کے ساتھ اس کا اعلان کردیا ہے ۔
اہم بات یہ ہے کہ جو ممالک عراقی حکومت کو یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ انسان دوستی کی بنیاد پر منافقین کو زیادہ مدت تک کے لۓ اپنے ملک میں رہنےکی اجازت دے وہ خود اس دہشتگرد گروہ کے عناصر کی میزبانی کرنےکے لۓ تیار نہیں ہیں۔
امریکہ کی آواز میں آواز ملانے والے یورپی ممالک بغداد حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ منافقین کو نکالنے سے صرف نظر کرے اور اس سلسلے میں انہوں نے اقوام متحدہ کی مدد بھی حاصل کرنےکی کوشش کی لیکن وہ خود منافقین کے گروہ کو ایک دہشتگرد گروہ جانتے ہیں۔
اشرف چھاؤنی میں منافقین کے دہشتگرد گروہ کو چھبیس سال کا عرصہ ہورہا ہے اور اس مدت میں اس گروہ نے عراقی عوام کے خلاف کسی بھی ظلم سے دریغ نہیں کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عراقی عوام اور حکومت کے نزدیک عراق کی سرزمین سے منافقین کے دہشتگرد گروہ کا نکالا جانا نہ صرف ضروری ہے بلکہ اس کے بارے میں کسی طرح کا سمجھوتہ بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نوری مالکی نے منافقین سے متعلق اقوام متحدہ کی تجویز سے اتفاق کرنے کے باوجود اشرف چھاؤنی کو مکمل طور پر خالی کۓ جانے اور چھ ماہ کی مدت گزر جانے کے بعد اس دہشتگرد گروہ کے عناصر کے عراق سے نکالے جانے پر تاکید کی ہے۔
........
/169